چاہتوں کے موسم میں ہم بھی مسکرائے ہیں
تیری یاد کے تارے دل میں جگمگائے ہیں
ہجر کی تپش اب کے رت بدل کے آئی ہے
ہم نے وصل کے بادل آنکھوں میں چھپائے ہیں
وقت کی لکیروں پر عکسِ یار باقی ہے
خواب کی حویلی میں نقش ہم نے پائے ہیں
زندگی کی راہوں میں دھوپ کا سفر بھی تھا
سایۂ تمنا میں دن کئی بتائے ہیں
لکھ رہی ہے اب رشناؔ داستاں محبت کی
لفظ کے گلستاں میں پھول ہم نے لگاۓ ہیں
-
رشنا اختر ایک بہترین لکھاری ہیں ۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی سوشل میڈیا انچارج اور مظفر گڑھ سے صدر ہیں ۔ گاہے بگاہے لکھتی رہتی ہیں اور انٹرویوز بھی کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
