⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
حالتِ جنگ
ہم حالتِ جنگ میں ہیں پاک فوج تجھے سلام
گزشتہ ہفتے کے دوران ملک کے اندر اور سرحدوں پر جو واقعات پیش آئے، انہوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر حالتِ جنگ میں ہے۔ دشمن کی گولیاں صرف بارڈر پار سے نہیں آرہیں، بلکہ افواہوں، پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانیوں کی صورت میں ہمارے اندر بھی سرایت کر چکی ہیں۔
ایسے حالات میں سب سے زیادہ دباؤ پاک فوج پر ہے — وہ ادارہ جو نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کر رہا ہے بلکہ ملک کے اندرونی استحکام کو بھی برقرار رکھنے کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور معلوماتی جنگ بھی ہے، جس میں دشمن کا مقصد قوم کے اعتماد کو متزلزل کرنا ہے۔گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں، سوشل میڈیا پر منفی مہمات، اور قومی یکجہتی پر حملے، اس بات کی علامت ہیں کہ دشمن اب میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ شعور اور بیانیے کے میدان میں بھی سرگرم ہے۔
یہ وقت تنقید یا تقسیم کا نہیں، یقین اور یکجہتی کا وقت ہے۔ فوج ہماری اپنی ہے یہ وہی جوان جو برف، دھول اور آگ کے درمیان کھڑے ہیں تاکہ ہم سکون سے سانس لے سکیں۔
یہ وقت تنقید یا تقسیم کا نہیں، اتحاد کا وقت ہے۔ فوج ہماری اپنی ہے، ہمارے بیٹے، ہمارے بھائی، ہمارے محافظ۔ ان پر یقین رکھنا، ان کے حوصلے کو قائم رکھنا، یہی آج ہر پاکستانی کا قومی فرض ہے۔
پاکستانی فوج نے ہمیشہ اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے —ایک ایسا نظریہ جو اس ملک کی بقا اور عزت کی ضمانت ہے۔
آئیے، ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم افواہوں کے خلاف ہیں،اور ہم ہر اس قوت کے خلاف ہیں جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا چاہتی ہے۔
کیونکہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں —
تو اس جنگ کا سب سے مضبوط ہتھیار ہماری یکجہتی ہے۔
پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔
نوٹ
یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
