زندگی اے زندگی

درد کی لہروں میں ٹھہری ایک کشتی زندگی

کج ادائی، بے وفائی، بے بسی اے زندگی

تیری محفل میں کئی چہرے بدل کر آئے ہم

ہم سے پوشیدہ رہی تیری خوشی اے زندگی

زخم کھا کر بھی ترے لب پر تبسم ہی رہا

کتنی ظالم ہے تری یہ دلکشی اے زندگی

دو قدم چلے تو پاؤں تھک گئے ہیں پیاس سے

دشتِ حسرت میں عجب تشنہ لبی اے زندگی

تجھ کو پانے کی تمنا میں گنوایا خود کو ہی

ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں خودکشی اے زندگی

جس کے ماتھے پر سحر کا نور روشن ہو سکا

مل نہ پائی اس کو ایسی تیرگی اے زندگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *