⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
کشمیر سے بے وفائی: ایک قوم، ایک دعویٰ، دو رویے
کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، ایک نظریہ ہے۔ ایک ایسی داستان جس میں قربانی، وفا، اور استقامت کی کئی دہائیاں سمٹی ہوئی ہیں۔ پاکستان کا مقدمۂ کشمیر صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں نہیں، لاکھوں شہداء کی قبروں میں دفن ہے۔ لیکن افسوس کہ آج اس نظریے سے وہ لوگ دستبردار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جو خود کو کشمیری کہلوانے پر فخر کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں حالیہ مطالبات کا جو بیانیہ سامنے آیا ہے، وہ ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین کی نمائندگی ختم کر دی جائے، اگر ان کی مخصوص نشستیں، ان کا سرکاری کوٹہ، ان کی شناخت مٹا دی جائے، تو پھر یہ مان لینا چاہیے کہ ہم نے کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف سے یوٹرن لے لیا ہے۔ اور جب آپ خود ہی کسی حصے کو اپنی ریاست سے کاٹ دیں تو دنیا سے شکوہ کرنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ بھارت، جو کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو ہمیشہ روندتا آیا ہے، وہ آج تک اپنے آئین میں آزاد کشمیر کے لیے سیٹیں رکھے ہوئے ہے۔ وہ چاہے جھوٹ بول رہا ہو، مگر مسلسل بول رہا ہے۔ دوسری طرف ہم، جو سچ پر ہیں، اپنے ہی مؤقف سے پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔ اگر ہم نے مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی کو ختم کر دیا تو یہ پیغام دنیا کو جائے گا کہ اب پاکستان خود مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ نہیں سمجھتا۔ نوے کی دہائی میں جب مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں مہاجرین جان بچا کر آزاد کشمیر کی طرف آئے تو ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ وہ در بدر ہوئے، خیمہ بستیوں میں زندگی گزاری، اور آزاد کشمیر کے شہریوں نے انہیں اپنانے سے انکار کر دیا۔ ان کے بچوں کو حقارت ملی، ان کی ماؤں کو بےگھر کیا گیا، اور ان کی آنکھوں کے خواب دفن کر دیے گئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنے ہی دیس میں اجنبی ہوں۔ پاکستان کے طول و عرض میں آج بھی کشمیری مہاجرین آباد ہیں۔ ہزارہ، اٹک، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور ملتان، کراچی ہر جگہ وہ عزت سے رہ رہے ہیں۔ انہیں گلے لگایا گیا، زمین دی گئی، روزگار ملا۔ لیکن آزاد کشمیر میں آج بھی ان کے لیے دل تنگ ہیں، رویے سخت ہیں اور زبانوں میں نفرت ہے۔ یہ فرق صرف جغرافیے کا نہیں، سوچ کا ہے۔یہی سوچ آج عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں کھل کر سامنے آئی ہے۔ وہ مطالبات جن میں ارب پتیوں کے لیے بجلی مفت کرنے کی بات ہے، جن میں آٹے کو مزید سستا کرنے کا شور ہے جبکہ پہلے ہی وہ 50 روپے فی کلو ہے۔ وہ مطالبات جن میں سرکاری نوکریوں میں مہاجرین کے کوٹے کے خاتمے کی بات ہے، جن میں فوج کو بیرونی فورس قرار دے کر نکالنے کا تقاضا ہے۔ یہ مطالبے کسی معاشی اصلاحات کا ایجنڈا نہیں، بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں: پاکستان سے عملی لاتعلقی۔ ایسا لگتا ہے جیسے کشمیری شناخت کو صرف اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب فائدہ لینا ہو، اور جیسے ہی کوئی قیمت ادا کرنے کا وقت آئے، تو یا تو وہ پاکستان کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں یا مظلومیت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ مہاجرین کی سیٹوں کا خاتمہ دراصل کشمیر پر پاکستان کے دعوے کی اخلاقی بنیاد کو کمزور کرنا ہے۔ اگر کل کو بھارت اقوامِ متحدہ میں کہے کہ پاکستان نے تو خود کشمیر کو چھوڑ دیا، تو ہمارے پاس کیا دلیل بچے گی؟ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے لیے خون دیا ہے، سرمایہ دیا ہے، امن و امان کی قربانی دی ہے۔ یہی وہ تنازع ہے جس کے سبب بھارت نے پاکستان میں بدامنی پھیلائی، بلوچستان میں مداخلت کی، تحریک طالبان کو ہوا دی، اور دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کیا۔ پھر بھی پاکستان آج تک کشمیر کے مؤقف پر قائم ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا کشمیری بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں؟. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو۔ آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔ پندرہ لاکھ کشمیری آج بھی پاکستان میں بسے ہوئے ہیں۔ انہیں یہاں جائیدادیں بنانے کی آزادی ہے، کاروبار ہیں، سیاست میں حصہ ہے۔ لیکن پاکستان کے عوام آزاد کشمیر میں ایک انچ زمین نہیں خرید سکتے۔ کیا یہ برابری ہے؟ کیا یہی اسلامی اخوت ہے؟ اگر پاکستان دشمن ہو جاتا تو شائد کشمیریوں کو اتنی کھلی چھوٹ نہ ملتی جتنی اب ہے۔ یہ وقت ہے کہ آزاد کشمیر کی قیادت اور عوام خود سے یہ سوال کریں کہ اگر مہاجرین کی نشستیں ختم کرنی ہیں، ان کا کوٹہ ختم کرنا ہے، انکی موجودگی ہی ختم کرنی ہے، تو پھر کشمیر کی آزادی کی بات کس منہ سے کریں گے؟ اگر آپ مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کو اپنا نہیں مانتے، تو پھر بھارت کے ساتھ بیٹھ کر سرحد طے کر لیں، تاکہ پاکستان کو بھی معلوم ہو جائے کہ اب وہ کس کے لیے قربانی دے رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج کا آزاد کشمیر ایک فیصلے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یا تو وہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو گلے لگا کر اپنے مؤقف کو مضبوط کرے، یا خود ہی اپنی جدوجہد کا جنازہ نکال دے۔ کیونکہ تاریخ بے رحم ہے، وہ صرف انہیں یاد رکھتی ہے جو وفادار ہوں۔ غداروں کے لیے صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
