⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز،خود انحصاری کی روشن مثال، بغیر فنڈنگ و ڈونیشنز مستحق بیٹیوں کے نکاح پر باعزت طعام کا بندوبست
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز نے خدمتِ خلق، خودداری اور باہمی تعاون کی ایک شاندار مثال قائم کرتے ہوئے بغیر کسی سرکاری یا غیر سرکاری فنڈنگ اور ڈونیشنز کے، اپنی مدد آپ کے تحت ہر مشکل گھڑی میں اپنے رائٹرز بھائیوں اور بہنوں کا ساتھ دینے کا عملی ثبوت دیا ہے۔یونین کی جانب سے مستحق اور مالی مشکلات کا شکار ممبر بہنوں اور بیٹیوں کے نکاح کے موقع پر آئے مہمانوں کے لیے باعزت انداز میں طعام کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں شادیوں پر رائج عام کھانے ہی کو تقریباً سو مہمانوں تک پیش کیا جاتا ہے تاکہ سادگی، وقار اور عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھا جا سکے۔گزشتہ روز ایک اور مستحق بہن کے نکاح کے موقع پر مہمانوں کے لیے اعلیٰ معیار کے کھانے کا بندوبست کیا گیا، جس کے ساتھ ہی الحمدللہ اب تک 8 بیٹیوں کے نکاح پر انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جانب سے طعام کا بندوبست مکمل ہو چکا ہے۔چیئرمین انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز زبیر احمد انصاری کے اعلان کے مطابق یہ خدمت صرف اور صرف مستحق ممبران کے لیے ہے، جس میں نہ کسی قسم کی تشہیر کی جاتی ہے، نہ نکاح یا طعام کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں اور نہ ہی جن کے لیے یہ انتظام ہوتا ہے ان کے نام کمیٹی کے علاوہ کسی کے ساتھ ظاہر کیے جاتے ہیں۔ یہ اقدام باعزت امداد اور رازداری کی اعلیٰ مثال ہے۔اس موقع پر آزاد کشمیر یونین آف رائٹرز کے صدر جن میں ظفر مغل، سیکرٹری جنرل لیاقت بشیر فاروقی اور ڈویژن مظفرآباد کے دیگر ممبران شامل ہیں، نے انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی مرکزی قیادت بالخصوص چیئرمین زبیر احمد انصاری کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاحی اقدام نہ صرف قابلِ تقلید ہے بلکہ معاشرے میں اخوت، ہمدردی اور خود انحصاری کے فروغ کا عملی پیغام بھی ہے۔
آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ رب العزت انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی اس مخلصانہ کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، وعدوں کی تکمیل میں سرخرو کرے اور مزید مستحق خاندانوں کی مدد کی توفیق عطا فرمائے۔
