⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
پاکستان میں بے روزگاری اور غربت میں حالیہ اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔ جسکی اصل وجہ بے روزگاری نہیں بلکہ سستی، کاہلی ہے۔ عمومی طور پر کام نا کرنے کا رجحان، کام میں سست روی دکھانا اور دن کے بہترین حصے کا مصرف نا رکھنا۔
غربت عالمی مسئلہ اپنی جگہ لیکن پاکستان میں یہ مسئلہ خود ساختہ زیادہ ہے۔ ہمارے لوگ محنت سے جانے کیوں گھبرانے والی قوم بنتے جارہے ہیں، سستی اور کاہلی کا غلبہ ہے کہ جاں چھوڑنے کو تیار نہیں۔
سڑکوں اور چوراہوں پر ایزی منی کے متلاشی زیادہ نظر آتے ہیں۔ جو ذہن سکیم اور فراڈ کو جگہ دیتے ہیں وہ سہی جانب مائل نہیں نہیں ہوتے۔
معاشی بدحالی سے زیادہ سماجی بدحالی کا شکار زیادہ ہیں
ورلڈ بینک کے تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں 2024 میں غربت کی شرح 25.3٪ تک پہنچ گئی، جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے اس دوران تقریباً 13 ملین افراد غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ۔
بے روزگاری ایک پیچیدہ معاشی، سماجی اور تعلیمی مسئلہ ہے، جس کے پیچھے کئی گہرے عوامل کارفرما ہوتے ہیں
لاکھوں نوجوان ہر سال گریجویشن مکمل کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے موزوں روزگار موجود نہیں۔
مارکیٹ میں ہنر مند افراد تو موجود ہیں، لیکن مواقع نہیں ہیں خصوصاً ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میڈیکل اور تعلیم کے شعبوں میں۔ اکثر نوجوان دیہی یا پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انٹرنیٹ، نقل و حمل، ٹریننگ، یا مالی وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔
پاکستانی عوام میں سستی، کاہلی یا کام چوری کا رجحان ایک معاشرتی، نفسیاتی اور معاشی پہلو رکھتا ہے، جو صرف اکثر لوگوں کو پیشہ ورانہ اخلاقیات، وقت کی پابندی، یا کارکردگی کا شعور نہیں دیا گیا۔”فطری سستی” نہیں بلکہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے۔
