پاکستانی خواتین میں تیسری جان لیوا بیماری ”سرویکل کینسر ویکسین”کی شروعات ایک سنگِ میل

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

پاکستانی خواتین میں تیسری جان لیوا بیماری ”سرویکل کینسر ویکسین”کی شروعات ایک سنگِ میل



پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم عوامی صحت کی مہم شروع کرنے جا رہا ہے۔ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسین، جو سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں مؤثر ثابت ہوئی ہے، اب پاکستان میں بھی 9 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں کو فراہم کی جائے گی۔ یہ مہم نہ صرف ایک طبی قدم ہے بلکہ خواتین کی صحت اور ملک کے مستقبل میں ایک دیرپا سرمایہ کاری کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اس مہم
کی تفصیلات کچھ اسطرح ہیں کہ وفاقی وزارتِ صحت اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، 15 سے 27 ستمبر کے درمیان پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ لڑکیوں کو یہ ویکسین فراہم کی جائے گی۔ اس بڑے اقدام کے لیے گیوی، دی ویکسین الائنس نے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ 49 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز، ویکسینیٹرز، ڈاکٹرز، کمیونٹی موبلائزرز اور ڈیٹا آپریٹرز کو خصوصی تربیت دی جا چکی ہے۔
پاکستان میں سرویکل کینسر کو ایک ”خاموش قاتل”قرار دیا جاتا ہے۔ یہ خواتین میں پایا جانے والا تیسرا عام ترین کینسر ہے، جو ہر سال 5 ہزار سے زائد نئے کیسز اور تقریباً 3 ہزار 200 اموات کا باعث بنتا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کی شرح جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ڈاکٹر صوفیہ یونس، ڈائریکٹر جنرل وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن،اس بارے میں کہتی ہیں:”یہ ویکسین نہ صرف بیماری کو روکتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو اس تباہ کن کینسر کے مالی اور جذباتی بوجھ سے بچا سکتی ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔”آزاد کشمیر کے دور دراز دیہی وپہاڑی علاقوں سمیت کی متعدد ناخواندہ خواتین کے ساتھ ساتھ(ف) بی بی، پنجاب کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک ماں ہیں۔ مہینوں تک علاج اور درست تشخیص نہ ملنے کے بعد انہیں آخرکار پتہ چلا کہ وہ سرویکل کینسر کا شکار ہیں۔ علاج کے اخراجات اور شہروں کے سفر نے ان کے خاندان کو تقریباً توڑ کر رکھ دیا۔ حکومتی ہیلتھ کارڈ نے ان کے علاج میں مدد کی، مگر ان کی کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بروقت بچاؤ کے اقدامات کس طرح خاندانوں کو ایسی اذیت سے بچا سکتے ہیں، ڈاکٹر فدا حسینDHO میرپوراور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈویژنل ٹیچنگ ہسپتال میرپور ڈاکٹر عامر عزیز کے مطابق یہ مہم پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایچ پی وی ویکسین کے قومی پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے۔ 2026ء میں خیبر پختونخوا اور 2027ء میں بلوچستان اور گلگت بلتستان میں اس کا آغاز متوقع ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ اسے پاکستان اور آزادکشمیر کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں شامل کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل سہولت بنایا جائے، اس بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج صرف ویکسین کی دستیابی نہیں بلکہ عوامی اعتماد ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں تولیدی صحت کے معاملات پر کھل کر گفتگو نہیں کی جاتی، افواہیں اور غلط فہمیاں مہم کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے کمیونٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔ اس باریڈاکٹر مسلمہ اعجاز، آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ پبلک ہیلتھ ماہر، کہتی ہیں:”ماؤں اور مقامی رہنماؤں کو اس عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ وہی اصل میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی کہ لڑکیوں کو یہ ویکسین لگے یا نہیں۔دنیا کے کئی ممالک میں ایچ پی وی ویکسین نے سرویکل کینسر(بچہ دانی کے منہ کا کینسر)کی شرح میں ڈرامائی کمی کی ہے۔ برطانیہ میں ہونیوالی جدید تحقیق سے پتہ چلا کہ جن خواتین کو کم عمری میں ویکسین لگائی گئی، ان میں اس متذکرہ کینسر کے کیسز میں 87 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ ڈبلیو ایچ او نے 2030ء تک یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ دنیا بھر کی 90 فیصد لڑکیوں کو 15 سال کی عمر سے پہلے یہ ویکسین ملے،ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر ڈیپنگ لو نے اس مہم کو پاکستان کے لیے ”ایک انقلابی صحت عامہ کا لمحہ”قرار دیا ہے۔ لیکن اس انقلابی لمحے کو کامیاب بنانے کے لیے صرف ویکسین کی فراہمی نہیں بلکہ ہمدردی، شمولیت اور مستقل مزاجی کی بھی ضرورت ہوگی۔
پاکستان اور آزادکشمیر میں ایچ پی وی ویکسین مہم محض ایک طبی اقدام نہیں بلکہ ایک سماجی معاہدہ ہے جس سیآئندہ نسلوں کی لڑکیاں اس قابلِ روک تھام مرض سرویکل کینسر سے محفوظ رہیں گی۔ اصل کامیابی صرف ویکسین شدہ لڑکیوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ ان خاندانوں کے سکون، ان ماؤں کے اعتماد اور ان کمیونٹیز کے مضبوط و محفوظ مستقبل میں چھپی ہوگی جو آج سے کئی سال بعد اس فیصلے کے ثمرات دیکھیں گی۔اوراس اہم پروگرام میں آگاہی مہم اور کامیابی سے آہداف کے مطابق عمل درآمد میڈیا سمیت ہر مکتبہ فکر کے عوام علمائکرام اور بالخصوص ماؤں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرناہوگا۔ملک بھر کی طرح ضلع میرپور میں بھی سرویکل کینسر سے بچاؤ کی قومی ویکسینیشن مہم کے آغاز کے سلسلے میں ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال تک ACT International کے زیر اہتمام واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فدا حسین راجہ نے کی۔ڈی ایچ او ڈاکٹر فدا حسین راجہ نے مہم کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ایچ پی وی (HPV) ویکسین مفت فراہم کی جائے گی، جو انہیں مستقبل میں سرویکل کینسر جیسے جان لیوا مرض سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی بچیوں کو ویکسینیشن سینٹرز اور اسکولوں میں ضرور لے جائیں۔اے پی ایم او ڈاکٹر فاطمہ یعقوب نے کہا کہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں یہ ہماری بچیوں کی کینسر جیسی موزی مرض کے تحفظ کی ضمانت ہے۔میڈیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی یہ پیغام عام کیاجائے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فدا حسین راجہ اور ایم ایس ڈاکٹر عامر عزیز نے کہا ہے کہ خواتین بالخصوص بچیوں میں سر ویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے آزادکشمیر،اسلام آباد،پنجاب،سندھ میں 15ستمبر سے 27ستمبر تک بچیوں کو HPV ویکسین مفت لگائی جا رہی ہے۔سرویکل کینسر خواتین میں پایا جانے والے تیسرا بڑا کینسر ہے جس کے بچاؤ کے لیے WHOنے ویکسین بنا دی ہے۔ملک بھر میں اگلے سال 2026سے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے HPVویکسین لازمی لگائی جائے گی عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ اپنی 9سے14سال کی بچیوں کویہ ویکسین لگوائیں یہ حلال ویکسین ہے اس کے کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہیں۔اس ویکسین سے پندرہ بیس سال تک کی عمر کی خواتین سرویکل کینسر سے محفوظ رہ سکیں گی۔
یہاں مقامی ہوٹل میں ضلع میرپور میں 15سے 27ستمبر تک سرویکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن کے سلسلہ میں میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فدا حسین راجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میرپور میں 9سے14سال بچیوں کی HPVیعنی سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین 15تا27ستمبر شروع ہورہی ہے جس میں محکمہ صحت کی ٹیمیں سکولوں اور مدارس میں جاکر بچیوں کو ویکسین لگائیں گیں جس سے 9سے14سال کی عمر کی بچیاں سرویکل کینسر سے محفوظ رہ سکیں گے۔اس ویکسین سے 15تا 20سال تک خواتین میں یہ وائرس ختم ہوجاتا ہے انھوں نے آسان الفاظ میں بتایا کہ سرویکل کینسر خواتین کی بچہ دانی کا کینسر ہے اس کا بروقت علاج نہ ہوتو اس بیماری میں مبتلا خواتین اور بچیاں سرویکل کینسر میں مبتلا ہوجاتی ہیں جس کے باعث یہ کینسر پھیلتا ہے اور پھر ایسی خواتین بچے پیدا نہیں کرسکتیں، دنیا بھر میں اس بیماری سے بچاؤ کے لیے گزشتہ کئی عرصہ سے علاج اور ویکسین لگائی جاتی ہے جبکہ پاکستان بھر میں سال2026سے 9سے14سال تک کی بچیوں کو یہ ویکسین لگائی جائے گی۔میڈیا نمائندگان،پرنٹ والیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی مہم کو فروغ دیں تاکہ اس بیماری سے محفوظ رہا جاسکے۔ایم ایس ڈاکٹر عامر عزیز نے کہا کے سرویکل کینسر ایک موذی مرض ہے اس سے بچاؤ کے لیے ہر فرد کی ذمہ داری ہے یہ ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے کسی قسم کے کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہیں۔عوام الناس اور عام آدمی تک اس ویکسین کے مفید اثرات سے اگاہ کریں تاکہ سرویکل کینسر سے محفوظ رکھنے کی قومی مہم کامیاب ہوسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *