سفر گل زمیں کے

سفر گل زمیں کے
یہ ہےکیسا سفر

قسط نمبر 02
میں ہوں مائرہ اَتائی بتائی۰۰۰
بھئی مُلتان ، مُلتان ہے!
اب کے منزل مُلتان تھی جہاں اپنوں سے بہت سے نئے درد و الم مل کر بانٹنے تھے وہیں جانے والوں کا دُکھ بہت گہرا ہے –
مبشر الرحمان محض سسرالی عزیز نا تھے وہ عِلم کا عَلم بُلند کئے ہوئے ایک مکمل انسان تھے- اُنھوں نےاپنے اردگرد کتنے گھروں میں علم کی روشن مشعلیں جلائیں اور وہ نور ہر سُو ہے -اور اچانک بیٹھے بٹھائے مبشر خان اپنی قبر روشن کرنے چلے گئے-
میں ملک سے باہر تھی جب اچانک یہ دلدوز خبر سُنی تھی-
اُن کے بچوں سے ملی تو جانے مجھے کیوں سکون سا محسوس ہوا، لگا مبشر خان گئے نہیں ابھی یہیں کہیں ہیں-
بچیوں کا مہذب دھیما لہجہ ، اُٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ اور اُن کے جہیتے بیٹے حسن میں تعلیم سے لگن اور گفتگو ٹھہراؤ دیکھ کر لگا کہ حسن ماشااللہ بڑا سلجھا ہوا جوان ہے-
واقعی جب بچوں کی تربیت کرنے والے مبشر اور سُمیرا ہوں تو پھول ایسے کھلتے ہیں کہ جسے جھوم کر بہار آئے نظرِ بد دور ہو -اللہ کی امان میں ہوں-
سب سے ملنے کی خواہش تھی پر جتنا ممکن تھاوہ تو کریں اور کُچھ مُلاقاتیں ضروری تھیں-
ناصر خان خاکوانی کے گھرسے پُرانی یاد اللہ ہے – ان کی گھر والی اوربہو سے تورشتہ داری کے علاوہ بہت خلوص و محبت کے تعلق ہیں –
اُن سے جب فون پر کہا کہ کل ملتے ہیں توجواب آیا صرف ملتے نہیں کل ناشتہ ہمارے ساتھ کریں-ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا تھا دل وجان سے دعوت قبول کرلی ، یوں اگلے دن دال مونگ، دال چنا ، تلے ہوئے آلوؤں کاسالن ،رائیتہ، ُملتانی چنے،انڈوں کا سالن، پوری حلوہ ، مالپُڑے ، مُلتانی نان اور میٹھی لَسّی یعنی مکمل ملتانی ناشتہ سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ماضی بھی دُہرایا جاتا رہا میری تو بہت خوب صورت یادیں اس گھرانے سے وابستہ ہیں –
میں نے مسسز ناصر خان سے پوچھا : ناصر بھائی آج کل کیا کرتے ہیں ؟
بولیں: ناصر خان مخلوقِ خُدا کو پیارے ہوگئے ہیں –
میں سوچنے لگی رَبّ کی راہ میں مصروف یہ ایچی سونین بھی لاجواب شخصیت رکھتے ہیں-بہت سی خلقِ خدا کے تو پیر و مُرشد ہیں-
خیر وہیں بیٹھے بیٹھے اُن کی بہو (جو بھانجی ہیں )سے
کہا اب میں نے براروں والے پُل پر جورہائشی کالونی ہے ، وہیں جانا ہے -وہاں غلام بی بی کے بیٹے عابد حفیظ کا گھر ہے-
بھانجی: مامی یہ کون لوگ ہیں ؟
کہا: لاشاری بلوچ ہیں، ہماری امّاں کے گھر کی ہیلپر غلام بی بی جس نے فرزانہ بہن کو پالا پوسا تھا اور ہمارے لئے تو بہنوں جیسی تھیں کچھ عرصہ پہلے وفات پا گئی ہیں- میں آنہیں سکی تھی – اب اُن کے بیٹے بہو کو ملنے جانا ہے –
عابد حفیظ کو فون کیا تو وہ بولے میں خود اپنی گاڑی میں لینے آرہا ہوں ناصر خان خاکوانی صاحب تو میرے بیٹے کے بھی مُرشد ہیں-میں اُن کے گھر کا ایڈریس جانتا ہوں-
یوں رہائشی کالونی پُل براراں پہنچ گئے، عابد کی بیوی اور بہوئیں بہت خوش ہوئے وہ لنچ کھلانے چکروں میں تھے عمرخان نے معذرت کی کہ ابھی تو اَمّاں کو کافی دور ملتان کے دوسرے کونے النقشبند کالونی جانا ہے- اور پھر اسلام آباد کے لئے روانہ ہونگے-
خیر اُنھوں نے پُرتکلف چائے پلا کر ہی دَم لیا-
پھر ہمیں چھوڑنے بھی آئے، جب چھوڑنے آئے تو MDAچوک پر مٹھائی خریدنے کے لئے ایک طرف گاڑی روک دی، میں نے عمر خان سے کہا : وہ دیکھو عابد حفیظ تو مٹھائی کی دُکان میں چلا گیا ہے اُسے روکو اُسے کیا پتہ ،میں نے کب مٹھائی کھانی ہے عمر بھاگ کر منع کرنے اُتر گیا –
اچانک میری نظر ساتھ ہی سوہن حلوے کی دُکان پر پڑی، عابد کا بیٹا میرےساتھ ہی تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا میں نے آہستہ سے کہا: بیٹا ! آپ جاؤ تمہارا ابّوباز نہیں آئے گا اسےکہو پھر اخروٹوں والا سوہن حلوہ کا ڈبہ لے لیں –
عمر اُسی وقت سیٹ پر بیٹھتے ہوئے بولا : اَمّاں ! آپ بھی کمال کرتی ہیں مجھے بھیجا کہ ڈاکٹر نے منع کیا ہے مٹھائی کا منع کردو اور خود سوہن حلوہ کا کہ دیا –
میں خاموش رہی کہ اب ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں کچھ سوال ویل لِیفٹ کرنے چاہیئے ،اب بندہ سوہن حلوہ نہیں چھوڑ سکتا ۰۰۰۰
اب اپنی گاڑی اُٹھائی اور النقشبند کالونی اپنی ایک اسماعیلزئی عزیزہ کی تعزیت کرنے روانہ ہوگئے دن کا ایک بج چکا تھا -شام سے پہلے اسلام آباد کے لئے نکلنا تھا –
خیر جب اُن کے گھر پہنچے افسوسناک وفات پر افسوس کیا ، مرحومہ کے صبر واستقامت اور ثواب کے لئے دُعا کی –
جیسا کہ کافی سالوں کے بعد ملے تھے ہم بھی کچھ وقت اکٹھا گُزارنا چاہتے تھے اور وہ بھی چاہتے تھے اور بچوں کی باتیں ہونے لگیں اُن کی تعلیم و مستقبل کی باتیں اُن کے بچے ماشاء اللہ بہت ذہین اور ہمیشہ اچھے گریڈز لیتے ہیں ، کامیابیوں کے لئے بہت دعائیں ہیں –
مگر مجھے بہت اچھا لگا جب مائرہ کے بارے میں بتایا گیا کہ جب چار سال کی تھی تو ماں نے کھیلتی ہوئی مائرہ سے جب پوچھا کہ اپنا نام تو بتاؤ تو ہو نہار مائرہ نے بہت رسان سے ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا :
میں ہوں مائرہ اتائی بتائی( میں ہوں مائرہ اسماعیلزئی)
مجھے اسماعیلزئی کے لئے” اتائی بتائی “بہت پسند آیا جیسے کوئی منگول نام ہواور ہونہار بچے پوری زندگی میں میری میرے ہیروز رہے ہیں – اور مجھے لگتا ہے اگر ہم اپنی موجودہ نسل کو اس قومی تنزلی کا سبب بننے والی عادتوں سے بچا سکے تو ہم پُن کمالیں گے -کسی آعلٰی منزل پر پہنچ جائیں گے-ہماری نسلیں جگمگا اُٹھیں گے بفضلِ تعالٰی ہمیں آگے بڑھنے کا سلیقہ بھی آجائے گا -اگر موجودہ نسل کو عاداتِ بد سے بچا کر تعلیم کی راہ پر لگا دیا-
ہوا یوں کہ جیسے ہی میرے وال کلاک نے رات بارہ بجے سے ایک منٹ آگے بڑھا تو بیٹی کے نمبر سے کال تھی ہیپی برتھ ڈے ماتا جی!
کہا: بہت شُکریہ میری جان! پر تم نے تو میری ماں کو ایک دن پہلے لیبر pains لگوا دیئے ابھی تو مجھے ایک دن لگے گا، اس دُنیا میں آنےکے لئے-
یہ دراصل پچیس اور چھبیس فروری 2022کی درمیانی رات تھی-
میں سونے ہی والی تھی –
سوچا اس چیف ارگنائزر بڑی بہو نے میرے جنم دن منانے کا اتنا چرچا کیا – مہرالنساء بھی 27 و 26 کا فرق بھول گئی-
اور اتوار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک دن پہلے منانے کا فیصلہ ہاؤس کیبینٹ کا مشترکہ بیانیہ تھا –
میں بہت چونکی جب گھر کی لڑکیاں بالیاں چار دن سے پوچھ رہی تھیں : بڑی بی بی سنڈے کو آپ کی برتھ پارٹی ہے ؟
حیران ہوکر اُنھی سے پوچھا کس نے کہا ہے –
بولیں: ہمیں تو حنا بی بی نے کہا ہے –
حنا نے بتایا : بوئی ! پہلے تو سر پرائز دینے کا اراہ تھا پھر سوچا آپ کا کہیں جانے کا پہلے سے پروگرام بن گیا تو سب کِرکرا ہوجائے گا لہذا اب اعلانیہ سیلیبریشن ہے –
کہا: بھئی لمبے چوڑے اہتمام کی ضرورت نہیں-
پر اُن کے ارادے پختہ تھے –
جب کیک خریدنے کا مرحلہ آیا تو حنا نے پوچھا : کون سا کیک پسند کریں-
کہا: بھئی کیک تو بچوں کی مرضی کا ہونا چاہیئے لہذا چاکلیٹ کیکس کو ترجیح دی گئی-خیر سوچا جب اتنا اہتمام چل رہا ہے تو کیوں نہ میں بھی کوئی چمکیلا بھڑکیلا سوٹ نکالوں-
گلبدن و زُلیخا و رضو تو چمک رہی تھیں میں نے بھی اسی ٹولہ کے حساب سے لباس زیب تن کیا –
خیر کیک بڑی دھوم دھام سے انجام کو پہنچا اور دوسرے لوازمات بھی کام ودہن کو رونق بخش رہے تھے-
میری نظر تحفوں پرتھی – جو میری اُمیدوں پر پورے اُترے جیولری سے لیکر بہترین برینڈڈ لان سوٹس ، بیڈکورز۰۰۰۰۰اور گلبدن وزلیخا نے پھول ڈرائنگ کر کے دیئے، فاطمہ و ملیحہ کے قیمتی خطوط اور ہینڈ میڈ envelopبہت نفیس اور ادبی تحفہ بھی بہت اچھا لگا –
یوں یہ سالگرہ منانے کا رواج تو بڑا اچھا لگا لیکن اس دھوم دھڑکے میں رازی و حنا کی wedding anniversary دب کر رہ گئی مجھے بھی بھولی ہوئی تھی دراصل بچوں نے تیز میوزک پر اتنا ہل گلہ کیا کہ میں یہ بھول گئی میں نے رازی کی شادی کی تاریخ
ستائیس فروری رکھی بھی اس لئے رکھی تھی کہ آم کے آم گھٹلیوں کے دام ۰۰۰۰۰ ہوا بھی یہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *