بے ضمیر حکمران

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔


بے ضمیر حکمران

میں سوچتی ہوں کہ اہلِ اقتدار غزہ میں جاری ناقابلِ برداشت ظلم کے خلاف عملی اقدام اٹھانے میں کیوں ناکام ہیں؟ محض زبانی بیانات اور رسمی مذمتیں شاید صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ عوام یہ محسوس کریں گویا وہ فکرمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر عوامی دباؤ نہ ہوتا تو شاید یہ دکھاوا بھی نہ ہوتا۔
ان کے دل دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ آخرت کی جواب دہی کا احساس کہیں پسِ پشت چلا گیا ہے۔ اقتدار کی کرسی، ذاتی مفاد اور آسائش ان کی نگاہوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ وہ یا تو حقیقت سے منہ موڑ چکے ہیں یا اسے دیکھنے سے گریزاں ہیں۔
مزاحمت کرنا عوام کا نہیں بلکہ قیادت کا فرض ہوتا ہے۔ آواز اٹھانا، قدم بڑھانا، ظلم کے سامنے ڈٹ جانا؛ یہ سب حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ جب ذمہ دار اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں تو نظام بکھرنے لگتا ہے اور انصاف مفلوج ہو جاتا ہے۔
آج مسلم دنیا اس ظلمِ عظیم کے سامنے طویل عرصے سے خاموش و کمزور دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہی “وَہن” ہے جس کا ذکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم حکمران بیانات کے بجائے عملی اقدامات کی طرف آئیں۔
غزہ کے لیے ایک مؤثر اور مشترکہ لائحۂ عمل ترتیب دیں، سیاسی و سفارتی سطح پر متحد ہو کر مظلوموں کا مقدمہ لڑیں، اقتصادی دباؤ کے ذریعے ظالم طاقتوں کو ان کے ظلم سے باز رکھیں اور اپنی عوام کو یہ یقین دلائیں کہ امتِ مسلمہ اب بھی ایک جسم کی مانند ہے، جس کے کسی حصے پر ظلم ہو تو سارا وجود تڑپ اٹھتا ہے۔
اللہ ہم سب کو ایمان، جرات اور عدل کے ساتھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
وہ مردہ ضمیروں کو بیدار کرے اور حکمرانوں کے دلوں میں وہ احساس پیدا کرے جو امت کے زخموں کا مداوا بن سکے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *