یادوں کا سفر
بارش کی بوندیں چھت پر ٹپک رہی تھیں اور صحن میں خاموشی اتر آئی تھی۔ میں ہاتھ میں چائے کا کپ لیے چارپائی پر بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی۔ ہر بوند جیسے ماضی کی ایک کھڑکی کھول رہی تھی۔
وہ دن یاد آ رہا تھا جب بھائی مجھے سکول چھوڑنے جاتا رہا تھا ـ راستے بھر مذاق کرتا رہا۔ کبھی میرا پرس کھینچتا، کبھی آگے دوڑ کر کہتا:
پکڑ سکتی ہو تو پکڑ لو!
میں غصے سے روٹھ گئی تھی۔ اُس نے ہنس کر میرا ماتھا چوم لیا اور کہا تھا:
چھوٹی کبھی روٹھنا مت ـ میں ہمیشہ تیرے ساتھ ہوں۔
لیکن وہ وعدہ ادھورا رہ گیا۔
اُس کے جانے کے بعد گھر کی رونق جیسے بجھ گئی ہو۔ دیواروں پر تصویریں نہیں رہیں، یادوں کے دریچے بن گئیں۔ میں نے اب اس کمرے میں جانا چھوڑ دیا ہے جس میں ہم ایک ساتھ رہتے تھے اور بھائی مجھے کہا کرتا تھاـ
میں نے کہا تھا نا ـ میں تیرے ساتھ ہوں۔
میں اب اکثر دوسرے کمرے میں جا کر خاموش بیٹھی رہتی ہوں ـ اُس کی یادوں میں پڑی رہتی ہوں جن میں اب بھی اُس کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ کبھی کبھی یوں لگتا جیسے وہ دروازے سے اندر آئے گا، وہی پرانی مسکراہٹ لیے، اور کہے گا:
چلو چھوٹی، چائے پیتے ہیں۔
اب جب بھی جب بارش آتی ہے تو میرا دل بھر آتا ہےـ آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہنے لگتی ہوں:
بھائی! دیکھو تمہاری چھوٹی کتنی تنہا ہے۔
اچانک ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا سا آنے لگتا ہے ۔ میرے آنسو پلکوں سے گرنے لگتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ مجھے تسلی دے رہا ہو۔ دل نے کہا شاید یہ اُس کی دعا ہے، اُس کی محبت ہے، جو آسمان سے اتر رہی ہے۔
میں آنکھیں بند کر کے دھیرے سے پھیکا سا مسکرا دیتی ہوں ـ دل ہلکا سا ہو جاتا ہے ۔ بارش سے ڈر لگنے لگتا ہےـ یوں لگتا جیسے یہ بارش میرے بھائی کو تنگ کررہی ہے اس پہ برس رہی ہے ـ خود کو مضبوط کرنے کی بہت کوشش کرتی ہوں لیکن کوشش ہمیشہ ہی ادھوری رہ جاتی ہے ـ
