آم ہجرت کر رہا ہے

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

آم ہجرت کر رہا ہے

اگر آپ شالامار باغ جائیں تو وہاں آپکو قدیمی آم کے درخت نظر آئیں گے جن پر بور اور تھوڑا بہت پھل آتا ہے لیکن وہ کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔دو صدی قبل آم کا وطن لاہور اور اسکا مضافات تھا۔آم کے پودے کے لئے زیر زمین پانی کی سطح بلند اور دھوپ کا متواتر ہونا ضروری ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادکاری نے لاہور سے آم کو ہجرت پر مجبور کردیا ۔لاہور سے نکلنے کے بعد آم ملتان اور اسکے گردونواح میں قیام پذیر ہوا۔ملتان بھی آبادکاری اور سوسائیٹی ازم کا شکار ہوچکا ہے اور آم اپنے قدرتی مسکن صحرائے چولستان کی طرف مائل بہ سفر ہے۔ آپکو شاید پتا ناہو آم ریاست بہاول پور کا پھل تھا یہاں کے باغات اپنی پیداوار اور رقبے کے لحاظ سے تاریخی اہمیت رکھتے تھے بہاول پور میں ستلج ویلی پراجیکٹ سے پہلے یہاں کا آم پورے برصغیر میں جاتا تھا۔رفتہ رفتہ یہاں آبادکاری ہونے سے باغات کٹتے چلے گئے۔بہاول پور کا ماڈل اے ماڈل ٹاون بی موجودہ میڈیکل کالج جھانگی والا ،شاداب کالونی یہ سب آم کے باغات تھے۔اسی طرح احمد پور شرقیہ چنی گوٹھ ظاہر پیر رحیم یار خان الہ۔آباد رحیم یار خان تک کا علاقہ اب بھی آم کے باغات کاگڑھ ہے۔کپاس گندم اور گنے کی پیداوار میں مسلسل اضافے اور نقد آور فصلیں ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں نے آم کے نئے باغات لگانے کی طرف توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے آم اس خطے سے ناراض ہوگیا۔اور یہ سندھ کے دیہی علاقوں اور ملتان کے مضافات تک محدود ہوتا چلا گیا۔ ماہرین زراعت و نباتات نے ایک تحقیق کے بعد یہ دعوی کیا ہے کہ اگلے دو سو سال کا آم کنو اور انگور صحرائے چولستان میں پیدا ہوگا۔اور موسمیاتی و جغرافیائی لحاظ سے اگلے دو تین سو سال یہ خطہ ان پھلوں کا۔قدرتی مسکن بن جائے گا۔ہر سال DHA بہاول پور کی طرف سے مینگو فیسٹیول یعنی آم میلہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔جسکا مقصد آم کی نئی اقسام کا تعارف اور آم کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اس آم میلے میں مختلف قسم کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جن میں مشاعرہ محفل موسیقی کھانے کے اسٹال ہوتے ہیں۔تاہم کھانے کے لئے آم نہیں ہوتے جو صرف نمائش کے لئے ہی رکھے ہوتے ہیں منتظمین کو چاہیئے کہ کھانے کے اسٹالز پر مختلف قسم کے آم قیمت پر دستیاب ہونے چاہیئے تاکہ اس میلے کا اصل حسن سامنے آئے۔ڈی ایچ اے کا آم میلہ اب ایک مستقل روایت کی صورت میں مستحکم ہوچکا ہے اور لوگ سارا سال اسکا۔انتظار کرتے ہیں۔ہندوستان میں اتر پردیش آندھرا پردیش اور کرناٹکا آم کی اعلی کوالٹی پیدا کرنے والے علاقے ہیں ۔ہندوستان اور پاکستان کاآم بذریعہ دبئی پوری دنیا میں اپنے چاہنے والوں تک پہنچتا ہے ۔پاکستانی آموں میں انور رٹول جو اصل میں ہندوستانی قسم ہے اپنے منفرد ذائقے اور کوالٹی میں الگ مقام رکھتا ہے۔اسی طرح سندھڑی، ثمر بہشت نواب پوری چونسہ قلمی لنگڑا لال گلاب مشہور اقسام ہیں۔آم کی ایک قسم دسمبر جنوری میں پک کر تیار ہوتی ہے جو کافی مہنگا اور خواص کا آم ہے۔ چچا غالب کہا کرتے تھے آم ہوں اور عام ہوں اگر وہ پاکستان میں ہوتے تو انکی خواہش ضرور پوری ہوتی۔بے بہا آموں کے مسکن سے مینگو پیپلز اپنی میٹھی زبان ریاستی ،سرائیکی کی عملی تعبیر ہیں۔آم کے ذائقے کا سفر جاری و ساری ہے۔نت نئی اقسام سامنے آرہی ہیں اور دنیا آم کے ذائقے سے لطف اندوز ہورہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *