ہم تیرے بعد
ہم تیرے بعد بس کہانی رہ جائیں گے
دل کے ادھورے، بے عنوان باب کی طرح
کہیں احساس کی نمی
کہیں یادوں کی چوٹ
کہیں رکے ہوئے لفظ خاموش جواب کی طرح
ہم تیرے بعد سوکھ جائیں گے
خزاں کے تھکے ہوئے پتوں کی طرح
نہ سایہ باقی رہے گا
نہ ہوا کی کوئی سرگوشی
وقت کے قدموں تلے بچھے رہیں گے بے نام صدا کی طرح
ہم تیرے بعد مرجھا جائیں گے
وقت کی ٹھوکریں کھائے پھولوں کی طرح
نہ رنگ سلامت رہے گا
نہ کوئی خوشبو ساتھ ہوگی
ہم خواہشوں کی راکھ بن کر بکھر جائیں گے ہوا کے ساتھ
ہم تیرے بعد پڑھ لیے جائیں گے
پرانے وقت کی بھولی کتاب کی طرح
کہیں پھٹے ہوئے صفحے
کہیں بکھرے ہوئے لفظ
کہیں رکی ہوئی کہانی—ماضی کی یاد کی طرح
ہم تیرے بعد
ہاں، ہم تیرے بعد بس رہ جائیں گے
ادھوری تحریر، بے موسم سا احساس
نہ مکمل ہونے کی امید
نہ ختم ہونے والا انجام
ہم تیرے بعد زندہ بھی رہے تو کاغذ کی مانند
اور اگر جل گئے تو بس راکھ کی طرح۔
