تعفن
“لاش سے بدبو آ رہی ہے…”
انسپکٹر رفیق نے رومال ناک پہ رکھ کر کہا، لیکن پھر جیسے خود سے مخاطب ہوا:
“مگر یہ بدبو لاش کی نہیں، معاشرے کی ہے۔”
فلیٹ نمبر 17B کی خاموشی میں صرف فریج کی ہلکی گھوں گھوں تھی اور دیوار پر ٹنگی نورین کی مسکراتی تصویر، جو اب اس کی بے جان لاش پر جھک کر ماتم کرتی معلوم ہو رہی تھی۔ وہ وہی نورین تھی جس نے پانچ سال پہلے اپنے باپ کا گھر چھوڑ دیا تھا، ایک کھڑکی سے چھلانگ لگا کر، ایک نئی کھڑکی کھولنے کے خواب میں۔
بابا کرم دین اب محلے میں رحم کی علامت تھا۔ وہ مسجد کے صفائی ستھرائی کرتا، بچوں کو دو وقت کی روٹی کے عوض قرآن پڑھاتا، ہر محفل میں اپنی خمیدہ کمر دکھاتا اور کہتا: “یہ سب میری اولاد کے ظلم کی بدولت ہے۔”
مولانا جنید کا جمعے کا خطبہ اسی واقعے پر تھا:
“جو عورت بے پردہ ہو، جو باپ کی نافرمان ہو، اس کا یہی انجام ہے، خدا کا عذاب۔ کرم دین نے لاش لینے سے انکار کر کے غیرت کا علم بلند کیا ہے۔”
کسی نے نہیں پوچھا کہ نورین گئی کیوں تھی؟
کسی نے نہیں پوچھا کہ اس رات کرم دین نے گالیاں دیتے ہوئے نورین کو مارا کیوں تھا؟
کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ نورین نے بچپن میں کتنی بار ماں کو خون تھوکتے دیکھا؟
کسی نے یاد نہ کیا کہ نورین کی پہلی گالی باپ کی زبان سے سنی گئی تھی۔نورین کے پاس ماڈلنگ کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، کیونکہ کسی مکتب، کسی مدرسے، کسی محلے، کسی مولوی نے اسے انسان سمجھ کر موقع نہ دیا۔اس کے جسم پر تبصرے تھے، اس کی پوسٹس پر لعنتیں تھیں، مگر کسی نے اس کی آنکھوں کا درد نہیں پڑھا۔انسپکٹر رفیق نے نوٹ بک بند کی اور باہر نکل آیا۔ رپورٹرز شور کر رہے تھے:
“نورین کی لاش لینے کوئی نہیں آیا، باپ نے انکار کر دیا۔ کیا کہیں گے؟”
رفیق نے ایک لمحہ خاموشی کے بعد کہا:
“یہ لاش مت دیکھو۔ اس کے پیچھے جو نظام ہے، وہ دیکھو۔ تمھاری ہر پوسٹ، ہر خطبہ، ہر لعنت، ایک ہتھیار بنی۔ تم سب قاتل ہو۔”
کرم دین مسجد کے ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، لوگ آ کر اس کا ہاتھ چومتے، اسے “مرد غیرت” کہتے۔ مگر وہ جانتا تھا، اس کی غیرت کی بنیاد کمزوری تھی، ظلم تھا۔نورین نے صرف یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ وہ ظلم دوبارہ نہیں جھیلے گی۔رات کو نورین کا جنازہ اسپتال کے سرد خانے میں پڑا تھا۔
سوشل میڈیا پر نعرے جاری تھے:
“یہی عبرتناک انجام ہے۔”
“کرم دین کو سلام۔”
“اسلام زندہ باد!”
اور کہیں ایک سطر میں، ایک اجنبی لڑکی نے لکھا:
“اگر میرے باپ نے بھی میری لاش لینے سے انکار کیا، تو یاد رکھنا، بدبو مجھ سے نہیں، تم سے اٹھے گی!”
