تبصرہ برائے کتاب “ضمیر کی صدائیں”
مصنفہ زینب لغاری
از: مسرت لغاری
“ضمیر کی صدائیں” اور اس کی نوجوان مصنفہ “زینب لغاری” دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ ان کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس روحانی کتاب کو پڑھ کر حیرت یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہر لفظ میں مصنفہ خود موجود ہے۔ جو کچھ اس نے لکھا ہے اس میں اگر وہ خود موجود نہ ہوتی تو آج پڑھنے والوں کے ہاتھ میں یہ کتاب بھی نہ ہوتی۔ صد آفرین ہے اس روحانی قلمکار پر کہ ان تمام تر روحانی اقوالِ زریں میں وہ خود سانس لیتی اور تمام تر الہامی کیفیات میں سے گزری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جس نو عمری میں مصنفہ نے یہ غیر معمولی اقوال و افکار لکھے ہیں اس عمر کی لڑکیوں کو تو لفظ “ضمیر” کا لفظی ترجمہ بھی معلوم نہیں ہوتا جبکہ اس کی الہامی کارکردگی کے بارے میں وہ سوچ تک نہیں سکتیں۔ نو جوان مصنفہ زینب لغاری یہ غیر معمولی کتاب لکھنے پر مبارکباد کی مستحق تو ہے ہی لیکن صد آفرین کی مستحق اس لیے بھی ہے کہ عالمِ نو عمری میں دنیاوی کھیل تماشوں اور غیر ضروری مصروفیات میں غرق ہونے کے بجائے وہ اپنے اندر کے سفر پر روانہ ہو گئی۔ جہاں اللہ تعالیٰ سے سوال جواب کرتی رہی، عبادات میں مصروف رہی اور اپنی تسلی کے مطابق جو کچھ حاصل کر پائی وہ اقوال کی صورت میں لکھتی رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عمدہ کتاب مرتب ہو گئی۔ یہ اہم کتاب تمام تر لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے ضروری مطالعہ کے قابل ہے۔
دعا ہے کہ خدا کرے زینب لغاری اپنے اس سفر کو جاری رکھے بلکہ جاری رکھنے کی توفیق پاتی رہے۔ پڑھنے والے اس کی مزید روحانی تخلیقات کے منتظر ہیں۔
کتاب کے لیے ڈھیروں مبارکباد۔
