قید


قید

نم آلود کوٹھڑی میں زنجیروں کی سرسراہٹ گویا وقت کی اذان تھی۔ وہ بے گناہ قیدی برسوں سے سورج کی کرن کا منتظر تھا۔ مگر دل کہتا: قید میں نہیں، قید تو وہ ہیں جنہوں نے مجھے یہاں ڈالا۔ وہ خواہشوں کے اسیر، حرص کے غلام، گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ میرا جرم صرف سچ تھا، اور سچ کبھی قید نہیں ہوتا۔ میں آزاد ہوں کہ ضمیر روشن ہے۔ رات گئے پہرہ دار نے قیدی کو جھانکا—وہ پرسکون مسکرا رہا تھا، آنکھیں کھلی تھیں، سانسیں بند۔ ایسا لگتا تھا جیسے موت نے نہیں، آزادی نے زنجیریں توڑی ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *