کبھی ظاہر، کبھی بادل میں چھپا ہے دیکھنا

کبھی ظاہر، کبھی بادل میں چھپا ہے دیکھنا

چاند پھر تاروں کے جھرمٹ میں ہنسا ہے دیکھنا

​ریت کے ٹیلوں پہ جیسے نور کی چادر گری

رات کا آنچل فضا میں کھل گیا ہے دیکھنا

​پھر سبک بادل کے ٹکڑے دوڑتے ہیں چاند پر

اک حسیں پردہ ہوا نے تان دیا ہے دیکھنا

​روٹھ کر بادل سے وہ نکلا ہے باہر اس طرح

جس طرح کوئی اچانک مسکرایا ہے دیکھنا

​کھیل یہ آنکھ مچولی کا چلے گا رات بھر

آسماں پہ عکسِ الفت ڈھل رہا ہے دیکھنا

​روشنی کی لہر ٹھہری ہے فضا کے ہاتھ پر

چاندنی کا جادو ہر سو بکھرا ہے دیکھنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *