جوانی سنوار لو
زندگی کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کون سی ہے؟ مال و دولت یا وقت؟
یقیناً وقت، اور خاص طور پر جوانی کا وقت۔
کیا خوب تم نے لطف جوانی کا اٹھایا
یہی وقت قیمتی تھا جسے تم نے گنوایا
ایک انسان کی زندگی تین مراحل سے گزرتی ہے، بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن تو کھیل کود ہنگم آرائی اور ناسمجھیوں میں گزر جاتا ہے، جبکہ بڑھاپا عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے کہ جہاں اس کی تمام تر طاقتیں اور شوخیاں دم توڑ چکی ہوتی ہیں اور اب وہ کسی سہارے کا منتظر اپنا تھکا ٹوٹا بدن لیے زندگی کی آخری منزلوں کو سلامتی سے پار لگانے کی چاہ میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی اور کوئی چاہت نہیں ہوتی۔
اب رہی جوانی؛ تو یہی ایک عرصہ عمر کا وہ قیمتی حصہ ہوتا ہے کہ جس میں وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بخوبی استعمال کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جرات و بہادری، انقلاب و انتشار کے اوصاف لیے یہ نوجوان کئی گھاٹیاں اور کئی محاذ پار کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ جب وہ تندرست و توانا ہوتا ہے اور اپنی جسمانی، ذہنی، روحانی اور اخلاقی قویٰ کا استعمال بہترین انداز اور پوری قوت و طاقت کے ساتھ کر سکتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام تر اوصاف کو مثبت رخ دیا جائے اور یہ ممکن ہے صرف اور صرف مثبت تربیت سے۔
جی ہاں! یہ جوانی کی عمر اللہ کی طرف سے انسان کے لیے نہایت قیمتی تحفہ ہے، جس میں اسے کئی صلاحیتوں سے نوازا جاتا ہے۔ معروف قول کے مطابق شباب یعنی جوانی کا عرصہ بلوغت سے لے کر 30 یا 32 سال تک کا ہے، جس میں کیے گئے کارنامے اس کی زندگی کی کہانی مرتب کرتے ہیں۔ اس کے بعد سہولت کی عمر ہے، جو 40 سال یا دوسرے قول کے مطابق 50 سال تک ہے اور اس کے بعد بڑھاپا ہے۔ لہذا جو بلوغت کے بعد 15 سے 18 سال ہیں، یہی انسان کی زندگی کا وہ قیمتی وقت ہوتا ہے، جسے “جوانی” کہتے ہیں۔ اگر اس پر محنت کر کے اسے سنوار لیا جائے تو دنیا و آخرت سنور سکتی ہے اور اگر اسے غفلت کے اندھیروں میں گزار دیا تو نہ دنیا ہاتھ آتی ہے اور نہ آخرت۔ اگر کچھ رہ جاتا ہے تو وہ ہے پچھتاوا، جو کسی کام کا نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سات لوگوں کو اللہ اپنے عرش کا سایہ دے گا، ان میں ایک وہ نوجوان بھی ہے جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری۔” (بخاری، مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جوانی کا صحیح استعمال انسان کو کتنے بلند مقام تک پہنچا سکتا ہے۔
اب یہ مربی پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ماتحت کی جوانی اور اس میں موجود صلاحیتوں کو بروکار لانے اور تراش خراش کر کے نکھارنے میں معاون بنتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی مربی (تربیت کرنے والا) ضرور ہوتا ہے، والدین کی شکل میں یا اساتذہ کی صورت۔ کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے زندگی کی بھاگ دوڑ سکھا رہا ہوتا ہے۔ لہذا ان پر بہت بھاری اور عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی اس نہج پہ تربیت کریں کہ آنے والے وقت میں وہ افراد معاشرے کے لیے مفید اور کارگر ثابت ہوں نہ کہ نقصان دہ اور ناکارہ۔ صرف معاشرے کے لیے ہی نہیں، بلکہ خود اپنی ذات کے لیے بھی صدقہء جاریہ بنیں، نہ کہ گناہِ جاریہ۔
بچپن سے ہی ان کی تربیت میں ان تمام اصول و ضوابط کو ملحوظِ خاطر رکھ کر بچے کو پروان چڑھایا جائے، جو اس کی جوانی کی عمر کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔ یہ ملبہ ہم قطعاً بچے پر نہیں ڈال سکتے کہ اس کی اپنی وجہ سے اس کی جوانی خراب ہوئی، کیونکہ کوئی بچہ بھی اپنی تربیت آپ نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے پیچھے ماحول اس کے والدین اور اساتذہ کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے جس کو سمجھنے کی انہیں اشد ضرورت ہے۔ وگرنہ کل اس بچے کے بگڑنے کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں ٹھہرا سکتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
لہذا تمام سرپرستوں کو سر جوڑ کر یہ بات سوچنی اور غورِ بحث لانی چاہیے کہ کس طرح ہم بچوں کی جوانی کو دنیا و آخرت کمانے کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ یہ لفظ دنیا و آخرت ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کمانا ہی سکھا دیں اور آخرت سے بے بہرہ ہوں۔ اس سے زیادہ گھاٹے کا سودا اور کیا ہو سکتا ہے کہ فانی دنیا کے لیے ابدی دنیا کو داؤ پر لگا دیا جائے اور ایسا بھی نہ ہو کہ صرف دین کی چند باتیں بتا دیں اور دنیا کا کوئی فن و ہنر ہاتھ نہ دیا۔ خدارا! ایسا بھی نہ کریں، کیونکہ اللہ نے ہر بچے کو مختلف صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں جانا جائے، سمجھا جائے اور ان پر مزید کام کر کے انہیں نکھارا جائے، کیونکہ یہی صلاحیت انسان کو زندگی میں آگے لے جانے اور ترقی کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ دین اور دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلیں، تاکہ وہ بچہ ایک مکمل زندگی گزار سکے، نہ کہ کنفیوژن کا شکار ہو کر غلط فیصلے کر بیٹھے۔ اسے زندگی کے تمام اتار چڑھاؤ، نشیب و فراز اور حالات کی کسوٹی سے آگاہ کر دیا جائے تاکہ وہ وقت آنے سے پہلے ان حالات کے لیے تیار ہو سکے اور ہمت و بہادری سے ہر حال کا مقابلہ کر سکے۔ مثبت اور منفی کی کسوٹی سمجھائی جائے، اچھے برے، صحیح غلط، جائز ناجائز اور حلال حرام کے فرق کو اس طرح واضح کر دیا جائے کہ زندگی کے کسی موڑ پر وہ اکیلا بھی ہو تو اسے یہ سبق نہ بھولے۔ ایسا نہ ہو کہ بے خبری کی وادیوں میں تنہا چھوڑ دیا جائے، جہاں اسے کچھ سمجھ نہ آئے کہ کب کیا کرنا ہے؟ ہر سچویشن سے نمٹنا اور ہینڈل کرنا سکھایا جائے۔ جسے وقت کی تیز آندھیاں نہ توڑ سکیں اور نہ کمزور کر سکیں۔ اسے ہر حال میں ثابت قدمی سکھائی جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن سیرت مبارکہ سے قصے و واقعات سنائے جائیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی اطاعت سکھائی جائے اور پھر وہ دن دور نہیں کہ ہمارے ہاں بھی طارق بن زیاد رحمہ اللّٰہ، محمود غزنوی رحمہ اللہ، صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات پیدا ہوں گی۔ اس کے لیے تین کام ضروری ہیں: ایک خالص نیت، پختہ ارادے کے ساتھ۔ دوسرا دعا، یقین کے ساتھ۔ تیسرا محنت، پوری لگن اور تڑپ کے ساتھ۔ پھر ان شاء اللہ زندگیاں روشن ہوں گی، انقلاب برپا ہوں گے اور جوانیاں محفوظ و مفید ہوں گی۔
یہ وقت قیمتی ہے، بروقت جان لو
گزر جائے نہ یونہی جوانی سنوار لو۔
اے اللہ! ہماری جوانیوں کو اپنی رضا میں گزارنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب بنا۔ آمین۔
