کیک

کیک



بھٹے کی آگ دن رات جلتی رہتی ہے۔ دھوئیں کے بادل آسمان تک جاتے ہیں اور ہوا میں مٹی کے ذرات اس طرح بکھرے رہتے ہیں جیسے ہر لمحہ کوئی طوفان اٹھنے والا ہو۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہ تھا کہ غلام دین نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی میں ڈال دیے۔ رات بھر کی تھکن ابھی جسم سے نکلی نہیں تھی، مگر پیٹ کی بھوک اور قرضوں کی جکڑ نے اسے دوبارہ زمین پر جھکا دیا۔
جھونپڑی کے کچے فرش پر اس کی بیوی نسرین نے پرانے ٹاٹ کے ٹکڑے پر خشک روٹی رکھی۔ دو بڑی بیٹیاں، سلمیٰ اور نسیم، جلدی جلدی لقمے توڑ کر منہ میں ڈال رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں نیند ابھی باقی تھی، مگر دھوپ چڑھنے سے پہلے بھٹے پر پہنچنا ضروری تھا۔ غلام دین کا بیٹا منظور، جو گیارہ برس کا تھا، بھی روٹی چبا رہا تھا۔ وہ کبھی کبھار اسکول جانے کی ضد کرتا مگر ہمیشہ یہ جواب سن کر خاموش ہو جاتا: “کتابیں خریدنے کو پیسے نہیں، اور اسکول جانے سے پیٹ نہیں بھرتا بیٹا۔”
ان سب کے درمیان سب سے چھوٹا، سات برس کا فیاض، اپنی ماں کی گود میں بیٹھا، آدھی روٹی کے ٹکڑے سے کھیل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں معصوم روشنی تھی، مگر گالوں پر مٹی کے داغ اور کپڑوں پر پیوند غربت کی سچی کہانی سنا رہے تھے۔
جھونپڑی کے دروازے سے باہر جھانک کر فیاض نے بھٹے کی طرف دیکھا۔ وہاں پہلے ہی کئی مزدور عورتیں اور مرد کام شروع کر چکے تھے۔ ان کے چہرے اور کپڑوں پر گرد ایسے جمی تھی جیسے وہ انسان نہیں بلکہ مٹی کے ہی بنے ہوں۔
غلام دین نے اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے بیوی سے کہا: “چلو نسرین، بچوں کو بھیج دو۔ دھوپ نکل آئی تو پھر سانس لینا مشکل ہو جائے گا۔”
نسرین نے دونوں بیٹیوں کو ہانکا۔ وہ پانی کے گھڑے سر پر رکھے جھونپڑی سے باہر نکلیں۔ منظور بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ فیاض زمین پر بیٹھ گیا اور مٹی کے ڈھیلے سے کھیلنے لگا۔
بھٹے پر زندگی کی ایک الگ ہی دنیا تھی۔ اینٹوں کے لمبے ڈھیر، آگ کی جھلسا دینے والی گرمی، اور مٹی کے ڈھیر جنہیں گوندھ کر سانچے میں ڈالا جاتا۔ غلام دین کے ہاتھوں پر چھالے پڑے ہوئے تھے، مگر وہ انہیں نظرانداز کر کے بس کام کرتا رہا۔ ہر سانس کے ساتھ دھوئیں کی کڑواہٹ اندر جاتی اور پھر کھانسی کے دورے اسے ہلا کر رکھ دیتے۔ اسی دوران، بھٹے کے ایک طرف سے شور بلند ہوا۔ کچھ مزدور سرگوشیاں کرنے لگے۔ معلوم ہوا کہ بھٹہ مالک کی حویلی میں آج جشن ہے۔ اس کے اکلوتے بیٹے کی سالگرہ ہے۔ بڑے بڑے دیگ پک رہے ہیں، رنگین قمقمے لگائے جا رہے ہیں، اور شہر سے کیک منگوایا گیا ہے۔ فیاض نے جب یہ بات سنی تو چونک اٹھا۔ اس نے پہلی بار لفظ کیک کو غور سے سنا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس ابھرا۔
“ابا، یہ کیک کیا ہوتا ہے؟” اس نے معصومیت سے پوچھا۔
غلام دین نے ایک لمحہ کے لیے سانچہ ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سایہ ابھرا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیسے ایک پانچ برس کے بچے کو سمجھائے کہ کیک کیا ہے، اور یہ کیوں ہمیشہ ان کی پہنچ سے باہر رہے گا۔
“بیٹا! کیک میٹھا ہوتا ہے، روٹی جیسا مگر رنگ برنگا۔” غلام دین نے مختصر جواب دیا۔
فیاض نے حیرت سے کہا: “ہمیں کیوں نہیں ملتا ابا؟”
غلام دین کے سینے میں کچھ ٹوٹ سا گیا۔ اس نے بیٹے کو گود میں اٹھا لیا، اس کی پیشانی چومی، اور ایک طویل سانس لیتے ہوئے بولا: “بیٹا، یہ کیک ان کے نصیب میں ہے جو ہمارے جیسے لوگوں کی محنت خریدتے ہیں۔ ہم تو بس ان کے محل بناتے ہیں اور اپنی جھونپڑیوں میں سوتے ہیں۔”
شام ڈھلے بھٹے کی مزدوری ختم ہوئی تو غلام دین نے فیاض کو ساتھ لیا اور گھر کو لوٹا۔ راستے میں، بھٹہ مالک کی حویلی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔ اندر سے قہقہے اور موسیقی کی آوازیں آ رہی تھیں۔ دروازہ کھلا تھا۔ فیاض نے جھانک کر دیکھا۔ بڑے ہال میں ایک بڑا سا کیک رکھا تھا، جس پر رنگین موم بتیاں جل رہی تھیں۔ بچے تالیاں بجا رہے تھے۔ مالک کا بیٹا مسکرا رہا تھا۔ اور پھر اس نے چھری اٹھا کر کیک کاٹا۔ فیاض کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے اپنے نازک ہونٹ کاٹ لیے، آنکھیں پھاڑ کر منظر کو دیکھا۔ اس کے دل میں ایک خواہش اٹھی، مگر ساتھ ہی بے بسی کا سمندر بھی۔ اس کی نظریں اس کیک پر جمی رہیں جب تک کہ غلام دین نے اسے کھینچ کر آگے نہ بڑھا دیا۔
فیاض نے آہستہ آواز میں کہا:
“ابا! اگر میں بھی کیک کھانا چاہوں تو؟”
غلام دین کے قدم رک گئے۔ وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے جلنے لگے، مگر زبان پر درد کی بارش تھی:
“بیٹا! ہماری دنیا میں خواہشیں زندہ نہیں رہتیں۔ یہاں روٹی کے ٹکڑے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، اور کیک صرف ان کے لیے ہے جو ہماری محنت کے مالک ہیں۔”
فیاض خاموش ہو گیا۔ اس کے ننھے ہونٹ لرزنے لگے۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ اس کی معصوم زبان پر جم کے رہ گئے۔
رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ بھٹے کی آگ کے شعلے اب بھی آسمان کی طرف لپک رہے تھے، مگر غلام دین اور اس کا خاندان جھونپڑی میں لوٹ آیا تھا۔ چھت پر پرانے ٹاٹ کے ٹکڑے پڑے تھے، جن کے سوراخوں سے سرد ہوا اندر آ رہی تھی۔ بچے تھکن سے نڈھال ہو کر ایک طرف لیٹ گئے۔ بیٹیاں اپنی ماں کے قریب دبک گئیں، منظور گھٹنوں میں منہ دے کر اونگھنے لگا، مگر فیاض جاگ رہا تھا۔ فیاض کی آنکھوں میں آج کا منظر ابھی تک گردش کر رہا تھا۔ وہ بڑا سا کیک، رنگین موم بتیاں، تالیاں، قہقہے، یہ سب اس کے ذہن میں چمک رہے تھے۔ اس نے باپ کا دامن کھینچا اور آہستہ آواز میں پوچھا:
“ابا، ان کے پاس اتنی چیزیں کیوں ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں؟”
غلام دین دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس نے بیٹے کے بال سہلائے اور ہلکی آواز میں بولا:
“بیٹا، یہ دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے، جنہوں نے قدرتی وسائل اور سرمایہ پر قبضہ جما رکھا ہے دوسری طرف ہم جیسے لوگ ہیں جن کے پاس محنت ہے مگر محنت کا پھل نہیں۔”
فیاض نے معصوم حیرت سے پوچھا:
“ابا، کیا محنت کرنے والوں کو سب کچھ نہیں ملنا چاہیے؟”
غلام دین کی آنکھوں میں ایک تلخ ہنسی اتر آئی۔ وہ کہنے لگا:
“ہاں بیٹا، ہونا تو یہی چاہیے۔ مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ جو محنت نہیں کرتا، جو پسینہ نہیں بہاتا، جو دن رات کی دھوپ اور دھوئیں میں نہیں جلتا، وہی سب کچھ سمیٹ لیتا ہے۔ ان کے محلات ہیں، ان کے لیے کیک ہیں، کھلونے ہیں، گاڑیاں ہیں۔ اور ہم؟ ہم جو اینٹیں پکاتے ہیں، وہی اینٹیں ہمارے لیے قبر کی دیوار بننے کے کام آتی ہیں کبھی پکی چھت بننے کے نہیں۔”
جھونپڑی میں خاموشی چھا گئی۔ صرف باہر سے کتوں کے بھونکنے اور ہوا کے شور کی آواز آ رہی تھی۔ فیاض کے دل میں سوالوں کی گہری خراش اتر گئی۔
اسی دوران، منظور نے کروٹ بدلی اور آہستہ سے کہا:
“ابا، اگر میں اسکول جاؤں، پڑھ لکھ لوں، تو کیا ہم بھی کیک خرید سکیں گے؟”
غلام دین نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہونٹوں پر کڑواہٹ بھرا تبسم آ گیا۔
“بیٹا، کتابوں کے لیے پیسے چاہیے۔ کتابیں خریدنے کے لیے ہاتھوں کو مٹی سے نکالنا ہوگا۔ مگر جب تک یہ بھٹہ ہے، یہ قرض ہے، یہ پیٹ ہے، ہم تمہیں اسکول بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتے۔”
منظور نے کچھ نہ کہا۔ اس کے دل میں خواب دفن ہوتے گئے جیسے کچی اینٹیں بھٹے کی آگ میں جل کر راکھ بن جاتی ہیں۔
رات گہری ہوئی تو نسرین نے فیاض کو اپنی گود میں سلا دیا۔ مگر غلام دین دیر تک جاگتا رہا۔ اس کے کانوں میں اب بھی حویلی کی موسیقی گونج رہی تھی۔ وہ سوچتا رہا:
“کیا واقعی ہمارا نصیب صرف یہ جھونپڑی ہے؟ کیا ہماری اولاد بس حسرتوں کے سائے میں جئے گی؟ کیا ہم نے محنت کے باوجود دنیا سے کچھ پانے کا حق کھو دیا ہے؟”
وہ دیر تک چھت کے سوراخوں سے جھانکتے ہوئے آسمان کو دیکھتا رہا۔ وہاں کوئی ستارہ نظر نہیں آ رہا تھا، صرف دھوئیں کی تہہ تھی۔ غلام دین نے دل ہی دل میں کہا:
“یہ آسمان ہمارے لیے بے رنگ ہے۔ جیسے ہماری زندگی ہے سیاہ، ادھوری، غیر انسانی اور بوجھل۔”
اگلی صبح بھٹے پر پھر وہی شور، وہی پسینہ، وہی مٹی۔ غلام دین اپنے ہاتھوں سے اینٹوں کا سانچہ بھر رہا تھا، کہ اچانک فیاض بھاگتا ہوا آیا۔ اس کی آنکھوں میں پھر وہی سوال تھا۔
“ابا! اگر ہم بھی کیک مانگیں تو کیا بھٹہ مالک ہمیں دے دے گا؟”
غلام دین نے ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے، پھر سینے پر مٹی لگا ہوا ہاتھ پھیر کر بولا:
“نہیں بیٹا، یہ دنیا مانگنے سے کچھ نہیں دیتی۔ یہاں تو چھیننے والے جیتتے ہیں، اور ہم جیسے دینے والے ہمیشہ ہارتے ہیں۔”
فیاض نے مٹی میں لکیر کھینچی اور آہستہ سے کہا:
“تو پھر ہم ہمیشہ ہارتے رہیں گے ابا؟”
یہ سوال غلام دین کے دل پر ہتھوڑے کی طرح گرا۔ وہ کچھ نہ بولا۔ بس آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
دن گزرتے گئے۔ فیاض کی آنکھوں میں کیک کی خواہش مچلتی رہی۔ وہ جب بھی بھٹے پر اینٹیں دھرتے ہوئے کسی بچے کو مٹھائی کھاتے دیکھتا تو اس کی زبان پر لاشعوری طور پر ایک ہی سوال آ جاتا:
“ابا، ہم کیوں نہیں کھا سکتے؟”
غلام دین ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتا۔ کبھی کہتا پیسے نہیں، کبھی کہتا صحت خراب ہو جائے گی۔ مگر اندر ہی اندر وہ جانتا تھا کہ اس کی غربت نے اس کے بچوں کی خواہشوں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ ایک دن بھٹہ مالک کے گھر سے پھر آوازیں آنے لگیں۔ رنگ برنگی جھنڈیاں لٹک رہی تھیں، سپیکر پر گانے چل رہے تھے۔ آج بھٹہ مالک کے دوسرے بیٹے کی سالگرہ تھی۔ غلام دین اور اس کا خاندان اینٹیں بناتے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
فیاض نے اپنی چھوٹی سی گردن اونچی کی۔ دیوار کے اوپر سے جھانک کر اس نے دیکھا: بڑا سا سفید کیک میز پر رکھا تھا، جس پر رنگین کریم سے لکھا تھا: Happy Birthday. بچے تالیاں بجا رہے تھے، موم بتیاں جل رہی تھیں۔ بھٹہ مالک کے بیٹے نے جب چاقو اٹھایا اور کیک کاٹنے لگا تو فیاض کی آنکھیں پتھر کی طرح جم گئیں۔ اس کے لب ہل رہے تھے مگر آواز نہ نکل رہی تھی۔
“ابا! یہ کیک”
غلام دین نے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔ اس کی آواز بھرا گئی:
“بیٹا، یہ کیک ان کے لیے ہے جن کے پاس طاقت ہے۔ ہمارے حصے میں بس اینٹوں کی گرمی ہے، دھوئیں کی راکھ ہے، بھوک کی کاٹ ہے۔”
فیاض نے باپ کی طرف دیکھا۔
“ابا، کیا ہم کبھی ایسا کیک نہیں کھا سکتے؟”
غلام دین کے حلق میں کانٹے اٹک گئے۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا:
“نہیں بیٹا! یہ دنیا کیک بانٹنے کے لیے نہیں بنی۔ یہ تو شاید ان دولت مندوں، جاگیر داروں، وڈیروں، بھٹہ مالکان، سرمایہ کاروں اور طاقتوروں کے لیے بنی ہے۔ یہ تو شاید ہم جیسوں سے روٹی تک چھیننے کے لیے بنی ہے۔”
رات کو جھونپڑی میں سب خاموش لیٹے تھے۔ باہر کہیں کتے بھونک رہے تھے۔ فیاض اپنی ماں کے قریب لیٹا مگر آنکھیں بند نہ کر سکا۔ اس کے ذہن میں وہ بڑا سا کیک ناچ رہا تھا، جس کی خوشبو اس کے ناک تک آ کر رک گئی تھی مگر اس کے حصے میں صرف دھوئیں کی کڑواہٹ تھی۔
اس نے آہستہ سے ماں کے کان میں کہا:
“اماں، اگر کبھی مجھے کیک ملے تو میں پورے بھٹے کے بچوں میں بانٹ دوں گا۔ کوئی بچہ حسرت سے نہ دیکھے۔”
نسرین نے نم آنکھوں سے بیٹے کو چوم لیا۔ مگر اس کا دل اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
صبح سورج نکلا تو غلام دین پھر اینٹوں کے سانچے بھرنے میں مصروف ہو گیا۔ فیاض قریب کھڑا اپنے ننھے ہاتھوں سے باپ کی مدد کرنے لگا۔ اچانک اسے لگا جیسے آسمان سے کوئی چیز گری ہے۔ اس نے اوپر دیکھا، دھوئیں سے بھرا بے رنگ آسمان، جس پر ایک بھی پرندہ نہ تھا۔
فیاض کے لبوں سے آہستہ سے نکلا:
“ابا، یہ آسمان بھی کیک جیسا ہے۔ بڑا ہے، خوبصورت ہے، مگر ہمارے حصے کا نہیں۔”
غلام دین کے ہاتھ سے مٹی کا سانچہ چھوٹ گیا۔ وہ بیٹے کو دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں ایک خالی گونج اٹھ رہی تھی۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

One thought on “کیک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *