گلوبل صمود فلوٹیلا: انسانیت کا ضمیر اور ہماری ذمہ دار

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

گلوبل صمود فلوٹیلا: انسانیت کا ضمیر اور ہماری ذمہ دار

دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں خاموشی جرم اور لا تعلقی بے حسی بن چکی ہے۔ آج فلسطین کے معصوم بچے خون میں نہا رہے ہیں، ان کے اسکول، اسپتال اور بستیاں ملبے میں بدل چکی ہیں۔ فلسطینی ماؤں کی آہیں فلک کو چیر رہی ہیں اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ یہ منظرنامہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کی انسانیت کا امتحان ہے۔
ایسے میں گلوبل صمود فلوٹیلا محض ایک بحری قافلہ نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری، امید اور مظلوم انسانیت کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک علامتی اعلان ہے۔ یہ قافلہ دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ کیا دنیا کے لوگ ظلم کے مقابل خاموش بیٹھیں گے یا کم از کم اپنی آواز بلند کریں گے؟
آج سچ یہ ہے کہ ہر شخص عملی یا مالی طور پر مدد نہیں کر سکتا۔ ہر کسی کے پاس وسائل نہیں، لیکن ہر کسی کے پاس ایک چیز ضرور ہے آواز
اور آج کے دور میں سب سے طاقتور آواز سوشل میڈیا ہے۔ ایک پوسٹ، ایک شیئر، ایک ہیش ٹیگ بھی عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑ سکتا ہے، میڈیا اور حکومتوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ مظلوم کے حق میں کھڑے ہوں۔ یہ چھوٹے چھوٹے قدم مل کر ایک بڑی لہر میں بدل سکتے ہیں۔
ہم اگر گلوبل صمود فلوٹیلا کی حمایت سوشل میڈیا پر کرتے ہیں تو یہ صرف ایک کلک نہیں ہوتا، یہ مظلوم بچوں کے لیے ایک امید، فلسطینی ماؤں کے لیے ایک سہارا، اور ظالم کے ایوانوں کے لیے ایک پیغام بن جاتا ہے کہ دنیا ابھی زندہ ہے۔ خاموشی مظلوم کے حق میں نہیں بلکہ ظالم کے حق میں گواہی ہے۔
تاریخ ہمیں یاد رکھے گی۔ آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ جب غزہ کے بچے چیخ رہے تھے، جب فلسطین کی گلیاں خون سے سرخ تھیں، تب ہم نے کیا کیا؟ آئیے آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم اپنی پروفائلز، اپنے پیجز، اپنے ہیش ٹیگز کو مظلوموں کی آواز بنائیں، گلوبل صمود فلوٹیلا کے پیغام کو عام کریں، تاکہ کل ہم شرمندہ نہ ہوں کہ ہم بول سکتے تھے مگر بولے نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *