سندھ کے بند: بے رحم پانی اور عوام کی آنکھوں کے سامنے بڑھتا خطرہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

سندھ کے بند: بے رحم پانی اور عوام کی آنکھوں کے سامنے بڑھتا خطرہ

گڈو بیراج کے دروازے دانستہ طور پر بند رکھے گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے تین لاکھ کیوسک پانی روکا گیا۔ اب مزید دس لاکھ کیوسک پانی بدھ تک گڈو بیراج تک پہنچنے والا ہے، اور یوں کل تیرہ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سرخ جھنڈے لہرا دیے جائیں گے، ہنگامی سائرن بجیں گے اور عوام کو فوری طور پر گھروں سے نکلنے کا پیغام دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ خطرہ پہلے سے معلوم تھا تو بروقت اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟

بعض مقامات پر شاخیں بند کر کے عوام کو براہِ راست خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر ابھی نہ نکلے تو پانی بے رحمی سے ٹوٹ پڑے گا۔ مال مویشی، کھیت اور گھر سب اس کے نشانے پر ہوں گے۔ یہ منظر محض ایک قدرتی خطرہ نہیں بلکہ انتظامی سستی اور حکومتی بروقت کارروائی کی کمی کی واضح نشانی بھی ہے۔

دوسری طرف، حکومتی محکمے وزیرِاعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ دو ہفتوں میں 43 لاکھ مریضوں کا معائنہ کر لیا گیا ہے۔ گویا کاغذی اعداد و شمار سب کچھ ٹھیک ظاہر کرتے ہیں، چاہے زمینی حقائق کچھ اور ہوں۔ عوام کی پریشانی، گاؤں کی تباہی، کھیتوں کا نقصان اور زندگیوں کا خطرہ شاید ان اعداد و شمار میں شامل ہی نہیں۔

یہ المیہ صرف پانی کا نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات اور نظام کی خامیوں کا بھی ہے۔ اربوں روپے کے منصوبے دکھائے جاتے ہیں، مگر ان کی شفافیت اور افادیت پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ عوام کے ٹیکسوں سے بننے والے یہ منصوبے صرف بیانات اور اشتہارات میں زندہ رہتے ہیں، جبکہ حقیقت میں عوام کو ان کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ سندھ کے عوام نہ صرف اپنے جان و مال کی حفاظت کریں بلکہ ان بندوں اور بیراجوں کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ یہ زمین ہماری ہے، اور اگر ہم نے خود اس کی فکر نہ کی تو کوئی دوسرا ہماری مدد کو نہیں آئے گا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ مل کر خطرے کی اطلاع پھیلائیں، مال مویشی کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور اپنی زندگیوں کو بروقت تحفظ فراہم کریں۔

علاوہ ازیں، حکومت سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اربوں روپے کے منصوبوں کا حساب دے، عملی اقدامات کرے اور عوام کے تحفظ کے لیے بروقت انتظام کرے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ پانی کا ریلا صرف زمینوں کو نہیں بہائے گا بلکہ عوام کے اعتماد، مستقبل اور زندگیوں کو بھی ہمیشگی کے لیے ڈبو دے گا۔

یہ وقت ہے کہ سندھ کے عوام بیدار ہوں، اپنی زمین، اپنی جان اور اپنے وسائل کی حفاظت خود کریں، کیونکہ کسی اور پر بھروسہ کرنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *