زندگی کے دریچوں کا سفر
کہنے لگیں آج کل کی لڑکیوں کو کام کرنا موت پڑتی ہے۔
کہا: توبہ ہے بھئی یہ آپ لوگ چاہتے کیا ہو اس ذہین و زیرک نسل کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔
نورین : اگر تمہارا واسطہ ایسی کٹھور سے پڑے تو پتہ چلے۰۰۰
کہا: کیامطلب ! کیا میرے گھر میں لڑکیوں کی کمی ہے میرا گھر لڑکیوں سے بھرا ہے بفضلِ تعالࣿی ایک سے لعل موتی و گوہر جیسیاب جب سے مہرالنساء یہاں آئی ہے یقین کریں۔
جب سب زندگی کے معمولات سے فارغ اپنے کمرے میں سونے کی تیاری پکڑنے لگتی ہوں وہ آکر مجھے قہوے کا الائچیوں سے مہکتا گرماگرمُ کپ پکڑاتی ہے فروٹ کی پلیٹ میری سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ہے اُس وقت میں اس کی چمکتی روشن آنکھوں کو چُوم لیتی ہوں- کہ مجھے رضو اور گُلبدن کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتی۔
نورین : پھر بھی بیٹیاں کُچھ لحاظ کرلیتی ہیں ۰۰۰ میں تو بہوؤں سے تنگ ہوں, آج کل مائیں تربیت ہی نہیں کرتیں کہ دوسرے گھر بھی جائیں گے۔
کہا: سچ کہوں میری تو بہوئیں بہت اچھی ہیں اس دُنیا میں جنت کے مزے ہیں- ابھی دو دن پہلے کی بات ہے میں نے مہرالنساء سے ایک فلمُ نیٹ فلیکس پر لگانے کو کہا ابھی کوئی پانچ منٹ گُزرے تھے کہ میں نے دو تین سوال اُٹھا دیئے ، میری بہو بھی ساتھ بیٹھی تھی وہ گود میں کمپیوٹر رکھے اپنے مریضوں کے نسخے اور ہسٹری چیک کر رہی تھی اور ضروری ترمیم بھی جاری تھی-
میرے سوالات پر مہرالنساء نے ریموٹ ہاتھ میں پکڑا اور نرمی سے بھی بہت نرمی سے بولی: ماں فلم دیکھنی ہے تو خاموشی سے دیکھیں ورنہ بند کرتی ہوں۔
کہا ؛ دُختر نیک اختر ! بلا سے بند کردو میں اسی لئے صرف زینب کے ساتھ ڈاکیومنٹریز اور موویز دیکھنا پسند کرتی ہوں وہ میرے اُٹھائے گئے ہر سوال کا بہت تعظیم سے نہ صرف جواب بتاتی ہے بلکہ میری معلومات میں اضافہ کرتی ہے کہ تسلی ہوجاتی ہے۔
میری بیٹی نے فلم بند کردی کہ بہو کے ساتھ دیکھیئے گا آپ اُن کی ساس ہیں ،میری ماں ہیں۔
نورین: تو تم نے بیٹی کو کُچھ نہ کہا؟
کہا: نورین اتنی قابل ہے بفضلِ تعالٰی ،کہو تو تمہاری کونسلنگ رکھوا دوں موڈ مورال بہت سنور جائے گا- سائیکالوجسٹ ہے بلکہ بہترین کاؤنسلر ہے
نورین: میراغم مت کھاؤ میرے گھر میں دو دو موجود ہیں۔
کہا: نورین تمہاری تو سرے بیٹی ہی نہیں دو کیسے!
نورین : بہوئیں ہیں۔
کہا: نورین ! بہوئیں تو معصوم ہوتی ہیں -کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کبھی پلٹ کر جواب دیں ، ادب و لحاظ کرنے والی مخلوق ہیں۔
میری تو بیٹی اتنی مؤدب ہے اگر کھانا کھارہی ہو اور میں کہ دوں کافی یا چائے اگر مل جائے تو زندگی بن جائے ۰۰۰۰ کبھی گھور کر نہیں کہے گی کہ پہلے کھانا کھا لوں!
تھوڑی دیر میں گرم کافی میرے ہاتھوں میں ہوتی ہے-ہاں اگر کبھی میں دو سالن اکٹھے بنالوں یا کوئی میٹھا بھی ساتھ بنالوں تو فٹ کہے گی اپنے آپ کو کتنا تھکاتی ہیں فالتو کے کامُ کرکے ۰۰۰ جب میں پلٹ کر کہتی ہو
مجھے بہت اچھا لگتا ہے ایکٹو رہنا
تو سادگی سے مجھے کہتی ہے جی جی کام اچھا کرتی ہیں اگلے گھر جائیں گی تو اُن کو اور گھر والوں بہت خوش رکھیں گی میں کہتی ہوں کیوں ذیشان ! اگلے گھر اُن کو اور سب کو خوش رکھا تو اب یہ سب خوشحالی ہے –
وہ زیرِ لب اس کی باتیں سُن کر مسکراتا رہتا ہے-
نورین: مہرالنساء کو چپت نہ لگائی
کہا : اتنی پیاری باتیں سُناتی ہے روتوں کو ہنسا لے ،اپنے ادارے میں کیابچے کیا بڑے اُن کی ذہنی اُلجھنیں دور کردیں بفضلِ تعالࣿی , تم اس سے بات تو کرو ، تمہاری بھی سیٹنگ اچھی ہوجائے گی – زندگی بنا دے گی-نورین خفا ہوکر کہنے لگی: میرا مذاق اُڑا رہی ہو-نورین کوئی میری پُرانی دوست نہیں ایک تقریب میں ورجینیا ہی میں مُلاقات ہوئی مزاج مل گئے تو دوستی ہوگئ – ویسے انسان ہرجگہ انسان ہی رہتے ہیں اپنے تمام تر مزاج و نرم وگرم جذبوں کے ساتھ کیسی ہی جدید دُنیا و ماحول کیوں نہ ہو کدورتوں و تلخیوں کو ہم انسان خود ہی ختم کرکے نجات نہیں پاتے ، ان بن ، ضدم ضدا ، برہمی ،تھوڑ دلی ، مزاج کی تنگی یہ سب خود پالتے ہیں -اگر ہم انسان تہیہ کرلیں کہ ہلکی پھلکی ، تروتازہ و آسان زندگی جینا ہے تو مجال ہے ہم خواتین کو خواہ مخواہ کسی رشتے سے دُکھ پہنچے – بلا امتیاز جوان اور بوڑھے خوش وخُرمُ ہونگے-اب میں جو اتنی اچھی باتیں کر رہی ہوں- اس دن کسی ختمِ قرآنِ پاک کی تقریب ایک دوست کی خوب صورت من موہنی بچی جب سر سے سرکے ڈوپٹے کو دیکھا اس عظیم کتاب کی تکریم کے لیے نرمی سے سرزنش کی، تو ایسے جھٹکے سے بولیں : آنٹی ! رَبّ تعالٰی ! ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ ہماری خطائیں بخش دیتا ہے آپ فکر نہ کریں-میں جو اپنا سا مُنہ لے کر بیٹھ گئی بس اتنا کہ پائی میری بیٹی! جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے اُس سے ایک ماں جتنا پیار تو ہم بھی کریں – ماں کو بھی تو پیار چاہیئے ہوتا ہے -اُس پیاری لڑکی نے مجھے خاص لُک (look)دی-آج کیا ہُواماہم کی نینی Ana نے بلیو جینز کی فراک پہنی ہوئی تھی اُس پر رنگین رنگین کاڑھے ہوئے پھول میں ایک مزید رنگین طوطا بیٹھا تھا – Honduras بھی لکھا تھا ہنڈرس آنا کا ابائی وطن ہے سنٹرل امریکہ کا اہم ملک ہے- پر اب یہ امریکن شہری ہے-میں نے پوچھا یہ ڈریس طوطے کی وجہ سے لیا یا ہنڈرس تو بولی : دونوں پسند ہیں – اپنے بچپن کے طوطے کی کہانی سُنانے لگی ۰۰۰۰
میں جو ابھی جاگی تھی کہا اَنا تمہاری تصویر لیتی ہوں اپنی پوسٹ میں لگاؤں گی-انا پوری کہانی گر ہے-اگر میں گھنٹہ کھڑی رہتی تو قصّہ ختم نہ ہوتا ۰۰۰۰ ہماری انا پڑھی لکھی سلجھی ہوئی سلیقہ شعارلڑکی ہے-
ایک بات ہے کُچھ کچھ سرائیکی والی مڈھے(Lazy) ہے اُس کی بانوے92 سالہ نانی اُس کے ساتھ آتی ہیں – اُس کی بہت کیئر کرتی ہے مگر اس بانوے سالہ نانی کو منع کرتی ہے یہ نہ کھاؤ وہ نہ بس خاص کھانا کھلاتی پر نانی ہم پر چلی گئی یعنی چٹوری ہیں محترمہ کُچھ سپائسی بن رہا ہوتو وہ کھانا چاہتی ہیں یہ ٹوکتی ہے –
گھر کے دو ڈاکڑز کہتے ہیں اس عمر جو بھی اولا(ہسپینک میں بزرگ خاتون ) کھانا چاہتی ہیں اسے کھانے دیا جائے – آج جب اَنا اپنی پلوڑی ماہم کے ساتھ لائبریری گئی ہوئی تھی تو نانی کو اپنی واکر کے ساتھ ادھر اُدھر کاریڈور میں گھومتا پایا تو میں نے پوچھا کہ بھوک لگی ہے محترمہ کُچھ شرما گئیں میں ایک کیلا اُٹھا کر لائی یہ کھاتی ہیں خوش ہوکر لے لیا اللہ نصیب کرے صوفے پر بیٹھ کر کھا لیا پھر جب چھلکا پھینکنے کے لئے اُٹھنے لگیں تو میں نے بھاگ کر لے لیا تو بڑی مشکور ہوئی اس طرح کے کام انا سے چوری کرتی ہوں بےچاری نانی کو کافی نہیں پینے دیتی کہ اس کا دل دھڑکے گا – بھئی یار دھڑکنے دو ۰ ایک ننھی گٹھڑی کی طرح صوفے پر کمبل تانے ہمہ وقت سوئی رہتی ہیں – بھوک ماشااللہ بہت اچھی اُس دن گیراج کو جانے کیا سمجھ کر دروازہ کھولا اور دو بڑی بڑی سیڑھیاں اُتر کر اندر چلی گئی ، میرا دل کانپ اُٹھا اگر مرکھُٹڑی گِر جاتی – خیر مہرالنساء بھاگ کر nap لیتی انا کو اُٹھا لائی جو ماہم کے ساتھ لیٹی نیند پوری کر رہی تھی-
شُکرہے خیر گُزری ۰ آج محترمہ میرے ساتھ بیٹھی لنچ نوشِ جان کر رہی ہیں پر مجھے تو نصرت نسیم صاحبہ کی زندگی بھرپور کتاب ختم کرنی ہے- اس کتاب میں بہت سی زندگیا ں ایسے سانس لے رہی ہیں جیسے صفحات سے نکلیں گی اور مجھے میری جوانی کے دور میں لے جاکر دم لیں گی وہی سرائیکی ملا پٹھانوں والا ماحول ، وہی بڑے بڑے کُنبے وہی کھانے کھا بے ، مکئی بھنے ہوئے بھُٹے ، حلوے پوریاں میوے والے گڑ، لسی مکھن بڑے دل والے فیاض سے ڈیڈی جو اپنی ذات میں انجمن ہیں ۰۰۰۰ حُسن کی دیوی دیدی ، آنٹی ، بجو و پھوپھو پھر ولایت سے تازہ تازہ واپس لوٹ آنے والے خوبروانکل طرح طرح کے کھیل تماشے مگر حویلی کے اندر ، کتابیں بلکہ ہرموضوع سے جُڑی کتابیں پڑھنے کا چسکا مصنفہ محترمہ کو اُس کچھ ضابطوں اور پابندیوں والی حویلی میں وہ پڑا کہ لکھاری بن گئیں !
وہ بھی ایک خوب صورت ادب کی پہچان اور سوانح عمری بھی ایسی کہ کوہاٹ وپشاور بلکہ پورے کے پی کے ستر کی دہائی سے لے کر نوے کی دہائی تک کلچر کو جس چابک دستی اور خوب صورتی سے اپنے قلم کی زینت بنایا ہے وہ نصرت نسیم صاحبہ ہی کر سکتی تھیں ۔ایک ادبی سی خوبصورت اور طُرح دار کتاب بس آج کل میں پوری پڑھ لوں گی-کتابوں کے ساتھ ساتھ مہرالنساء ، اور میری پوتیوں نے میری زندگی میں قوسِ قزح کے رنگ بھر رکھّے ہیں- زندگی یہ رنگ بہت انوکھے اور پیارے ہیں-
