فوج اور عوام

فوج اور عوام

ملک پاکستان جو بے شمار قربانیوں کے بعد ہمیں ملا ہے اور یہ عظیم خطہ ہماری آزادی کی کنجی ہے۔ دنیا کے ہر ممالک کی طرح ہمارے پاس بھی فوج ہے مگر پاکستانی فوج کا مقابلہ دنیا کا کوئی فوجی نہیں کرسکتا ہے۔ ہماری فوج مشکل حالات میں سب سے آگے آگے رہتی ہے اور اپنی عوام کو ہر حال میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دوسروں کے گھر کی رونقیں برقرار رکھتے ہیں۔
ہمارے فوجی دن، رات ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان و مال کی پرواہ کیے بغیر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں، تو وہیں ہماری عوام کا فوج سے نارواں سلوک برداشت کے قابل نہیں ہے۔ ہمیں ہر مشکل حالات میں فوج کی ضرورت پڑتی ہے مثلاً سیلاب کا آنا، جنگ کا خطرہ، بارشوں کی وجہ سے ہجرتیں، دہشت گردی، زیادتیوں کی بھر مار، قتل و غارت کا بڑھ جانا، انتخابات کے دوران، الغرض ہمیں ہر حال میں اپنی فوج کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب یہ فوجی جوان دھوپ، سائے کی پرواہ کیے بغیر ہماری مدد کرتے ہیں تو ہمیں اچھے لگتے ہیں لیکن جب وقت نکل جاتا ہے پھر ہمیں فوج میں بہت سے نقص نظر آنے لگتے ہیں۔
میرے چند سوالات عوام سے ہیں شاید ان کا جواب ملنا ناممکن ہی ہے۔ انتخابات کے دوران مشتعل ہوئے لوگ سب سے پہلے فوج پر ہی پتھراؤ کیوں کرتے ہیں؟ وہ تو حفاظت کے لیے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے موجود ہوتے ہیں پھر انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے والے یہ فوجی جوان اپنی جان گنوا دیتے ہیں پھر بھی انہیں ہی کیوں کوسا جاتا ہے؟ عوام کی جان و مال کی حفاظت یہی فوجی جوان کرتے ہیں پھر ان کے خلاف غلط کیوں بولا جاتا ہے؟
ڈھیروں سوال لیکن جواب نہیں مل پائے گا۔ ارے تم لوگ کیا جانو یہ فوجی کتنی قربانیاں دیتے ہیں۔
اپنا گھر بار چھوڑ کر دن، رات سرحدوں پر کھڑے اپنے ملک و قوم کی حفاظت کرتے ہیں، نہ کھانے کی فکر، نہ کسی تہوار کی تیاری بس اپنے فرض کو پورا کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ جب ساری دنیا نیند کی چادر اوڑھے سوتی ہے تب بھی یہ جوان ہماری حفاظت کے لیے کھڑے رہتے ہیں۔ دشمن کی گولی اپنے سینوں پر کھانے والے اف تک نہیں کرتے ہیں بلکہ خوشی خوشی شہادت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ ہر طرح کی عوام کی مدد کرتے ہیں مگر ہماری عوام اپنی فوج کو ہی دشمن سمجھ بیٹھی ہے۔ ارے ناداں لوگو! ان محافظوں کی قدر کرو یہ بھی اپنی خوشیاں قربان کیے تمہاری سلامتی چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا شکوہ ہے کہ یہ مفت میں کچھ نہیں کرتے بلکہ انہیں تنخواہیں ملتی ہیں۔ وہ چالیس سے پچاس ہزار کمانے والا فوجی جسے ہم بادشاہ سمجھ بیٹھے ہیں، جانے کیسے اپنے گھر کے اخراجات پورے کررہا ہے؟ پھر بھی یہ فوجی نوجوان اپنے فرائض کو پورا کرنے کی جستجو کررہے ہیں۔ اس لیے اپنے ان فوجی نوجوانوں کے لیے دعا کیا کریں کیونکہ یہ ہمارے محافظ ہیں۔ اللہ پاک ہماری فوج پر اپنی رحمت بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین!

  • محترمہ کا نام عمارہ عابد ہے اور آپ صادق آباد کی رہنے والی ہیں۔ آپ ادب کی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی جستجو کررہی ہیں۔ ابھی تک مختلف انتھالوجی کتابیں جن میں ” شعاع افگن، سلسلہ ہجر، روشن راہوں کے مسافر، کوہ نور، حی علی الفلاح، ہر کہانی ہر صفحہ، عصمت حوا، امن کی چھاؤں“ میں آپ کی تحریریں شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاؤہ چند کتابیں ابھی زیر اشاعت ہیں جن میں آپ نے اپنے قلم کا ہنر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف میگزین، ڈائجسٹ، اخبارات میں آپ کا لکھا ہوا شائع ہوتا رہتا ہے۔ ادب اطفال کے لیے لکھی گئی کہانیاں بھی اشاعت کا جامہ اوڑھ چکی ہیں۔ کرن کرن میگزین اور نئے افق میں بھی آپ کی کہانی شائع ہوچکی ہے۔ آپ مقابلہ جات میں حصہ لیتی رہتی ہیں جس میں مختلف اسناد کے ساتھ انعام سے بھی نوازی جا چکی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *