⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
پنجاب اور سیلاب
اٹھ وارث شاہ آج ویکھ تے سئی
تیرا اجڑ گیا پنجاب
پنجاب کی۔دھرتی کو ہزاروں سال سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔کبھی بیرونی حملہ آور تو کبھی قدرتی آفات۔
انیسویں صدی میں دنیا میں رونما ہونے والے سیاسی تبدیلیوں نے جہاں جفرافیہ بندی کی وہیں بیرونی حملہ آوروں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔اربنائزیشن اور بڑھتی ہوئی انسانی حرص نے جنگلات اور دریاوں کے بند ختم کردئیے۔جسکا نتیجہ سے نکلا کہ دریائی پانی کی گزرگاہوں پر انسانی آبادکاری ہوتی گئی اور دریا سکڑتے گئے۔موسمیاتی تبدیلیوں نے شدید بارشوں اور گلیشئر کے پگھلنے کے عمل تیز کردیئے جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر تین چار سال بعد سیلاب آنا شروع ہوگئے آج کے۔کالم میں درج ذیل ذیلی موضوعات پر بات کریں گے تاکہ مستقبل قریب اور بعید کو مدنظر رکھتے ہوئے سیلابی پانی کو کارآمد بنانے اور حفاظتی انتظامات بہتر سے بہترین اقدامات کئے جاسکیں۔
پنجاب میں سیلاب کی صورتحال
سندھ طاس معاہدہ
کمزور بند اور انتظامی معاملات
جنوبی پنجاب پر سیلاب کے اثرات
سندھ میں بڑا سیلابی ریلا
بند توڑنے کے اقدامات
شہروں کو بچانے کی حکمت عملی
سیلاب کا خطرہ اور کمزور انتظامی ڈھانچہ
جب بھی مون سون کی بارشیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سال بھی یہی صورتحال ہے۔ دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد جنوبی پنجاب کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ یہ صورتحال ہر سال پیدا ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ: ایک جڑواں چیلنج
1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت، دریائے ستلج، بیاس اور راوی کا پانی بھارت کے حصے میں آیا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان نے اپنے حصے کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے تربیلہ اور منگلا جیسے بڑے ڈیم بنائے۔ تاہم، اس معاہدے کا ایک پہلو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے کہ بھارت کو ان دریاؤں پر پانی کا بہاؤ کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہوا۔ بھارت میں جب بھی زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو وہ ڈیموں سے پانی چھوڑ دیتا ہے، جس سے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے پاس اس پانی کو کنٹرول کرنے کے لیے نہ تو مناسب انفراسٹرکچر ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی۔
کمزور بند اور انتظامی غفلت
پنجاب کے میدانی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے بنے ہوئے بند انتہائی کمزور ہیں۔ ہر سال ان کی مرمت کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بند تھوڑی سی بھی پانی کی مقدار کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن ہے۔ محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ ادارے بروقت کوئی اقدامات نہیں کرتے اور جب سیلابی ریلا آتا ہے تو ان کی غفلت کا نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوتی ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش چند ہی لمحوں میں تباہ ہو جاتا ہے۔
بند توڑنے کی حکمت عملیایک تلخ حقیقت ہے۔سیلاب کی شدت کو کم کرنے اور بڑے شہروں کو بچانے کے لیے حکومتی ادارے اکثر یہ حکمت عملی اپناتے ہیں کہ آبادی سے دور دیہی علاقوں میں بندوں کو جان بوجھ کر توڑ دیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد پانی کے بہاؤ کو پھیلانا اور بڑے شہروں جیسے لاہور، ملتان یا بہاولپور کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔ بظاہر یہ حکمت عملی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے ضروری لگتی ہے، لیکن اس کا بوجھ غریب دیہی آبادی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے گھر، فصلیں اور مویشی سب کچھ پانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں بھی منڈی بہاوء الدین کے 39 دیہات بند توڑنے کے عمل میں مکمل تباہ ہوچکے ہیں۔انکی اس عظیم قربانی سے بڑے شہروں اور آبادی کو سیلاب کی تباہ کاری سے بچایا گیا ہے ۔ جنوبی پنجاب میں ہیڈ اسلام ،بہاول پور اور ہیڈ پنجند کے نزدیکی بند توڑنے کے بارے میں ضلعی حکومتیں فیصلے کرچکی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر بند توڑ دئے جائیں گے تاکہ شہری آبادیاں محفوظ رہ سکیں۔یہ اقدام انتظامیہ کی نااہلی کا ثبوت بھی ہے جو سیلاب سے پہلے حفاظتی اقدامات نہیں کرتی اور جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو چھوٹے علاقوں کی قربانی دے کر بڑے شہروں کو بچاتی ہے۔ بڑے بزرگوں کا قول ہے کہ پشتوں کی حفاظت اور مرمت پشت در پشت کی جائے تو سیلاب سے بچا جاسکتا ہے۔
موجودہ سیلاب نےجنوبی پنجاب پر تباہ کن اثرات اور سندھ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ہیڈ گنڈا سنگھ سے 2 لاکھ پچاس ہزار کیوسک پانی 2 ستمبر کو بہاول پور پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ دریائے چناب کا سیلابی ریلا اسی دن ہیڈ پنجند پہنچنے کی توقع ہے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ ان دونوں ریلوں کے درمیان 36 سے 48 گھنٹے کا وقفہ ہیڈ پنجند اور۔دریائے سندھ کو تباہ ہونے سے بچالے گا۔جنوبی پنجاب، جو پہلے ہی پسماندگی کا شکار ہے، سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد مزید مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ دیہاتوں کا انفراسٹرکچر، فصلیں، مویشی اور گھر سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ نقل مکانی پر مجبور لوگ امدادی کیمپوں میں انتہائی دگرگوں حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب یہ سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوتا ہے، تو وہاں بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ سندھ میں موجود کچے کے بند پہلے ہی کمزور ہیں اور بڑے ریلے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
شہروں کو بچانے کی حکمت عملی
شہروں کو سیلاب سے بچانے کے لیے انتظامیہ کو بند توڑنے جیسے ہنگامی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ شہروں کے گرد پختہ اور مضبوط فلڈ بیریئرز (Flood Barriers) بنائے جائیں اور دریائی گزرگاہوں کی باقاعدگی سے صفائی کی جائے۔ شہروں کے اندر بہتر نکاسی آب کا نظام (drainage system) قائم کیا جائے تاکہ بارش کا پانی جمع نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ، لوگوں کو سیلاب سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے اور پیشگی انخلاء کے منصوبے تیار کیے جائیں۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت ڈیم اور بیراج اور جھیلیں بنائی جائیں اور دریاؤں کے کنارے موجود کمزور بندوں کو پختہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے بہتر امدادی اور بحالی کی حکمت عملی بھی وضع کی جائے۔ صرف بلند و بانگ دعوے کافی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ سیلاب جو بھی تباہی کریگا اسے پوری قوم ملکر برداشت کرے گی تاہم قومیں اپنے بدترین حالات سے سبق سیکھتے ہوئے بہتر مستقبل کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔جو ہمارے ہاں ہوتے نظر نہیں آتے۔
