شاہانہ خٹک
السلام علیکم معزز قارئین
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر سلسلہ انٹرویو کے ساتھ میزبان رشنا اختر حاضر ہے ۔ آج ہماری مہمان شخصیت ہیں شاہانہ خٹک صاحبہ ۔
شاہانہ خٹک صاحبہ بچوں اور بڑوں کی رائٹر ہیں ۔سینیرجرنلسٹ ہیں ۔ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں۔ایک ہفت روزہ اخبار ” سلور جوبلی ” کی مینیجنگ ایڈیٹر ہیں ۔شاہانہ خٹک کا تعلق ،خیبر پختون خواہ کے علاقے ” کوہاٹ ” کے علاقی “لاچی” سےہے۔ان کے والدشاہ جہاں ۔۔عرصہ قبل روزگار کے سلسلے میں کراچی شفٹ ہو گئے تھے۔ وہ ٹیکسٹائل پرنٹنگ کے شعبے میں اہم عہدے پر متمکن رہے۔
شاہانہ خٹک صاحبہ کا بچپن کوہاٹ ،پھر فیصل آباد اور بعد اَزاں کراچی میں گزرا۔1995 میں ان کی شادی اردو کے ادیب اور جرنلسٹ ” محمد اختر ابن آس ” سے ہوگئی ۔انہوں نے لکھنے کا آغاز شادی کے بعد کیا۔پہلے پہل خواتین کے حوالے سے کچھ تحریریں لکھیں ،جو روزنامہ امت میں شایع ہوئیں ۔بعد اَزاں بچوں کے لیے بھی کچھ کہانیاں لکھیں ،جو روزنامہ امت ہی میں ہی گاہے گاہے شایع ہوتی رہیں ۔بچوں کی ذمے داریوں کے بعد ،اور گھر کی مصروفیات کے سبب انہوں نے کچھ سال لکھنا موقوف کیا،اب ایک بار پھر سے ان کا قلم لکھنے پر آمادہ ہے ،انہوں نے اس ضمن میں ،سوشل میڈیا پر خواتین کے لیے ایک ناو ل ” دشمن سرہ مینہ ” قسط وار لکھا ،جس نے خوب شہرت سمیٹی ،اس کے بعد بچوں کےلیے پھر سے کچھ کہانیاں لکھیں ،جو اَب سہ ماہی ادبیات اسلام آباد،اور دیگر رسائل میں میں شایع ہونا شروع ہوئی ہیں ۔
” شاہانہ خٹک صاحبہ کی کہانیاں ” ،شاہانہ خٹک کی پہلی کتاب ہے، جس میں ان کی کچھ پرانی اور کچھ نئی کہانیاں شامل کی گئی ہیں ۔ شاہانہ خٹک ،اردو پشتو،اور پنجابی پر عبور رکھتی ہیں ۔اپنے شوہر اور چار بچوں کے ساتھ کراچی میں مقیم ہیں ۔
آئیے شاہانہ خٹک صاحبہ سے گفتگوکرتے ہیں ۔
!رشنا اختر : السلام علیکم
شاہانہ خٹک : وعلیکم السلام
رشنا اختر : کچھ اپنے بارے میں بتائیے۔
شاہانہ خٹک :وعلیکم السلام! میں شاہانہ خٹک، ایک قلم دوست اور زندگی سے محبت کرنے والی انسان ہوں۔ خیبر پختونخوا کی سرزمین پر آنکھ کھولی، جہاں روایات کی خوش بو اور رشتوں کی گرمی میرے بچپن کا حصہ رہی۔ ادب میرے لیے صرف الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ احساسات کا سفر ہے۔ایک ایسا سفر جو دل سے شروع ہو کر دل تک پہنچتا ہے۔ میں ایک بیٹی، بیوی، ماں اور سب سے بڑھ کر ایک حساس مشاہدہ کرنے والی لکھاری ہوں، جو ہر منظر کو الفاظ کا جامہ پہنانے کی کوشش کرتی ہے۔
رشنا اختر : قلمی سفر کا آغاز کب ہوا۔؟
شاہانہ خٹک:قلم سے میرا رشتہ بچپن ہی میں جُڑ گیا تھا۔ اسکول کے زمانے میں ڈائری لکھنا میرا سب سے پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ابتدا میں یہ محض اپنے دِل کی باتیں کاغذ پر اُتارنے کا ایک خاموش ذریعہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ احساس ہوا کہ یہ لفظ صرف میرے نہیں، یہ تو کئی دلوں کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔ سنجیدگی سے لکھنے کا آغاز کالج کے دنوں میں کیا، جب میری پہلی تحریر ایک مقامی اخبار” امت” میں شائع ہوئی۔ وہ لمحہ میرے لیے محض ایک شروعات نہیں، بلکہ ایک وعدہ تھا کہ یہ سفر رُکے گا نہیں، چاہے کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔
رشنا اختر : قلمی سفر کا آغاز کب ہوا۔؟
شاہانہ خٹک: قلم کا آغاز کسی ایک دن، کسی ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔یہ تو شعور کے بیدار ہونے کا دوسرا نام ہے۔ میں کہتی ہوں کہ انسان کے اندر ایک خاموش تحریر پہلے سے لکھی جا رہی ہوتی ہے، اور جب احساسات لفظوں کا روپ دھار لیتے ہیں، تب قلمی سفر شروع ہوتا ہے۔
میرے لیے یہ آغاز اُس وقت ہوا جب میں نے جانا کہ زندگی صرف جینے کا نام نہیں، بلکہ اس کو محسوس کرنے اور اس احساس کو دوسروں تک پہنچانے کا بھی نام ہے۔ قلم میرے لیے ایک ہتھیار بھی ہے اور ایک چراغ بھی۔ایک ہتھیار جہالت کے خلاف، اور ایک چراغ جو اندھیروں میں روشنی بانٹتا ہے۔
قلمی سفر کا آغاز ہمیشہ دل کے ایک یقین سے ہوتا ہے۔اور وہ یقین اکثر ہمیں کسی اور کے الفاظ سے ملتا ہے۔ میرے لیے یہ لمحہ اس وقت آیا جب میرے شوہر، ابنِ آس محمد، جو خود ایک بہترین قلم کار ہیں۔ ایک بہترین اور مقبول پروفیشنل رائٹر ہیں، ڈراما رائٹر ہیں۔ انہوں نے میری میری رہنمائی کی ۔۔ مجھے حوصلہ دیا اور کہا کہ آپ مسلسل لکھیں، آپ لکھ سکتی ہیں تو پھر میں نے مسلسل لکھنا شروع کیاانہوں نےمیرے اندر کے لکھاری کو پہچانا۔ انہوں نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ایک جملہ کہا جو میرے لیے مشعلِ راہ بن گیا:
“آپ لکھ سکتی ہیں۔۔، اور آپ کو لکھنا چاہیے۔”
اس ایک جملے نے میرے خوف توڑ دیے، میرے اندر چھپی کہانیوں کو آواز دی۔ میں مانتی ہوں کہ حوصلہ دینے والا ایک شخص، ایک قلم کار کی پوری تقدیر بدل سکتا ہے، اور میرے لیے وہ شخص میرے شریکِ حیات ہیں۔شروع میں ان کے کہنے پر میں روزنامہ امت میں خواتین کے لیے مختلف نوعیت کی تحریریں لکھتی رہی ،پھر ایک اخبار ” سلور جوبلی ” کے نام سےنکالا،جس کی میں چیف ایڈیٹر تھی ،بعد ازاں کہانیاں بھی لکھنی شروع کیں ۔
رشنا اختر : عموماً پٹھان خاندان میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، ویمن ایمپاورمنٹ کو دُرست نہیں سمجھا جاتا۔ آپ اس مقام تک کیسے پہنچیں۔؟
شاہانہ خٹک: ہمارا خاندان پڑھے لکھے، خوش اخلاق اور روشن خیال لوگوں پر مشتمل ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بیٹیوں سے محبت کرنے والا ہے۔ ہمارے ہاں بیٹی کی تعلیم کوئی ممنوع بات نہیں، بلکہ ایک فخر کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں یہ سوچ عام ہے۔ میری والدہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ میں زندگی میں بڑے خواب دیکھوں اور انہیں پورا کروں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آرمی میں جاؤں، اور اس خواب کے لیے وہ دل سے خوش تھیں۔ میرے لیے یہ حوصلہ ایک نعمت تھا، کیوں کہ جہاں کئی بیٹیاں اجازت کے لیے جدوجہد کرتی ہیں، وہاں مجھے قدم بڑھانے کے لیے دعائیں دی گئیں۔ یہی محبت اور اعتماد میری سب سے بڑی طاقت بنی۔
پھرمیرے والد صاحب نہایت روشن خیال، خوش اخلاق، خوش مزاج، مہذب اور تعلیم یافتہ شخصیت تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم بیٹیاں اس دنیا میں اپنا ایک مقام خود قائم کریں، اپنی پہچان پیدا کریں۔ والد اور والدہ کا دیا ہواحوصلہ اور دعائیں میرے لیے سب سے بڑی طاقت بنیں۔ جہاں کئی بیٹیاں اجازت کے لیے جدوجہد کرتی ہیں، وہاں مجھے اپنے والدین کی مکمل حمایت اور اعتماد حاصل تھا، اور یہی محبت میرے سفر کا پہلا زینہ بنی۔
میں نے ہمیشہ یہ مانا ہے کہ تعلیم صرف کتابوں کے صفحات نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک روشنی، اور ایک خود اعتمادی کا نام ہے۔ پٹھان معاشرے میں بیٹی کا قلم پکڑنا اکثر ایک خاموش بغاوت کے مترادف سمجھا جاتا ہے، لیکن میں نے یہ سفر تنہا نہیں طے کیا۔ میرے والدین نے جہاں میرے لیے دُعا کی، اور میرے شوہر ابنِ آس محمد نے میرے خوابوں کو اپنے خواب سمجھا۔ انہوں نے کہا۔
“روایات کو توڑنا گناہ نہیں۔۔، اگر وہ روایات انسان کے پر کتر دیں۔”
یہی سوچ میرے لیے طاقت بنی۔ میں نے ہر قدم پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک پختون بیٹی عزت، وقار اور روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اپنے خواب پورے کر سکتی ہے۔
رشنا اختر : لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے۔۔؟
شاہانہ خٹک : انسانوں کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ ہر شخص اپنے تجربات، ماحول اور سوچ کا مظہر ہوتا ہے۔ کوئی فطری طور پر برا یا اچھا نہیں، بلکہ حالات اور تربیت اسے وہ بناتے ہیں جو وہ ہے۔
موجودہ معاشرہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ایک طرف بے پناہ ترقی، علم اور آگاہی ہے، اور دوسری طرف عدم برداشت، اَنا پرستی اور مادہ پرستی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں محبت، رواداری اور سچائی کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ معاشرے کی اصل تبدیلی کتابوں، تعلیم اور کردار کی مضبوطی سے آئے گی، محض دعووں سے نہیں۔
رشنا اختر : کہتے ہیں کہ ڈراما معاشرے کی عکاسی کرتا ہے لیکن کچھ عرصے سے پاکستانی ڈراما چند موضوعات میں اَٹک کر رہ گیا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گی۔؟
شاہانہ خٹک : ڈراما دراصل معاشرے کا ایک آئینہ ہے، مگر افسوس کہ آج کل یہ آئینہ دھندلاسا ہو گیا ہے۔
پہلے کےڈرامے ہمارے معاشرتی رویوں، خاندانی قدروں اور کردار کی تعمیر کے موضوعات پر ہوتے تھے، مگر اب زیادہ تر چند مخصوص اور سنسنی خیز موضوعات تک محدود ہو گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ناظرین کی سوچ کو وُسعت دینے کی بہ جائے اسے ایک ہی دائرے میں گھمایا جا رہا ہے۔ میری نظر میں ڈرامے کو محض تفریح نہیں بلکہ اصلاح اور آگاہی کا ذریعہ ہونا چاہیے، ورنہ یہ اپنی اصل روح کھو بیٹھتا ہے۔
رشنا اختر : ڈرامے میں متعصب موضوعات کو شامل کیا جا رہا ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا لکھاری اور پروڈیوسرز کے پاس نئے موضوعات کی کمی ہوتی ہے یا اس کے پیچھے بزنس مائنڈ سیٹ ہوتا ہے۔؟
شاہانہ خٹک : میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ “بزنس مائنڈ سیٹ” ہے۔ پروڈیوسرز اور چینلز وہی دکھانا چاہتے ہیں جو فوری ریٹنگز لاسکے، چاہے اس سے معاشرے میں منفی سوچ ہی کیوں نہ پھیلے۔ نئے موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ہمارے گرد بے شمار کہانیاں سانس لے رہی ہیں، لیکن ان پر توجہ کم دی جاتی ہے کیوںکہ وہ فوری سنسنی یا تجارتی فائدہ نہیں دیتیں۔ دوسری طرف، کچھ لکھاری بھی محفوظ راستہ اختیار کرتے ہیں اور وہی پرانے فارمولے دہراتے ہیں۔ میرے نزدیک اصل تخلیق وہ ہے جو رسک لے، معاشرتی سچائی کو نکھار کر پیش کرے، اور ناظر کو سوچنے پر مجبور کرے، نہ کہ صرف لمحاتی تفریح دے۔
رشنا اختر : آپ کی شائع شدہ کتب کے نام۔؟
جواب: میرے ادبی سفر میں اب تک کئی تحریریں قارئین تک پہنچ چکی ہیں، مگر کتاب کی صورت میں اپنا کام دیکھنا ایک الگ ہی خوشی دیتا ہے۔ میری شائع شدہ تاحال ایک ہی کتاب ہے ۔اس میں وہی کہانیاں اور مضامین شامل ہیں جو دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔ اس کتاب کا نام ہے ” شاہانہ خٹک کی کہانیاں۔” قارئین نے اسے بے حد سراہا۔ اس کتاب میں بچوں کی زندگی کے مختلف رنگ، معاشرتی رویوں کے عکس اور انسانی جذبات کی گہرائی کو کہانیوں کے قالب میں پیش کیا گیا ہے۔
ہر کہانی میرے دل کی دھڑکن اور میری مشاہدہ کرنے والی آنکھ کا عکس ہے۔ اس کتاب کے ذریعے میں نے کوشش کی ہے کہ قاری نہ صرف محظوظ ہو بلکہ سوچنے پر بھی مجبور ہو۔
رشنا اختر : مسز ابنِ آس محمد کب اور کیسے بنیں۔۔؟ کیا پسند کی شادی تھی؟
شاہانہ خٹک :میری اور ابنِ آس محمد کی زندگی کا یہ خوب صورت باب 1995 میں لکھا گیا، جب ہم نے شادی کے بندھن میں قدم رکھا۔ اس لمحے سے نہ صرف ایک نیا سفر شروع ہوا بلکہ میری زندگی کی بنیاد میں محبت، اعتماد اور ساتھ کا وہ ستون شامل ہوا جس نے میرے ہر خواب کو سہارا دیا۔ ہم دونوں کے درمیان فہم و فراست، ادب اور زندگی سے محبت کا رشتہ پہلے دن سے قائم ہے، اور یہی رشتہ وقت کے ساتھ اور مضبوط ہوا۔ میں یہ مانتی ہوں کہ شریکِ حیات اگر آپ کے خوابوں کو پہچان لے اور ان کا ہمسفر بن جائے، تو زندگی ایک مکمل کہانی بن جاتی ہے۔
رشنا اختر : آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا۔؟
شا ہانہ خٹک : زندگی ایک امانت ہے،لمحوں، رشتوں اور احساسات کی امانت،جسے محبت، شکرگزاری اور خدمت کے ساتھ واپس لوٹانا ہی اصل کام یابی ہے۔
زندگی اور کچھ بھی نہیں۔۔ تیری میری کہانی ہے۔
ایک ایسا سفر جہاں خوشی اور غم ایک ہی کتاب کے مختلف ابواب ہیں، اور ہر صفحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل حسن ساتھ چلنے میں ہے، چاہے موسم جیسے بھی ہوں۔
ایک ایسی کہانی جس میں خوشیاں، غم، قربانیاں اور خواب سب ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور آخرکار یہی لمحے ہمارے اصل وجود کا تعارف بن جاتے ہیں۔
رشنا اختر : آپ دونوں ادب سے وابستہ ہیں، کبھی کسی اسکرپٹ پر اختلافِ رائے ہوا؟ تحریر پر زیادہ تبصرہ کون کرتا ہے؟
شاہانہ خٹک : اختلافِ رائے ہمارے لیے تخلیقی عمل کا حصہ ہے، رکاوٹ نہیں۔ کبھی کبھی ہم ایک ہی کردار یا منظر کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں، لیکن یہی مکالمہ تحریر کو مزید بہتر بنا دیتا ہے۔
ا بنِ آس محمد چوں کہ تجربہ اور گہرائی میں مجھ سے آگے ہیں، اس لیے وہ اکثر میری تحریروں پر تبصرہ کرتے ہیں اور رہنمائی دیتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک اچھا قلم کار وہی ہے جو تنقید کو خوش دلی سے قبول کرے، اور میرے لیے یہ خوش قسمتی ہے کہ میرا شریکِ حیات میرا سب سے بڑا ناقد بھی ہے اور سب سے بڑا حوصلہ دینے والابھی۔
ہمارے درمیان اختلافِ رائے تخلیقی مکالمے کا حصہ ہے، رکاوٹ نہیں۔ میں کہانی میں روح ڈالتی ہوں اور ابنِ آس محمد اپنی فنی مہارت سے اسے سنواردیتے ہیں۔ وہ میری تحریروں کو ایڈٹ کرتے ہیں، جملوں کو نکھارتے ہیں اور اس میں وہ فنی باریکیاں شامل کرتے ہیں جو قاری کے دل تک اثر چھوڑتی ہیں۔ پھر مسکرا کر کہتے ہیں۔
“اب یہ کہانی جہاں چاہو بھیج دو۔۔، یہ بالکل تیار ہے۔”
میں سمجھتی ہوں کہ ایک قلمکار کے لیے اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا شریکِ حیات نہ صرف شریکِ زندگی ہو بلکہ شریکِ فن بھی ہو۔
رشنا اختر : آپ اور محترم ابنِ آس محمد اکثر مناسب فوڈ پوائنٹ پر کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے کیونکہ شوبز سے وابستہ لوگ اسٹیٹس کانشیس ہوتے ہیں؟
شاہانہ خٹک: ہمارے لیے کھانے کی اصل لذت ذائقے میں ہے، نہ کہ سونے کے چمچ اور قیمتی میز پر۔۔
ہم دونوں سادہ مگر معیاری کھانوں کے شوقین ہیں، اور اکثر ایسے فوڈ پوائنٹس کا انتخاب کرتے ہیں جہاں ذائقہ خالص اور ماحول دلکش ہو، چاہے وہ کسی بڑے ریستوران کی چمک دمک نہ رکھتا ہو۔ ہمیں لگتا ہے کہ کھانے کا اصل حسن وہ خوشبو اور مزہ ہے جو آپ کو اپنے بچپن، گھر یا کسی خوبصورت یاد کی طرف واپس لے جائے۔ شوبز کی دنیا میں اسٹیٹس کا دباؤ بہت ہوتا ہے، مگر ہم نے ہمیشہ اپنے ذوق اور خوشی کو ترجیح دی ہے، نہ کہ دوسروں کی نظر کو۔
رشنا اختر : نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
شاہانہ خٹک: لکھنا ایک عبادت ہے اور الفاظ ایک امانت۔
نئے لکھنے والوں سے میری درخواست ہے کہ لکھتے وقت سچائی کو تھامے رکھیں، چاہے وہ مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ اپنی تحریر میں احساس اور مشاہدہ شامل کریں، کیوں کہ قاری کے دل تک پہنچنے کے لیے محض لفظ کافی نہیں، دل کا اخلاص ضروری ہے۔ شہرت کے پیچھے بھاگنے کی بہ جائے اپنی تحریر کے معیار کو ترجیح دیں، اور کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ کا قلم چھوٹا ہےیا نیا ہے۔،سچ اور خلوص سے لکھا ایک جملہ پوری دنیا بدل سکتا ہے۔
رشنا اختر : میزبان رشنا کے لیے چند جملے۔؟
شاہانہ خٹک: رشنا ایک نہایت سمجھ دار، پڑھی لکھی، اور قابل لڑکی ہیں، ما شاءاللہ ایک بہترین رائٹر بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، سوچ میں گہرائی، اور انداز میں نرمی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف مکالمے کو خوب صورت بناتے ہیں بلکہ دوسروں کو سننے، سمجھنے اور محبت بانٹنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔
میں ان کے لیے دعاگو ہوں کہ یہ ہمیشہ خوش رہیں، لکھتی رہیں، اور اپنی روشنی سے دوسروں کے دلوں کو منور کرتی رہیں۔
رشنا اختر : معزز قارئین امید ہے آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اپنی راۓ کا اظہار ضرور کیجئے گا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ
