ٹوٹے لفظ

میرے لفظ بکھر جاتے ہیں
جب میں انہیں جوڑنے بیٹھتی ہوں
کاغذ کے سفید دامن پر
دھبے ساگر کی طرح پھیل جاتے ہیں۔۔۔
میری سانسوں کے اندر
اک جلتی ہوئی آگ ہے
جو ہر حرف کو جلنے سے پہلے
راکھ میں بدل دیتی ہے۔۔۔
میں سوچتی ہو۔۔۔
کیا لکھنا جرم ہے؟
یا سچائی زنجیر ہے
جس کے سامنے ہر قلم
گرفتار ہو جاتا ہے۔۔۔
میرے خوابوں کی کرچیاں
ہر صفحے پر چبھتی ہیں
میری ڈائری گواہ ہے
کہ میں نے ہزار بار خود کو لکھا
اور ہزار بار مٹا ڈالا۔۔۔
میں لوگوں کے خوف سے زیادہ
اپنے ہی دل کے زخموں سے ڈرتی ہوں
جو ہر لفظ کے ساتھ
کھل جاتے ہیں، رستے ہیں۔۔۔
کبھی سوچتی ہوں
قلم کو دریا میں پھینک دوں
تاکہ لفظ تیرتے رہیں
اور دنیا خود پڑھے
میری خاموش چیخوں کو۔۔۔۔
مگر پھر اک صدا
میرے اندر سے گونجتی ہے۔۔۔۔
لکھو! کیونکہ یہی تیرا وجود ہے
یہی تیری جنگ ہے
اور یہی تیری فتح۔۔۔۔
میں ٹوٹے لفظوں کی لکھاری ہوں
جو راکھ میں بھی روشنی ڈھونڈ لیتی ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *