کلر زدہ زمینوں میں کینولا کی پیداوار میں بہتری کے لیے اسکوربک ایسڈ کا مؤثر کردار
کلر اور تھور زدہ زمینیں دنیا بھر میں فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا سبب بن رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، کم بارش، پانی کا بخارات کی صورت میں ضیاع، اور ناقص زرعی طریقے اس مسئلے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ اندازے کے مطابق دنیا کی 7 فیصد زمین کلر زدہ ہو چکی ہے، جو تقریباً 800 ملین ہیکٹر رقبے کے برابر ہے۔ پاکستان میں صورتحال تشویشناک ہے، جہاں تقریباً ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ ایکڑ رقبہ کلر اور تھور سے متاثر ہے، جبکہ پنجاب میں یہ متاثرہ رقبہ پینسٹھ لاکھ ایکڑ سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایسی زمینوں میں سوڈیم، کیلشیم اور میگنیشیم کے کلورائیڈز اور سلفیٹس جیسے حل پذیر نمکیات کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے، جو فصلوں کی نشوونما، معیار، اور پیداوار کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان میں کلر اور تھور کی وجہ سے فصلوں کے نقصان کی سالانہ لاگت کا تخمینہ 15 سے 55 ارب روپے کے درمیان ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک دنیا کی 50 فیصد قابلِ کاشت زمین بھی تھور زدہ ہو سکتی ہے۔
یہ زمینیں خاص طور پر تیل دار فصلوں جیسے کینولا، سرسوں، ریپسیڈ، سورج مکھی اور کپاس پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ کلر اور تھور ان فصلوں کی ابتدائی و تولیدی نشوونما، انزائم کی فعالیت، گلیسرائڈز کی پیداوار اور فیٹی ایسڈ پروفائل کو متاثر کرتا ہے، جس سے تیل کے معیار اور مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ریپسیڈ اور سرسوں پاکستان میں سبزیوں کے تیل کا دوسرا اہم ذریعہ ہیں۔ ریپسیڈ کے بیجوں میں تقریباً 40–42 فیصد تیل اور 43.6 فیصد پروٹین پایا جاتا ہے، جبکہ کینولا، جو ریپسیڈ کا کم ایروسک ایسڈ اور کم گلوکوسینولیٹ رکھنے والا ورژن ہے، درمیانے درجے کے کلر کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم شدید کلر کی صورت میں اس کی پیداوار اور تیل کی مقدار میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔
آبادی میں اضافے کے پیش نظر، ناقابلِ کاشت زمین کو دوبارہ قابلِ کاشت بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں سائنسدان ایسے کم لاگت اور مؤثر طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں جن سے کلر اور تھور سے متاثرہ فصلوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان میں اینٹی آکسیڈینٹس، اوسمو پروٹیکٹینٹس، اور پودوں کے ہارمونز کا بیرونی استعمال خاص طور پر مؤثر پایا گیا ہے۔ ایسکوربک ایسڈ، جسے وٹامن سی بھی کہا جاتا ہے، ایک قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو پودوں کو کلر،تھور ، خشک سالی اور تیز روشنی جیسے ماحولیاتی عوامل سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تناؤ کی شدت میں پودوں میں قدرتی طور پر موجود ایسکوربک ایسڈ کی مقدار اکثر ناکافی ہوتی ہے، اس لیے بیرونی طور پر اسکاربک ایسڈ کا پتوں پر اسپرے کرنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسکوربک ایسڈ کا اسپرے پتوں کی سطح سے، خاص طور پر اسٹومیٹا کے ذریعے، پودے کے اندر داخل ہو کر فلوئم کے ذریعے تمام حصوں میں پھیل جاتا ہے۔ اس سے خلیاتی جھلیوں کا استحکام، آکسیڈیٹو تناؤ میں کمی، اور فوٹو سنتھیسز میں بہتری آتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اسکاربک ایسڈ کا اسپرے۲۰۰ پی پی ایئم کی مقدار میں کینولا کی دو اقسام ڈنکلڈ اور سائکلون پر کلر اور تھور کے خلاف مؤثر پایا گیا ہے۔ کینولا کے پودے پر تیسرے پتے کے نکلنے کے مرحلے پر اسکوربک ایسڈ کا اسپرے، اور ایک ہفتے بعد اس کا اعادہ، پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان جیسے زرعی ملک میں، جہاں کلر اور تھورکا پھیلاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، اسکاربک ایسڈ جیسے کم قیمت، پانی میں حل پذیر اور مؤثر مرکبات کا استعمال پائیدار زراعت کے لیے ایک امید افزا حل ہے۔ اس کی مدد سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ غذائی تحفظ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسکاربک ایسڈ کا استعمال زرعی تحقیق، پالیسی اور کسانوں کی تربیت میں خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔
