کھل کے مسکرانے دو

کھل کے مسکرانے دو

دیکھو، وہ منچلا سا نوجوان جو پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کی خوشی میں ڈھول کی تھاپ پر محوِ رقص ہے، اُسے جیت کا جشن منانے دو۔
وہ جھریوں سے اَٹا چہرہ جو ایک دم کھلکھلا کر ہنس دیا ہے، اُس پر “بُڈھی گھوڑی لال لگام” جیسے حبس زدہ محاورے یا “قبر میں ٹانگیں ہیں” جیسے طنزیہ جملوں کے نشتر مت چلاؤ۔
وہ تتلی سی شوخ بچی جو اپنی فراک کا گھیرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے گول گول گھومے جا رہی ہے، اُسے اپنے خود ساختہ اخلاقی دائروں میں قید مت کرو۔
دیکھو، وہ فوجی جوان جو عین پاکستانی ٹیم کی جیت کے وقت نعرۂ تکبیر بلند کر رہے ہیں، اُنہیں خود ساختہ “بے حرمتی” جیسے خون آشوب فتووں کا شکار مت بننے دو۔
وہ دو بچوں کی ماں جو کبھی “Yahoo”، کبھی “واہ واہ”، تو کبھی “Hurrah” کے اسٹیٹس پہ اسٹیٹس لگاتی چلی جا رہی ہے، تم اُسے “واہیات” کے القابات سے مت نوازو۔
دیکھو، وہ محوِ رقص جوان وہی ہے جو کل تک بے روزگاری جیسی عفریت سے حد درجہ اکتا کر خودکشی کے نت نئے طریقے سوچتا رہا تھا۔
وہ کھل کے مسکراتا جھریوں زدہ چہرہ اُس بوڑھے کا ہے جس نے اپنے بیٹے کا جنازہ تب پڑھا تھا جب اُس کا شہید بیٹا اپنے شباب کے عین جوبن پر تھا۔
وہ تتلی سی شوخ بچی وہی ہے جو پچھلے ایک ماہ سے سیل پر چلنے والی گلابی رنگ کی گڑیا، نظم گنگنانے والے بھالو، اور جھولا جھولتے کھلونا بندر کے لیے متواتر روتی چلی جا رہی تھی۔ سکول سے واپس آتے وقت ہر روز شیشے کی بڑی دکان میں سجے یہ کھلونے اُسے اپنی جانب کھینچتے چلے جاتے تھے، مگر ان مہنگے کھلونوں کو خریدنا مزدور باپ کی سکت سے باہر تھا۔
وہ دو بچوں کی ماں جو ایک بہن بھی ہے، اُس کا اکلوتا بھائی زندگی سے مایوس ہو کر 25 سال کی عمر میں خودکشی کر گیا تھا۔ اُس کا وہ مرحوم بھائی کرکٹ کا دیوانہ تھا اور پاکستان کی جیت پر ایسے ہی اسٹیٹس لگایا کرتا تھا۔ آج وہ غم زدہ بہن اپنے تخیل کے عروج پر جا کر اپنے بھائی کی موجودگی کو بھرپور محسوس کرنے کے لیے اسٹیٹس پہ اسٹیٹس لگاتی چلی جا رہی ہے۔
وہ فوجی جوان جو فرطِ جذبات میں آکر نعرۂ تکبیر بلند کیے کھڑے ہیں، اُنہوں نے کبھی اپنے جگری یاروں اور بھائیوں کو آج کے میچ کے شکست خوردہ ملک سے آنے والی گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوتے اور جان لٹاتے دیکھا ہے۔ اُن کے سینوں میں موجود تڑپ اگر “اللہ اکبر” کی صورت میں ماحول کو گرما رہی ہے تو تمہیں اعتراض کیوں ہے؟
دیکھو، یہ جو ہر آنکھ میں چمک ہے، ہر رخسار پر دمک ہے، ہر لب جو کھل اٹھا ہے — خدارا، اُسے کھلنے دو۔ اعصاب پر ہتھوڑے برساتی مہنگائی، مذہبی انتہا پسندی اور گوناگوں رنج و اَلم کے اس دور میں میری پریشان حال قوم کو مسکرانے کے مواقع کم کم ہی نصیب ہوتے ہیں۔
مسکرانے دو، کہ یہی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ، امن و امان کی یہ ساعتیں، شادمانی کے یہ پل — میری ننھی کلیوں کے ذہنوں کو تروتازہ کر دیں۔ یہ نونہال جو کچی عمر میں ہی اپنے بڑوں کی ہزارہا پریشانیوں کی پرچھائیوں کا بوجھ اپنے ذہنوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔۔۔ خدارا! اِنہیں مسکرانے دو۔
ہاں، کھل کے مسکرانے دو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *