کبھی ظاہر، کبھی بادل میں چھپا ہے دیکھنا
چاند پھر تاروں کے جھرمٹ میں ہنسا ہے دیکھنا
ریت کے ٹیلوں پہ جیسے نور کی چادر گری
رات کا آنچل فضا میں کھل گیا ہے دیکھنا
پھر سبک بادل کے ٹکڑے دوڑتے ہیں چاند پر
اک حسیں پردہ ہوا نے تان دیا ہے دیکھنا
روٹھ کر بادل سے وہ نکلا ہے باہر اس طرح
جس طرح کوئی اچانک مسکرایا ہے دیکھنا
کھیل یہ آنکھ مچولی کا چلے گا رات بھر
آسماں پہ عکسِ الفت ڈھل رہا ہے دیکھنا
روشنی کی لہر ٹھہری ہے فضا کے ہاتھ پر
چاندنی کا جادو ہر سو بکھرا ہے دیکھنا
-
رشنا اختر ایک بہترین لکھاری ہیں ۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی سوشل میڈیا انچارج اور مظفر گڑھ سے صدر ہیں ۔ گاہے بگاہے لکھتی رہتی ہیں اور انٹرویوز بھی کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
