فرض

رات کی تاریکی جب شہر کی گلیوں کو اپنے سیاہ پردے میں لپیٹ لیتی، ارسلان کی بائیک کا انجن شور مچاتا ہوافرض سڑکوں پر نکلتا۔ وہ ریسکیو 1122 میں بطور فرسٹ ایڈر کام کرتا تھا۔ زندگی اس کے لیے ایک مسلسل پکار تھی، کہیں خون میں لتھڑی سڑک، کہیں زخمی بچوں کی چیخیں، کہیں کچلے جسم۔ لیکن ارسلان کے لیے یہ سب عبادت تھا۔
جب وہ کسی کی جان بچاتا، اس رات وہ ماں کے لمس جیسی سکون بھری نیند سوتا۔ جیسے دل پر کوئی بوجھ نہ رہا ہو، جیسے کائنات نے اس کے کندھوں سے ساری تھکن اتار دی ہو۔ لیکن جب کوئی حادثہ ایسا ہوتا کہ وہ وقت پر نہ پہنچ پاتا، یا زخمی اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیتا، تو وہ رات اس کے لیے جہنم میں بدل جاتی۔ وہ چھت کو تکتا رہتا، کانوں میں اب بھی سائرن کی آواز گونجتی، آنکھوں کے سامنے خون، ٹوٹی ہڈیاں اور بے بسی رقص کرتی۔ کبھی اس کے ہاتھ کانپتے رہتے، کبھی دل میں دھڑکن کسی قیدی کی طرح قفس کو توڑنے پر بضد ہوتی۔ نیند، ایک بھٹکی ہوئی پرندے کی طرح، اس کے قریب آ کر بھی ڈر کے مارے اڑ جاتی۔
اس کے قریبی دوست اکثر کہتے:
“یار ارسلان! یہ کام بہت سخت ہے، لوگ بچتے بھی ہیں، مرتے بھی ہیں، تُو کیوں اتنا دل پہ لے لیتا ہے؟”
اور ارسلان مسکرا دیتا، جیسے دل کی گہرائیوں کو چھپا رہا ہو:
“دوست، زندگی سب کے لیے ایک جیسی قیمتی ہے۔ جب کوئی میرے ہاتھ سے پھسل جاتا ہے، لگتا ہے جیسے میں نے خدا کو ناراض کر دیا ہو۔”
اس رات بھی فون بجا۔ “حادثہ پیش آیا ہے، فلاں چوک پر، جلد پہنچو!”
ارسلان نے بغیر لمحہ ضائع کیے بائیک اسٹارٹ کی۔ شہر کی خالی سڑکیں چیختے پہیوں کے ساتھ کاٹتا ہوا وہ حادثے کی جگہ پہنچا۔
وہاں منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ ایک کار الٹ کر سڑک کنارے پڑی تھی۔ شیشے ٹوٹے ہوئے، سڑک پر خون بکھرا ہوا۔ ارسلان بھاگ کر آگے بڑھا۔ زمین پر دو نوجوان پڑے تھے۔ ایک کی سانس رک چکی تھی، دوسرا آخری ہچکیاں لے رہا تھا۔
ارسلان جھک کر مردہ نوجوان کے چہرے کو دیکھنے لگا اور جیسے زمین پاؤں کے نیچے سے کھسک گئی ہو۔ وہ اس کا اپنا بھائی تھا۔
“احمد!” اس کے منہ سے چیخ نکلی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے، آنکھوں سے آنسو پھوٹ پڑے۔ لمحہ بھر کے لیے سب کچھ دھندلا گیا۔ سائرن کی آواز کہیں غائب ہو گئی، آس پاس کھڑے لوگ جیسے مجسمے بن گئے۔ صرف بھائی کا بے جان چہرہ تھا، جس پر موت کا سکوت پھیلا ہوا تھا۔
ارسلان کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ دل چاہ رہا تھا کہ وہ سب چھوڑ کر بھائی کو سینے سے لگا لے، اس کے سرد جسم کو گرم آنسوؤں سے جگانے کی کوشش کرے۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا، چیخیں گلے میں پھنس گئیں۔
مگر اچانک ایک ہچکی کی آواز آئی۔ دوسرا نوجوان سانسیں کھینچ رہا تھا۔ ارسلان کی نظر پلٹی۔ اس کے پاس وقت تھا، لیکن چند لمحوں کا۔
یہ وہ لمحہ تھا جسے شاید تقدیر “آزمائش” کہتی ہے۔
یا تو وہ اپنے بھائی کے پاس بیٹھ کر دنیا اور فرض کو بھول جائے، یا پھر بھائی کی لاش چھوڑ کر اس انجانے انسان کو بچانے کی کوشش کرے، جس کا اس سے کوئی رشتہ نہ تھا، سوائے انسانیت کے۔
ارسلان کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے زمین پر گر پڑا، مٹی مٹھیوں میں بھر لی، سر آسمان کی طرف اٹھایا، جیسے خدا سے پوچھ رہا ہو: “یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسی آزمائش ہے؟”
لیکن پھر اس نے آنسو صاف کیے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر اس نے سامان نکالا۔ پٹی، آکسیجن، دوائیاں۔ وہ زخمی کے جسم پر جھک گیا۔
آنکھوں کے کونے اب بھی بھائی کی لاش پر ٹکے ہوئے تھے، لیکن ہاتھ زخمی کی نبض پر تھے۔
“ہمت کرو بھائی۔۔۔ سانس لو۔۔۔ میں ہوں یہاں”
یہ الفاظ وہ زخمی سے بول رہا تھا، مگر لگتا تھا جیسے اپنے آپ سے بھی کہہ رہا ہو۔
ارسلان کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے۔ دل اندر سے چیخ رہا تھا: “احمد معاف کر دینا، میں تجھے چھوڑ رہا ہوں، لیکن یہ میرا فرض ہے۔ یہ میرا خدا سے وعدہ ہے۔”
وہ زخمی کو فرسٹ ایڈ دیتا رہا، سانس بحال کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اور آخر کار وہ نوجوان بچ گیا۔
جب ایمبولینس آئی، زخمی کو لے جایا گیا، اور سڑک پر صرف ارسلان اور بھائی کی لاش رہ گئے۔ ارسلان بھائی کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر آنسو، خون اور پسینے کا امتزاج تھا۔
“احمد۔۔۔ دیکھ۔۔۔ میں نے اپنا فرض ادا کیا۔۔۔ لیکن میرا دل ٹوٹ گیا۔”
رات کی سیاہی میں اس کی چیخیں گھل گئیں۔ وہ سڑک کے بیچ بیٹھا تھا، بھائی کی لاش گود میں لیے۔ شہر کی بتیاں ٹمٹما رہی تھیں، جیسے وہ بھی اس دکھ میں شریک ہوں۔
اس کے کندھے بھاری تھے۔ جیسے اس پر دنیا کا سب سے بڑا صلیب رکھا گیا ہو, فرض کا صلیب، اور وہ جانتا تھا، یہ صلیب وہ ساری زندگی اٹھائے گا۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *