زبان کی نوک پر جنت یا جہنم

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

زبان کی نوک پر جنت یا جہنم

انسان کی زبان ایک چھوٹا سا عضو ہے، مگر اس کا اثر زندگی کے ہر گوشے پر پھیل جاتا ہے۔ یہی زبان کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہے اور یہی زبان کسی کے دل کو چھلنی بھی کر سکتی ہے۔ آج کے دور میں ہم اپنی ظاہری شکل و صورت کو سنوارنے کے لیے طرح طرح کے فلٹر استعمال کرتے ہیں، لیکن دلوں کو چیرنے والے الفاظ ادا کرنے سے پہلے ایک لمحے کو بھی نہیں رکتے۔ اگر ہم سیلفیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے اتنے محتاط ہو سکتے ہیں تو زبان سے نکلنے والے جملوں کے لیے فلٹر کیوں نہیں لگاتے؟

قرآن مجید انسان کو مسلسل متنبہ کرتا ہے کہ ہر بات جو زبان سے نکلتی ہے، وہ لکھی جا رہی ہے، محفوظ ہو رہی ہے اور اس کا حساب لیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: “انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر ایک نگران (فرشتہ) اُس پر مقرر ہوتا ہے جو اُسے فوراً لکھ لیتا ہے۔” (سورۃ ق، آیت 18)

ہر لفظ ایک ذمہ داری ہے اور ہر جملہ ہماری نیت اور مزاج کا آئینہ۔ اگر ہماری گفتگو کسی کو عزت دے، سکھ پہنچائے یا امید دلائے تو وہی بات جنت کے دروازے کھول سکتی ہے۔ لیکن اگر وہی زبان کسی کی دل آزاری کرے، عزت اچھالے یا شرمندگی کا باعث بنے تو وہ بات انسان کو جہنم کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے زبان کی حفاظت کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو ان سب (عبادتوں) پر غالب ہے؟”
پھر فرمایا: “اپنی زبان پر قابو رکھو۔” (ترمذی، حدیث 2616)

آج کے دور میں زبان کا زہر پھیلانے والے صرف بولنے والے نہیں بلکہ لکھنے والے بھی ہیں۔ سوشل میڈیا پر، موبائل پیغامات میں اور عام گفتگو میں ایسے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں جو بظاہر “معمولی” لگتے ہیں مگر سامنے والے کے دل میں زلزلہ برپا کر دیتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر لفظ محفوظ ہے اور ہر لفظ کا حساب دینا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی ایک کلمہ (ایسا) بولتا ہے جسے وہ معمولی خیال کرتا ہے، حالانکہ وہ بات اسے جہنم میں اتنا گرا دیتی ہے جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔” (بخاری، حدیث 6478)

ذرا غور کیجیے، یہ معمولی سمجھا جانے والا لفظ کسی کی عزت، سکون یا اعتماد کو پامال کر سکتا ہے۔ کتنے ہی رشتے ایک جملے سے ٹوٹ گئے، کتنے ہی خواب ایک طنز سے بکھر گئے، کتنے ہی لوگ کسی کے تلخ لہجے سے خاموش ہو گئے۔

آج تلخی، بے باکی اور بد زبانی کو “صاف گوئی” کا نام دے کر جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں، “میں تو منہ پر کہہ دیتا ہوں”۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رویہ اخلاقی بدصورتی کی علامت ہے۔ اسلام ہمیں نرمی، حکمت اور شائستگی سکھاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔” (بخاری: 6018، مسلم: 47)

خاموشی بعض اوقات زبان سے بہتر ہوتی ہے، خاص طور پر جب انسان کے جذبات قابو میں نہ ہوں۔ کیونکہ جذباتی لمحے میں کہا گیا جملہ انسان کو ساری زندگی کے پچھتاوے میں ڈال سکتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:
ترجمہ: “اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔” (سورۃ الحجرات، آیت 12)

یہ تمام احکام دراصل زبان اور سوچ کے فلٹر ہیں۔ انسان کو ہر لفظ ادا کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ جملہ کسی کی اصلاح کرے گا یا دل آزاری؟ یہ بات کسی کے لیے مشعلِ راہ ہو گی یا اندھیرا؟

زبان کی اصلاح صرف فرد کے کردار کو نہیں بدلتی بلکہ پورے معاشرے کو مہذب بنا دیتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی گفتگو میں نرمی، محبت اور حکمت کو شامل کر لے تو گھروں میں سکون ہو گا، رشتوں میں استحکام اور دلوں میں قربت۔ لیکن اگر یہی زبان زہر بن جائے تو معاشرہ بدنما، بدمزاج اور بدمزاق ہو جاتا ہے۔

یاد رکھیے! زبان ایک تلوار ہے، جو دلوں کو کاٹ سکتی ہے اور زبان ایک چراغ بھی ہے، جو محبت کی روشنی پھیلا سکتی ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم نے اپنی زبان سے کیا بکھیرنا ہے: روشنی یا زخم؟ مرہم یا نفرت؟ محبت یا تکلیف؟

کاش ہم اپنی گفتگو سے پہلے صرف ایک لمحہ ٹھہر جائیں، سوچیں، تولیں، پھر بولیں۔ کاش ہم زبان کے فلٹر کو دل کی نرمی، عقل کی روشنی اور اخلاق کی خوشبو سے سنوار سکیں۔ کیونکہ جنت اور جہنم کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے… جتنا زبان اور دل کے درمیان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *