⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
تعلیم و تربیت
ملک میں اعلی تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم کا فروغ یقینا قابل تعریف اور خوش ائندہ ہے مگر تعلیم کی کوئی بھی سطح ہو اس میں اگر معیار اور ملکی ضروریات کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو نتائج زیادہ موثر اور مثبت نہیں ہوتے ہیں۔ گزشتہ سالوں سے میں تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہوں اور اپنے شہر کے بہترین ادارے میں تدریس کا کام سر انجام دے رہی ہوں اور اگر میں اپنےاطراف کی بات کروں تو ہر طرف تعلیم ہی تعلیم نظر اتی ہے۔ ہر طرف تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے لیکن تربیت کا فقدان ہے
آغاز میں مجھے کافی حیرانی ہوئی تھی کہ طلبہ طالبات کو کوئی بھی عنوان سمجھایا جاتا ہے تو فورا سے پوچھتے تھے کہ یہ عنوان امتحانات میں کیا حیثیت رکھتا ہے کتنے نمبرز کا حامل ہے۔ مختصراً بات کروں تو ہر مضمون کو امتحانات کی نظر سمجھا اور تیار کیا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ بچے نے پڑھنا ہے اچھے نمبرات لینے اور گورنمنٹ کی طرف سے اچھی پوسٹ حاصل کرنی ہے۔ اور اس حوالے سے دیکھا جائے تو طالب علم میں کافی مقابلہ بھی پایا جاتا ہے۔ میرے جیسے ذہنیت رکھنے والوں کے لیے یہ حالت ناقابل برداشت ہے کہ تربیت اور انسانیت سے عاری تعلیم۔ آج کل جس بھی شخص کو دیکھیں تعلیمی قابلیت اعلی شاندار اور ایسے لگتا ہے جیسے چمکتا ستارہ ہو لیکن تربیت و شعور سے خالی انسانیت سے بے پرواہ اور خود غرضی سے بھرپور۔ اس طرح کے لوگ معاشرے میں بوجھ بن جاتے ہیں اور معاشرے میں اس طرح کے لوگوں کاذمہ دار والدین ہیں جو اپنے بچے کو تعلیمی ادارے میں بھیجنے کے ساتھ اس کی ذہنیت اس بات کے ساتھ محدود کر دیتے ہیں کہ اچھے نمرات لینے ہیں اور اچھے ملازمت حاصل کرنی ہے۔ اچھی ملازمت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا لیکن والدین کو چاہیے کہ بچے کی کو ذہن نشین کروائیں کہ اچھی تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کا ہونا ضروری ہے ۔والدین نہ صرف خود اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں بلکہ ادارے والوں سے بھی اس اہم پہلو پر خصوصی کام کرنے کی درخواست کریں۔ میرا شکوہ ان اساتذہ کرام سے سے بھی ہے جو طالب علم میں صرف اچھے نمبرات کے لیے جوش اور ولولہ پیدا کرتے ہیں اور انسانیت دور کھڑی دیکھ رہی ہوتی ہے کہ کیسے انسانیت سے خالی انسان میں نشوونما پا رہے ہیں۔ والدین کے بعد یہ ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے کی تعلیم و تربیت میں بہتری کا باعث بنیں آج کے معاشرے میں اعلی تعلیم اچھی ملازمت کی خواہش رکھنا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ ضروری ہے ۔نہ صرف انسان کے اپنے لیے ضروری ہے بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی اہم ہے ۔طالب علم کا بنیادی حق ہے کہ بہترین تعلیم کے ساتھ اس کی کردار سازی کی جائے اسے انسانیت سکھائی جائے جو کہ والدین اور اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کواس بہترین پہلو سے آشنا کریں۔
گزشتہ روز میں ایک عوامی تقریب کا حصہ بنی تو ایک ادارے کے پرنسپل نے اپنے اظہار خیال کے دوران نہایت ہی خوبصورت بات کہی کہ ہم اپنے بچپن میں والدین اور اساتذہ سے کیا ہی خوبصورت جملہ سنتے تھے کہ بچے کی اچھی تعلیم و تربیت کے حصول کے لیے بچے کو تعلیمی ادارے میں داخلہ دلوایا ہے۔ اور اج کل کے والدین یہی کہتے نظر اتے ہیں کہ اچھی تعلیم اچھی اچھی ڈگری ہو اور اچھی ملازمت ہو۔ میری تمام والدین اور اساتذہ سے درخواست ہے کہ طالب علم جو کہ پاکستان کم مستقبل ہیں ان کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جائے میری تعلیمی اداروں کے مالکان سے بھی گزارش ہے کہ بچوں کی کردار سازی کے حوالے سے ماہانہ سہ ما ہی ششماہی یا سالانہ لیول پر کردار سازی کے حوالے سے خصوصی سرگرمیاں کروائی جائیں۔
پاکستانی معاشرہ تعلیم یافتہ ہے اللّٰه تعالٰی تعلیم کے ساتھ تربیت یافتہ بھی بنانا ہوگا اللّٰه تعالٰی ہم سب کو حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین۔
