⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
موجودہ سیلابی صورتحال اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی عوام دوستی
پاکستان اس وقت شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ خاص طور پر پنجاب کے کئی اضلاع میں صورتحال نہایت ابتر ہے۔ بستیاں زیرِ آب ہیں، کھیت کھلیان تباہ ہو چکے ہیں، لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ آمدورفت کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے کڑے وقت میں عوام کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے ان کے منتخب نمائندوں کی موجودگی، ہمدردی اور عملی اقدامات ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جاءے تووزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے حالیہ سیلابی صورتحال میں جس طرح بروقت اور بھرپور اقدامات کیے ہیں، اس نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ وہ نہ صرف سیلاب زدہ علاقوں میں خود پہنچیں بلکہ متاثرین کے درمیان بیٹھ کر ان کے دکھ درد کو سنا اور انہیں یہ یقین دلایا کہ حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ عوام کے ساتھ یہ رویہ ان کی عوام دوستی اور خدمت کے جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے جو کہ قابل صد ستائش و لائق تحسین و آفرین ہے۔ وزیر اعلی ا پنجاب کی ہدایات کے مطابق متعلقہ اداروں کی طرف سےسیلاب متاثرین کے لیے فوری طور پر خیمے، صاف پانی، راشن اور ادویات پہنچائی گئیں۔ موبائل میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے تاکہ بیمار اور زخمی افراد کو بروقت علاج مل سکے۔ محترمہ مریم نوازشریف نے واضح ہدایت دی کہ کسی بھی خاندان کو امداد سے محروم نہ رکھا جائے۔ متاثرین کے ساتھ یہ براہِ راست رابطہ اور ان کے مسائل کو سننا اس بات کا غماز ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب صرف ایوانوں کی حکمران نہیں بلکہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی عظیم رہنما ہیں۔
حکومت پنجاب نے کسانوں اور غریب طبقے کے لیے خصوصی مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ تباہ شدہ فصلوں اور مویشیوں کے نقصان کی تلافی کے لیے فنڈ قائم کیا گیا ہے جبکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبے بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسی آفات سے بچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور پیشگی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔یقیناً یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ خدمت کا ہے، اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عوامی مشکلات میں سب سے آگے کھڑی ہیں۔ سیلابی آفت کے اس کڑے امتحان میں ان کا جذبۂ خدمت متاثرین کے لیے امید کی کرن اور پنجاب کے عوام کے لیے ایک روشن پیغام ہے۔
