فاطمہ شیروانی
السلام علیکم معزز قارئین
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر سلسلہ انٹرویو کے ساتھ میزبان رشنا اختر حاضر ہے ۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ایک باہمت خاتون ہیں جنہوں نے اپنی محنت و لگن سے اپنا مقام بنایا ہے ۔ محترمہ فاطمہ شیروانی جو لکھاریہ ہونے کے ساتھ ساتھ یاسر پبلیکیشنز کی بانی و چیئرمین بھی ہیں تو چلیئے وقت ضائع کیے بغیر گفت گو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں
رشنا اختر : السلام علیکم ! کیسی ہیں آپ ؟
فاطمہ شیروانی : جی الحمداللہ۔۔۔بالکل ٹھیک ہوں۔
رشنا اختر : کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
فاطمہ شیروانی : میرا نام فاطمہ شیروانی ہے۔پیداٸش لاہور کی ہے۔مڈل کلاس فیملی سے تعلق ہے اور زندگی میں کم وبیش انہی مسائل کا سامنا کیا جن کا سامنا وطن عزیز میں ایک مڈل کلاس فیملی کو کرنا پڑتا ہے۔تعلیم کا سفر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے مکمل کیا۔عملی زندگی کا آغاز ایک سکول میں پڑھانے سے کیا اور پھر بہت سال استاد بننے کی مشق میں گزرئے۔ابھی بھی ایک کالج میں پڑھا رہی ہوں۔پڑھانے کے ساتھ ساتھ باقی کام بھی چل رہے ہیں۔
رشنا اختر : پبلیشر بننے کا خیال کیسے آیا ؟
فاطمہ شیروانی : پبلشنگ کی طرف آنے کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔تین سال پہلے جب کرونا آیا تو جہاں میں جاب کرتی تھی وہاں میرے انتظامیہ کے ساتھ کچھ ایشوز ہو گئے اور میرے لئے جاب کرنا ممکن نہیں رہا تو میں نے جاب چھوڑ دی۔یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ میری سیلری اچھی تھی اور میرے ادارے کے کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ میں جاب نہ چھوڑوں۔معاملات ٹھیک ہو جائیں گے لیکن مجھے مناسب یہی لگا کہ میں اس ادارے کو چھوڑ دوں اور دوبارہ کبھی جاب کی طرف نہ آؤں۔میں نے اپنا بزنس کرنے کا فیصلہ کیا اور سب سے بہتر کام مجھے پبلیشنگ کا ہی لگا کیونکہ کتابوں سے جڑے تمام تر کاموں سے کسی نہ کسی حد تک آگہی تھی۔26 نومبر 2021 کو میں نے یاسر پبلیکیشنز کی بنیاد رکھی۔یاسر میرے بھائی کا نام ہے جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ان کے انتقال کو بہت سال بیت چکے ہیں لیکن میرے لئے وہ ابھی بھی زندہ ہی ہیں اور اس ادارے کے قیام کا مقصد ایک طرح سے ان کے نام کو زندہ رکھنے کی کوشش بھی ہے۔اس سال نومبر میں میرے اس ادارے کے تین سال کا سفر مکمل ہو جائے گا اور تین سال کے اس سفر میں بہت کچھ سہا،کچھ دوستوں سے ہمیشہ کے لئے تعلق ختم ہو گیا،کچھ نئے تعلق بن گئے اور احساس ہوا کہ زندگی کی تحریر کااصل متن آپ کو بزنس کر کے ہی سمجھ آتا ہے۔
رشنا اختر : کیا پاکستان حکومت کی جانب سے پبلیکیشنز ایپ یا ای لائبریری موجود ہے جہاں اُردو ادب کا تقریباً خزانہ موجود ہو ؟
فاطمہ شیروانی : میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہے۔مختلف ویب سائٹس پر آپ کو اردو ادب سے متعلقہ چیزیں مل جائیں گی ۔
رشنا اختر : پاکستانی معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے ایسے میں ایک خاتون کا انڈیپینڈنٹ ہونا کیسا ہے ؟ کئی مسائل گھریلو زندگی بھی متاثر کرتے ہیں اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گی ؟
فاطمہ شیروانی : جی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ , پبلشنگ کو بنیادی طور پر ہمارے ہاں مردوں کے کرنے والا کام ہی سمجھا جاتا ہے اور شاید اسی لئے خواتین اس طرف کم ہی آتی ہیں جبکہ انٹرنیشنل لیول پر اس شعبے میں مرد کم اور خواتین زیادہ ہیں۔پبلشنگ کا مرکز اردو بازار ہے،مجھے یاد ہے جب پہلی بار میں اپنی دوست مریم کے ساتھ اردو بازار گئی اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں سے ملی اور ان سے کاغذ خریدا تو وہ سب مجھے دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ ایک لڑکی اردو بازار کی تنگ گلیوں میں پاگلوں کی طرح اچھے کاغذ اور چھاپہ خانے کی تلاش میں پھر رہی ہے بہرحال جن لوگوں سے کام کروایا وہ بھروسے کے لوگ اور عزت کرنے والے ہیں یہی وجہ ہے کہ میں اب تک اس شعبے سے وابستہ ہوں۔صنفی امتیاز کا سامنا تو بحیثیت خاتون ہمیں ہر شعبے میں کرنا پڑتا ہے اور جس نے آگے بڑھنا ہو وہ ان چیزوں کو اہمیت نہیں دیتا سو میں بھی سب منفی باتوں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھتی رہی۔
رشنا اختر : اس اے آئی کے دور میں شوق مطالعہ کیسے پروان چڑھایا جائے؟
فاطمہ شیروانی : اس کے لیے آپ کو خوبصورت اور معیاری کتب منظرعام پر لانی پڑیں گی تاکہ بچے کتب بینی کی طرف راغب ہوں۔بچوں کو اخبار پڑھنے کی عادت ڈالیں۔لاٸبریز کی تعداد کو بڑھاٸیں اس سے یقیناً پڑھنے کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔
رشنا اختر : گھریلو مصروفیات کے ساتھ ساتھ ایک ادارہ چلانا کیسا ہے جبکہ اس میں دونوں طرف توجہ اور محنت درکار ہوتی ہے ؟
فاطمہ شیروانی : جی بالکل مشکل تو ہے لیکن کرنا تو پڑتا ہے ۔الحمداللہ گھریلومصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنا ادارہ بھی دیکھ رہی وں۔
یاسر پبلیکیشنز کے زیراہتمام اب تک پچاس سے زائد کتب کی اشاعت کا سفر مکمل ہو چکا ہے اور مزید کتب زیر اشاعت ہیں۔پچھلے سال یاسر پبلیکیشنز کے زیراہتما م ایک جرمن رائٹر سرجیت سنگھ جرمنی کی کتاب ”موسے والا کون“ جو گورمکھی زبان میں لکھی گئی تھی اس کا اردو ترجمہ شائع ہوا جو ہماری پہلی بین الا قوامی تصنیف تھی۔اس کے علاوہ بھی ہم اپنے لکھاریوں کی کتب کی تقریب رونمائی ”مستنصر حسین تارڑ“ کے تکیہ تارڑ پر بھی کروا چکے ہیں۔ملکی اور بین الاقوامی کتب میلوں میں بھی یاسر پبلیکیشنز کی کتب آپ کو نمایاں نظر آئیں گی۔اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی لائبریریوں میں بھی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنی زیادہ سے زیادہ کتب بھیج سکیں۔اگلے سال اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر میرا اس شعبے میں کچھ مزید نئے تجربات کرنے کا ارادہ ہے۔
رشنا اختر : زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
فاطمہ شیروانی : زندگی نے بہت سے سبق دٸیے ہیں اور کوٸی سبق کار آمد تب ہی ہوتا ہے جب اس سے سیکھا جائے ۔ایک شعر ہے
کچھ اور سبق ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے
کچھ اور سبق ہم کو زمانے نے سیکھاٸے
رشنا اختر : کون کون سے ممالک کے دورے کر چکی ہیں ؟
فاطمہ شیروانی : میں متحدہ عرب امارات اور ایران کا دورہ کر چکی ہوں۔
رشنا اختر : آپ نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تجربہ کیسا رہا ؟
فاطمہ شیروانی : جی ایران کا تجربہ بہت اچھا رہا مختلف بین الاقوامی پبلشرز سے ملاقات ہوٸی اور معاہدے ہوٸے اور یقیناً اس حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
رشنا اختر : پاکستانی پبلشرز اور بین الاقوامی پبلشرز میں چند نمایاں فرق جو آپ نے محسوس کیے۔
فاطمہ شیروانی : پاکستانی پبلشرز اپنے ملک تک محدود ہیں۔وہ اپنے ادب کو ملک سے باہر لے کر جانے کی خواہش ہی نہیں رکھتے جبکہ بین الاقوامی پبلشرز دنیا بھر میں اپنے ادب کو متعارف کرواتے پھر رہے ہیں بس ہہی بنیادی فرق ہے۔
رشنا اختر : عصرِ حاضر میں کتب بینی کے رحجان کے بارے کیا کہنا چاہیں گی ؟
فاطمہ شیروانی : ہم لوگ کتاب نہیں خریدتے بلکہ توقع کرتے ہیں کہ کتاب تحفے میں ملے۔ اگر ہم کتاب خریدکر دوسروں کو تحفے میں دیں تو اس سے معاشرے میں ایک مثبت سرگرمی کا آغاز ہو گا اورجب یہ روایت بن جائے گی تو آنے والی نسلوں کے ذہنوں کی آبیاری کا کام کرے گی۔
رشنا اختر : مارکیٹ میں پبلیشرز کی بھرمار ہے معیاری و غیر معیاری مواد چھاپ دیا جاتا ہے ۔ ایک پبلشر کے لیے تحریر کا معیاری ہونا کیوں ضروری ہے؟
فاطمہ شیروانی : تحریر جتنی معیاری ہو گی اتنی ہی کتاب عمدہ چھپے گی۔
رشنا اختر : آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
:فاطمہ شیروانی
“زندگی ایک امتحان ہے”
رشنا اختر : زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے مطمئن کیا ؟
فاطمہ شیروانی : بہت کچھ کھو گیا اور بہت کچھ پا لیا۔جو کھو گیا اس کا غم نہیں کیونکہ اللہ نے اس کے متبادل کے طور پر بہت بہترین عطا کیا۔الحمداللہ
رشنا اختر : کیا حکومت پاکستان کی جانب سے لکھاریوں اور پبلیشرز کے لیے کوئی سہولت موجود ہے ؟
فاطمہ شیروانی : نہیں لکھاریوں اور پبلشرز کے لیے سہولیات کا فقدان ہے اور حکومت کی طرف سے اس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔
رشنا اختر : ملکی سطح پر پبلیشرز کے لیے کوئی حکومتی پلیٹ فارم جہاں بہترین کتب میلہ لگتا ہو جبکہ ہر طرف اے آئی چھایا ہوا ہے ۔
فاطمہ شیروانی : ملکی سطح پر کتب میلے منعقد ہوتے ہیں جیسے لاہور اور کراچی میں بڑے بین الاقوامی کتب میلے لگتے ہیں جہاں پر بڑی تعداد میں کتاب سے محبت کرنے والے لوگ آتے ہیں اور کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔
رشنا اختر : آپ نے حال ہی میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی پہلی ادبی کانفرنس میں شرکت کی اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گی ؟
جی انٹرنیشنل یونین آف راٸٹرز ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں سے نٸے لکھنے والے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور پہلی ادبی کانفرنس کا تجربہ ہم سب کے لٸے بہت اچھا رہا۔
رشنا اختر : نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
فاطمہ شیروانی : نٸے لکھنے والوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ عمدہ اور معیاری ادب کو فروغ دیتے رہے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں۔
رشنا اختر : معزز قارئین امید ہے آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا ۔ اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

اللّٰہ تعالیٰ فاطمہ آپی کو ہمیشہ خوش رکھے ۔
آمین
ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہترین انٹرویؤ ماشاءاللہ