میں نے شعرو سخن کی محفل میں چند لفظوں کو دان رکھا ہے
آزمائش کے گرم صحرا میں آرزوؤں کو تان رکھا ہے
سنگدل رہزنوں کی بستی میں ایک پل کا پڑاؤمشکل تھا
کرم بیکس نواز نے لیکن زرد چہروں کا مان رکھا ہے
تم نے قلب ونظر کی گہرائی جانے کس روز پر اٹھا رکھی
اہل دنیا نے بےسبب تم کو نیچ کم ظرف جان رکھا ہے
فاختہ اپنی مرگئی شاید شاخ زیتون جل گئی شاید
موت نے کاروبار ہستی میں اب پڑاؤ ہی آن رکھا ہے
آگ اور خون لکھ دیا میں نے بھول کر پھر نئے قصیدے میں
دیکھ کر چار سو یہی منظر ناؤ کا بادبان رکھا ہے
قصہ غم سنا چکی امبر ،پر کوئی چیخ تک نہیں اٹھی
بےحسی کے کسی جنم دن نے خلق کو بے دھیان رکھا ہے
-
عظمیٰ رحمٰن ہاشمی ایک شاعرہ ہیں۔ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔پیشے کے اعتبار سے گریڈ16کی ہائی اسکول ٹیچر ہیں۔آپ کا ایک شعری مجموعہ لمحات کرب کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔شاعری کے ساتھ ساتھ آپ ایک مضمون نگار بھی ہیں ۔آپ مختلف سماجی پہلوؤں پر لکھ چکی ہیں۔ آپ کے مضامین بہت سے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔بچوں کے ادب کے حوالے سے بھی آپ نے کافی کام کیا۔ماہنامہ پھول اور ماہنامہ الف نگر میں آپ کی کہانیاں اور نظمیں شائع ہوئیں ۔ آپ نے سوشل میڈیا پر ہونے والے ادبی مقابلوں میں کئی ایوارڈز حاصل کیے۔کچھ عرصہ اپنی کنیت "ام حذیفہ"سے بھی لکھتی رہیں ۔ آپ کا شعری مجموعہ بھی اسی نام سے ہے ۔بی بی سی لندن کی اردو سروس میں ایک طویل عرصہ علاقائی مسائل کے حوالے سے آپ کی تحریریں شامل ہوتی رہیں۔وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں آپ کی زندگی کی کہانی آپ کی اپنی آواز میں نشر ہوئی۔ پروگرام میں سامعین نے کالز کرکے آپ کے انداز تحریر پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
