انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: انسان دوست تنظیم

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: انسان دوست تنظیم


پاکستان اس وقت حالیہ بارشوں اور سیلابی کیفیت کے باعث ایک بڑے انسانی المیے سے دوچار ہے۔ شمالی علاقہ جات سے لے کر پنجاب کے مختلف دیہات تک تباہی کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ کہیں گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو چکی ہیں، کہیں کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کہیں لوگ کھلے آسمان تلے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر دل درد مند یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کون ان متاثرہ بھائی بہنوں کے زخموں پر مرہم رکھے گا؟
اس پس منظر میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ محض قلمکاروں کی تنظیم نہیں، بلکہ انسانیت کا درد رکھنے والا ایک قافلہ ہے۔ یہ تنظیم ہر مشکل گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آج بھی مصیبت کے اس وقت میں متاثرین کی ڈھارس بن رہی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چیئرمین زبیر احمد انصاری کی زیرِ نگرانی بونیر سے پنجاب تک امدادی سرگرمیاں جاری وساری ہیں۔ سیلابی صورتحال کے آغاز سے ہی انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی جانب سے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ بونیر، شانگلہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں فوری طور پر اشیائے خوردونوش اور طبی سامان پر مشتمل ٹرک روانہ کیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو ادویات، صابن، سینیٹائزر، ٹاولز، بخار اور الرجی کی دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی یونین کی ٹیمیں پہنچیں اور مقامی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یونین کے کارکنوں نے محض سامان پہنچانے تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ عملی طور پر متاثرین کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کا دکھ بانٹا۔ ان کے ساتھ رہائش پذیر ہو کر، ان کے مسائل سنے اور ان کی فوری ضروریات پوری کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔
یونین کا ایک نمایاں پہلو اس کے صحافی رکن ہیں جنہوں نے اس کٹھن وقت میں متاثرہ علاقوں کی اصل صورتحال دنیا کے سامنے لانے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ صحافی بھائی اور بہنیں مشکل میں پھنسے لوگوں کی آواز بنے اور ان کے مسائل اعلیٰ حکام اور عوام تک پہنچائے۔ یوں ان کی قربانیوں نے نہ صرف متاثرین کو اجاگر کیا بلکہ امدادی کوششوں میں تیزی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یونین کی تازہ ترین کاوش لاہور کے علاقے مراکہ (موہنوال کے آگے) میں میڈیکل کیمپ کے قیام کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ لاہور کی جانب سے جگہ فراہم کر دی گئی ہے اور جمعرات 11 ستمبر کو صبح دس بجے اس کیمپ کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس کیمپ میں ماہر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور تنظیم کے کارکنان شریک ہوں گے۔ متاثرہ لوگوں کو مفت علاج اور ادویات مہیا کی جائیں گی تاکہ وہ اپنے زخموں اور بیماریوں سے نجات پا سکیں۔ یونین ہمیشہ کی طرح اپنی لکھاری فیملی سے امید رکھتی ہے کہ اس کیمپ کا بھرپور حصہ بنیں گے اور اس مشکل وقت میں اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی عملی امداد سے ڈھارس بندھائیں گے۔
جہاں یونین کا ہر رکن اپنے طور پر اس مہم کا حصہ بنا اور اپنی خدمات پیش کی وہاں اگر اب اس انسان کی بات نہ کی جائے جو خدمات کے اس سلسلے کے روحِ رواں اور جان ہیں، تو زیادتی ہوگی۔ اس سارے عمل کی قیادت چیئرمین انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز زبیر احمد انصاری کر رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے انسان ہیں جو اپنی عملی زندگی میں بارہا یہ ثابت کر چکے ہیں کہ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ جہاں کہیں انسان مشکل میں ہو، وہ اللہ کے دیے ہوئے وسائل سے بڑھ چڑھ کر مدد کرتے ہیں۔ ان کے اس جذبے کو نہ صرف تنظیم کے اراکین بلکہ عام لوگ بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صدر انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز آپا ثمینہ طاہر بٹ صاحبہ جنہوں نے اپنی تحاریر کے ذریعے باقی ساتھیو کو تمام صورت حال سے آگاہ فرمایا وہیں نائب صدر جناب زوہیب رمضان بھٹی صاحب اور سیکرٹری جنرل جناب طاہر تبسم درانی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمہ گوش اپنے مصیبت زدہ لوگوں کی مشکلات کو ہمارے اور دنیا کے سامنے لانے میں دن رات کام کیا اور انتظامی آمور کو احسن طریقے سے سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ امدادی سرگرمیوں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ہم آپ سب کی خدمات کو ایک بار پھر سلام پیش کرتے ہیں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ اس وقت متاثرہ علاقوں کے لوگ اپنے دکھ درد میں تنہا نہیں ہیں۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کا ہر رکن ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ قافلہ ایک روشن پیغام لے کر نکلا ہے کہ مصیبت کے وقت ہاتھ تھامنا ہی اصل انسانیت ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی یہ امدادی سرگرمیاں اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے ادارے اور شخصیات موجود ہیں جو اپنے مفاد سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *