السلام علیکم معزز قارئین!
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر نئے انٹرویو کے ساتھ میزبان رشنا اختر حاضر ہے ۔ آج ہماری مہمان شخصیت ہیں نزہت جبیں ضیاء صاحبہ جوکہ لکھاریہ ہیں اور ان کا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے ہے تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے ان سے مزید گفتگو کرتے ہیں ۔
رشنا اختر : اپنے ادبی پس منظر کے بارے میں بتائیے ۔
نزہت جبیں ضیاء: میرا ادبی گھرانے سے تعلق ہے پالنے سے ہی گھر میں بابا،امّی کو تاریخی ناولز پڑھتے اور دو بڑی بہنوں نگہت غفار اور عفّت چوہدری(مرحومہ)کو افسانے لکھتے ہوۓ دیکھا یہی وجہ تھی کہ بچپن سے ہی ادب سے لگاؤ تھا۔
رشنا اختر : باقاعدہ لکھنے کا آغاز کب ہوا ؟
نزہت جبیں ضیاء: ویسے تو الحمد اسکول کے زمانے سے ہی مضمون نگاری وغیرہ میں حِصہ لیتی رہی،الٹے سیدھے شعر بھی کہتی رہی لیکن پہلا باقاعدہ فی البدیع شعر بارہ سال کی عُمر میں اور پہلا ڈائجسٹ کے لۓ افسانہ تیرہ سال کی عُمر میں لکھا تھا اور الحمدللہ وہ پبلش بھی ہوگیا تھا۔
رشنا اختر : ایک اچھی کہانی لکھنے کے لیے کن اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے ؟
نزہت جبیں ضیاء : ہر لکھاری کا لکھنے کے حوالے سے اپنی سوچ اور انداز الگ ہوتا ہے،جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں خود کو متوسط طبقے کی عوامی رائٹر مانتی ہوں۔۔الحمدللہ لوگ میری تحاریر پسند کرتے ہیں تو،میرے خیال میں ایسے موضوع کا انتخاب کرنا چاہیئے جس میں معاشرتی عام مسائل،آسان اور سادہ الفاظ کا استمعال اور کوئی مُثبت پیغام پوشیدہ ہو،میرے خیال میں ڈائجسٹ ہماری کم پڑھی لکھی بہنیں بھی پڑھتی ہیں تو میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں ایسے الفاظ استعمال کروں کہ وہ بہنیں بھی با آسانی سمجھ سکیں۔
رشنا اختر : تحریر چرانے والے بہت ہوگئے ہیں سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ چلتا رہتا ہے ایک منجھے ہوۓ لکھاری کی پہچان کیا ہے ؟
نزہت جبیں ضیاء: بے شک کُچھ لوگ بڑے دھڑلے سے کسی لی بھی تحریر کو اپنے نام سے پیسٹ کردیتے ہیں،جو انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔میں ابھی “منجھے ہوۓ” کے درجےتک نہیں پہنچی لیکن جن منجھے ہوۓ لکھاریوں کو پڑھا ہے اُن کی تحاریر میں ربط،بہترین موضوع کا انتخاب ،تحریر پر مکمل گرفت نظر آئ جو منجھے ہوۓ لکھاریوں کا خاصہ ہے۔ہر لکھنے والے کو ایسی چھوٹی چھوٹی اور بنیادی باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔
رشنا اختر : آپ نے اس دور میں لکھا جب ڈائجسٹ کا شدت سے انتظار کیا جاتا تھا کہ پسندیدہ لکھاریہ کی کہانی چھپی ہوگی اس دور میں اور آج کے دور میں کیا تبدیلی دیکھتی ہیں ؟
نزہت جبیں ضیاء : بہت ذیادہ فرق ہے ،سب سے پہلے تو ہمیں بھی مہینہ گزرنے کا شدت سے انتظار رہتا تھا،کوئی فیس بک،موبائل یا ایسا ذریعہ نہ تھا جس سے فوری فوری ہر چیر کا علم ہوجاتا،ہر ادارے والوں کے پاس پی ٹی سی ایل ہوتا ،تحریر بھیج کر کافی انتظار کے بعد پھر کال پر تحریر کے حوالے سے بات ہوتی،بار بار کال کرنے پر کہیں جاکے بات ہوتی تھی۔۔اس وقت بے شمار بک اسٹالز ہوتے جہاں سارے ڈائجسٹس مل جایا کرتے تھے ،آج کل گنتی کی دکانیں ہیں وہاں پر بھی دو تین ڈائجسٹس ہی ملتے ہیں۔۔آج کل انٹر نیٹ نے ڈائجسٹس کی سیل بھی کم کردی ہے۔۔ایسا نہیں ہے کہ لوگوں نے ڈائجسٹس پڑھنا چھوڑ دیا ہے،بہت سے لوگ آج بھی پڑھتے ہیں لیکن ایک بڑی تبدیلی تو بہرحال آئی ہے کہ لوگوں کو یو ٹیوب اور گوگل پر فری میں پڑھنے جاتا ہے جس سے ڈائجسٹس کی فروحت پر بھی فرق پڑا ہے۔
رشنا اختر : لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
نزہت جبیں ضیاء : لوگ تو ہم خود ہیں۔ یہ معاشرہ ہم لوگوں سے ہی بنا ہے،جس طرح ایک گھر میں،ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے چار بچوں میں مطابقت نہیں ہوتی،کوئی گورا،کوئی کالا،کوئی دھیمے مزاج کا تو کوئی سخت مزاج،ہوتا ہے،کوئی معصوم اور سیدھا تو کوئی ڈھیٹ اور ضِدّی ہوتا ہے،تو ایک فیملی میں،ایک گھر کر لوگوں میں اتنا تضاد ہوسکتا ہے تو،پھر معاشرہ تو ان گنت اور لاتعداد بھانت بھانت کے افراد سے بھرا پڑا ہے،جن کے مزاج،مسلک،قومیت اور نسل بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔۔میرے ذاتی خیال میں آج کے لوگوں میں قوتِ برداشت اور صبر کا فقدان ہے،آپ سڑک پر دیکھ لیں تو ہر کسی کو آگے بھاگنے کی جلدی ہے،پھر چاہے وہ موٹر سائیکل والا ہو یا ٹرک ڈرائیور ۔ ہر معاملے میں اور ہر جگہ لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے ہوۓ ہیں۔معاشرہ برا نہیں ہوتا،معاشرے میں رہنے والوں کے رویئے اور طور طریقے معاشرے میں اتار چڑھاؤ لاتے ہیں۔
رشنا اختر : مشہور و معروف ڈائجسٹوں پر سینئرز لکھاریوں کا قبضہ ہے صرف انہی مشہور لکھاریوں کی کہانیاں ہی شائع ہوتی ہیں نئے لکھنے والوں کو بہت ہی کم موقع ملتا ہے ایسا کیوں ؟
نزہت جبیں ضیاء : میں آپ کی بات سے متفق نہیں ہوں ۔ بے شک معروف اور سینئر رائٹرز کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے کیونکہ لوگ ان کو پڑھناچاہتے ہیں۔۔بیشتر سینئر رائٹرز الیکٹرانک میڈیا پر چلی گئیں ہیں۔ان سب کے باوجود نئی لکھاری بہنوں کو بھی برابر پذیرائی مل رہی ہے مشہور ادارے نئی رائٹرز کو بھی موقع دے رہے ہیں ۔گزشتہ چند سالوں میں بہت ساری نئی رائٹرز آئی ہیں اور بہت جلدی مقام بھی بنالیا الحمدللہ۔۔
رشنا اختر: لکھاری کے پاس میڈلز ، سرٹیفیکیٹس اور شیلڈز کا انبار موجود ہے خدمات کو سراہنا اپنی جگہ لیکن آرگنائزر یا کسی بھی ادبی تنظیم کو کیش پرائز دیتے ہوۓ تکلیف کیوں ہوتی ہے ؟ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گی ۔
نزہت جبیں ضیاء : شیلڈ،سرٹیفیکیٹس،میڈلز یہ بھی لکھاریوں کے اعزاز کی بات ہے کہ ان کی کاوشوں کو سراہا جاتا ہے_سب کے بارے میں نہیں لیکن میں کُچھ ایسے اداروں کو دیکھا ہے کہ مجھے لگتا ہے وہ صرف اپنی شہرت اور ہائی لائٹ ہونے کے لیے ایسے ایسے لوگوں کو شیلڈ اور سرٹیفیکیٹس دے دیتے ہیں کہ جن کی ادبی خدمات جن میں شاعری اور نثر شامل ہوتےہیں وہ تخلیقات دیکھ کر بندہ صرف ہنس ہی سکتا ہے،ایسے لوگ ادب کے معیار کو گرادیتے ہیں۔۔جہاں تک پیسوں کا سوال ہے تو کہیں کہیں کیش پرائز بھی ملتے ہیں۔
رشنا اختر : اب حسد کی شکل بدل گئی ہے پہلے لوگ پیسہ گھر بار دیکھ کر حسد کرتے تھے اب خدا داد صلاحیتوں پر اپنا جی ہلکان کرتے ہیں ایسے مریضوں کے لیے کوئی نسخہ ؟
نزہت جبیں ضیاء : یہ مرض لاعلاج ہےاور انتہائی مکروہ عمل ہے کیونکہ حسد ایسی آگ ہے جس میں جلنے والا انسان کبھی بھی مطمئن نہیں رہتا،اس کی نظر دوسروں کی کامیابی پر ذیادہ اور کوشش پر کم ہوتی ہے،میں نے بہت سے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو بہ ظاہر آپ کے سب سے بڑے ہمدرد اور دوست نظر آتے ہیں لیکن اندر ہی اندر وہ آپ کی جڑیں کاٹ رہے ہوتے ہیں۔آپ کے سامنے آپ کو سراہتے ہیں لیکن پیچھے آپ کی صلاحیتوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ جہاں وہ دوغلے بھی بن جاتے ہیں کیونکہ حسد کے ساتھ منافقت بھی شامل ہو جاتی ہے اور ان کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔۔بس ہم ایسے لوگوں کے لیے دُعا ہی کرسکتے ہیں۔
رشنا اختر : عصر حاضر میں والدین نے مہنگا موبائل فون خرید کے تربیت کی ذمہ داری بھی سوشل میڈیا کو دے دی ہے آپ اس بارے میں کیا کہیں گی .
نزہت جبیں ضیاء : بات تو کُچھ نا مناسب سی ہے لیکن سچ تو یہی ہے کہ آج کے بیشتر والدین اپنے آپ کو ریلیکس رکھنے کے لیے اور اپنی مصروفیات میں خلل نہ پڑے اس لیے چھوٹے چھوٹے بچّوں کے ہاتھوں میں موبائل تھما دیتے ہیں،بچہ آڑھا ترچھا پڑا کسی نشے کی طرح موبائل میں اتنا مگن ہوجاتا ہے کہ اسے آس پاس کی خبر نہیں ہوتی،رفتہ رفتہ بچّوں کی آنکھوں پر اثر پڑنے لگتا ہے،نظر خراب ہونے کی ساتھ ساتھ بھینگا پن بھی آجاتا ہے،وہ کیا دیکھ رہے ہیں؟کیا پک کر رہے ہیں،ان کے چھوٹے چھوٹے ذہنوں پر کیا اثرات ہورہے پیں؟ اپنے مذہب اور کلچر سے ہٹ کر باتیں کرنے لگے ہیں،بچّوں کی زبان پر الٹے سیدھے الفاظ عام ہوگئے ہیں ۔ والدین اس بات کو خاطر میں ہی نہیں لاتے،یہی حال نو عمر اور نوجوانوں کا ہے جو ٹک ٹاکرز کو آئیڈیل سمجھنے لگے ہیں،ان جیسی حرکتیں کرنا اور ان جیسے کپڑے پہننّا پسند کرتے ہیں۔
جو تربیت سمجھدار اور پڑھے لکھے ماں باپ کرسکتے ہیں۔۔وہ سوشل میڈیا بالکل نہیں کرسکتا ۔ چھوٹی عمروں میں مہنگے ترین موبائل،قیمتی گاڑیاں اور بے تعُشات معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں۔اولاد کی تربیت کے حوالے سے سالہاسال سے سنی جانے والی بات
“کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے” یہ واقعی بہترین
مقولہ تھا اپنے بچّوں کی تربیت کے حوالے سے والدین کو خاص طور پر اس بارے میں سوچنا چاہیئے۔
رشنا اختر : آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
نزہت جبیں ضیاء : زندگی ایک امتحان ہے۔ہم ساری زندگی امتحان ہال میں بیٹھ کر اچھے اور بُرے، پیپر دیتے ہیں،جس طرح کوئی مضمون ہمیں پسند ہوتا ہے،کوئی ناپسند،کسی میں ہم سو فیصد ہوتے ہیں تو کسی میں ناکام، اور ناپسند مضامین ہم پڑھنا نہیں چاہتے لیکن ہمیں زبرستی اور مزاج کے خلاف پڑھنا پڑتا ہے،بالکل اسی طرح زندگی میں بھی بہت سے مقامات پر اپنی پسند اور مزاج کے خلاف بہت کُچھ کرنا پڑتا ہے۔۔اور ساری زندگی ہار جیت کے اس امتحان کا رزلٹ ہمیں آخرت میں ملے گا۔
رشنا اختر : نو عمر لڑکیوں میں نصابی سرگرمیاں کم جبکہ سوشل میڈیا کا جنون زیادہ ہے کیا راتوں رات مشہور ہونے کا شوق انہیں تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے یا یہ تو عصر حاضر کی ضرورت ہے ؟ اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟
رشنا اختر : میں یہ نہیں کہتی کہ آج کی تمام بچّیاں ایسی پیں۔۔ہاں بیشتر نو عمر بچّیاں اس لت کا شکار ہیں،اس میں سو فیصد ان کا قصور نہیں ہے بلکہ ان کی مائیں بھی برابر کی حصے دار ہیں۔۔ہر ماں اپنی بیٹی کے لۓ رول ماڈل ہوتی ہے۔۔ بڑی ہوتی ہوئی بچّیوں کی تربیت،اصلاح اور اچھے برے کی تمیز سکھانے کی مکمل ذمے داری ماں پر ہوتی ہے ۔
میں مانتی ہوں کہ موبائل آج کے دور کی اہم ترین ضرورت ہے،ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں اگر ہمارا بچّے خواہ بیٹی ہو یا بیٹا اسکول،کالج کے لۓ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو خیریت سے واپس آنے تک ہم ماؤں کو سکون نہیں ملتا،بچّوں کا گھر والوں سے کانٹیکٹ میں رہنا ضروری ہے،اس کے علاوہ بھی اگر اس موبائل کا مُثبت استعمال کیا جاۓ تو اس چھوٹی سی چیز میں ساری دنیا سمائی ہوئی ہے،میلوں دور سے لمحے بھر میں رابطہ،دنیا کے کسی خطے کسی جگہ اور کسی بھی حال میں ہم اپنوں کی سرگرمیوں سے ہر وقت واقف رہتے ،اس لحاظ سے موبائل وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔لیکن ساتھ میں یہ بھی کہوں گی کہ ایک اچھی اور کارآمد چیز کا تعمیری اور مُثبت استمعال کرنے کی بجاۓ منفی اور تخریبی استعمال ہو تو وہ وبال بن جاتا ہے۔
یہی کہوں گی کہ بے شک عہدِ حاضر کی بڑی ضرورت ہے،لیکن یہاں ماؤں کا فرض ہے کہ اپنی بچّیوں کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھیں۔
رشنا اختر : خواتین کا انڈیپینڈنٹ ہونا کیوں ضروری ہے ؟
نزہت جبیں ضیاء : میں نہیں سمجھتی کہ خواتین کا انڈپنڈنٹ ہونا لازمی یا ضروری ہے(یہ میری ذاتی راۓ ہے)ہاں البتہ خواتیں کو پر اعتماد،اپنے حق کے آواز بلند کرنے والی،پڑھی لکھی ضرور ہونا چاہیئے کیونکہ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں سب سے ذیادہ کردار خواتین کا ہی ہوتا ہے۔آج کی عورت الحمدللہ بہت مضبوط ہے اور ہر جگہ،ہر عُہدے پر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔۔جو کہ خوش آئیند ہے۔۔خدا نخواستہ کوئی برا وقت آۓ تو وہ اس قابل ہے کہ اپنے لۓ بہتر راستے کا انتخاب کرسکتی ہے،معاشرے میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔۔بہت سی خواتین اپنے بوڑھے والدین،اپنے اپاہج شوہروں کے ساتھ رہتے ہوۓ، بڑے حوصلے، اعتماد کے ساتھ ان کی کفالت کررہی ہیں،جہاں کسی کے کردار کی،اس کی انا کی بات آجاۓ تو پھر عورت کا اپنے لیے جو بہتر فیصلہ ہو وہ کرے چاہے اس وقت اسے انڈپنڈنٹ ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔
رشنا اختر : نو عمر نسل اپنی تہذیب و ثقافت سے غافل کیوں ؟ اس کا ذمہ دار کون ؟
نزہت جبیں ضیاء : میں سمجھتی ہوں اس میں بھی سوچل میڈیا کااہم کردار ہے،پہلے ہمارے بچّوں کے پاس پڑھائی اور ہمارے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ دوسری کوئی مصروفیت نہیں تھی گھروں کا ماحول آج سے بالکل مختلف تھا۔گھر کے بزرگ راتوں کو بچّوں کو سمیٹ کر اسلامی اور تاریخی کہانیاں سناتے تھے،_پہلے راتیں جلدی ہوجاتی تھہں ،اور صبح جلدی اٹھ جایا کرتے تھے۔۔آج کل گھر کے سب سے بڑے فرد سے لے کر سب سے چھوٹے فرد کے پاس موبائل ہوتا ہے۔۔سب اپنی اپنی جگہ مصروف ہوتے ہیں۔ آج کل ہماری نوجوان نسل ساری رات جاگ کر موبائل کا استعمال کرتی ہے۔۔ سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ نے ہم لوگوں کے رسم ورواج،طور طریقوں،ہماری روایات اور اقدار کو بالکل پسِ پُشت ڈال دیا ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ آج کل کے بڑے بھی اپنی روایات بھولتے جارہے ہیں۔ جب ہم خود کسی چیز پر عمل نہیں کریں گے تو ہمارے بچّے کیسے کریں گے؟ بس یہی ملی جلی وجوہات ہیں۔
رشنا اختر : انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی ؟
نزہت جبیں ضیاء: انٹر نیشنل یونین آف رائٹرز ایک بہترین تنظیم ہے جو ہر لحاظ سے اور ہر طریقے سے خواہ وہ کسی ضروتمند سفید پوش کی مدد ہو یا ممبران کے اندر چھپی ہوئی صلاحتیوں کو کبھی نثر تو کبھی نظم کی صورت میں منظرِ عام پر لانا ہو وہ عملی صورت میں حوصلہ افزائی کررہی ہے۔۔یہ وہ تنظیم ہے جس کے سرپرسِت اعٰلیٰ سمیت منجھی ہوئی ٹیم کی زیرِ نگرانی بہت احسن طریقے سے کام کررہے ہیں۔۔جس تیزی سے اس تنظیم میں پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ شامل ہورہے ہیں اس سےہی اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحمدللہ میں بھی اس تنظیم کا حصہ ہوں۔
رشنا اختر : قارئین اور لکھاریوں کے لیے کوئی پیغام ؟
نزہت جبیں ضیاء : اپنی زندگی میں “ان شاء اللہ” ” الحمدللہ” کو شامل کرلیں۔۔ میں یہی کہوں گی کہ کسی بھی کام کے لیے پوری ایمانداری،محنت اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں کبھی بھی کسی بھی کام کی وقتی ناکامی پر دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیئے،بلکہ اس ناکامی کو ایک چیلنج سمجھ کر ہمیشہ صرف ایک جملہ ذہن میں رکھنا چاہیئے” ان شاء اللہ میں یہ کام کر سکتا/کرسکتی ہوں” بس یہی اعتماد اور اللہ پر مکمل بھروسہ کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
رشنا اختر : آپ کا پسندیدہ کلام جو قارئین سے شئیر کر سکیں.
نزہت جبیں ضیاء:
اگر تم لوٹنا چاہو تو لوٹ آؤ میرے دل کے
کسی کونے میں، کھانچے میں محبت اب بھی باقی ہے
وہ تم دیکھ کر ،پیڑوں کے پیچھے میرا چھپ جانا
میرے اندر وہ تھوڑی سی شرارت اب بھی باقی ہے
میرے ہاتھوں کو تم نے تو،فقط ایک بار تھاما تھا
میری نازک ہتھیلی یلی میں ،حرارت اب بھی باقی ہے
غریبِ شہر ہوں پر،ہاتھ پھیلانا نہیں آتا
کہ اس دیدہء و دِل میں سخاوت اب بھی باقی ہے
کبھی بھی برف سے جذبے،میرے اندر نہیں اُترے
تُمہارے پیار کی دھیمی تمازت اب بھی باقی ہے
معزز قارئین امید ہے آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
