⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
دامان و تھل کے استادالشعراء امان اللہ کاظم مرحوم
شہر دانش لیہ صحرا اور دریا کے سنگم پر واقع ہے گویا کہ جغرافیائی طور پر اس کے مشرقی طرف ایک بہت بڑا صحرا جسے تھل کہا جاتا ہے اور مغرب میں ایک بہت بڑا دریا جسے شیر دریا سندھ کہا جاتا ہے پھر سندھ کے مغربی طرف سرائیکی زبان و ادب تاریخ و ثقافت کے دلدادہ لوگوں کی دھرتی جسے دامان سے منسوب کیا جاتا ہے موجود ہے اور لیہ کے مشرقی جانب ریتلا علاقہ جسے “تھل” سے منسوب کیا جاتا ہے موجود ہے صحرا اور دریا کے درمیان جگمگ جگمگ کرتا یہ روشنیوں کا خوبصورت شہر لیہ موجود ہے۔دھرتی دامان سے روزگار کے سلسلے میں لیہ آنے والی شخصیات میں استاد امان اللہ کاظم ایک توانا اور معتبر حوالہ تھے جنہوں نے لیہ میں اپنی روزگار کی تگ و دو کے ساتھ ساتھ فکر و دانش اور شعر و سخن کا کام بھی جاری رکھا ۔آپ کا خاندانی پس منظر کچھ یوں ہے استاد امان اللہ کاظم کے آباواجداد حضرت میاں خان محمد خان والی افغانستان احمد شاہ اعبدالی کے ہمراہ اپنے عہد شباب میں غزنی سے سرزمین ہند میں تشریف لائے آپ کا تعلق پٹھانوں کے معروف قبیلے سلیمان خیل کی شاخ جلال زئی سے تھا آپ کی اعلی پیشہ ورانہ زندگی کا آغازبلوچستان کے علاقے رجحان جمالی سے ہوا پھر 1968 سے 1974 تک ہائی سکول نتکانی میں فرائض منصبی ادا کرتے رہے 1979 سے ماڈل ہائی سکول لیہ تشریف لائے اور یہیں سے اپنی ریٹائرمنٹ 1996 میں لے کر اپنی علمی ادبی اور تحقیقی زندگی کا آغاز کیا آپ کی اعلی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کی اولاد میں سے پانچ لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ڈاکٹر عطا الرحمان ڈاکٹر عتیق الرحمن ہیں ڈاکٹر عتیق الرحمان نے میڈیکل کے شعبے میں ریسرچ کر کے 20 سے زائد کتابیں لکھیں۔امان اللہ کاظم نے لیہ میں اپنے ادبی سفر کا آغاز نادر سرائیکی سنگت سے کیا اور آپ نے اس سنگت میں اہم کردار ادا کیا ادبی روایت کو مستحکم فرمایا سنگت کے زیر اہتمام طرحی مشاعروں کا آغاز کیا مرحوم نادر قیصرانی کی وفات کے بعد انہیں دلی صدمہ ہوا اور کچھ دیگر معروضی حالات کے پیش نظر آپ نے گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔کتابوں کا مطالعہ شب روز جاری و ساری رکھا اور اسی طرح انہوں نے تحقیق کے میدان میں بہت نمایاں کردار ادا کیا تحقیق کے ساتھ ساتھ شعر و سخن کا بھی مذاق جاری تھا آپ کا پہلا مجموعہ کلام “پپلیں ہنجھ نا ماوے” اور دوسرا “قندیل دل” شائع ہوا آپکا ایک مجموعہ “رستہ رستہ اوجھڑ” ابھی منتظر اشاعت تھا ۔اس کے علاوہ اپ نے سرائیکی ضرب المثال پر ایک کتاب اکھان پر مبنی “کنڑ بُر” کے نام سے شے کرائی سرائیکی گرامر تے املا دے اصول نثری تحقیق ذکریا یونیورسٹی کے شعبہ سرائیکی کے لیے ایک پختہ کام کیا جسے تادیر یاد رکھا جائے گا سرائیکی مصادر اور ان کے مشتقیات بھی قابل ذکر کام کیا گیا کے علاوہ اپ نے بے شمار تاریخی ناول لکھے جن کی تاریخ کے نامور شخصیات پر کی زندگی پر مبنی تھے جن کی ولادت سے لے کر وفات تک جائزہ لیا گیا اور کاری کو تجسس اور دلچسپی کے عنصر میں شامل کیا کی تحقیقانہ زندگی رواں دواں تھی اسی اثناء میں آپ نے شرح بانگ درا شرح بال جبرائیل شرح ضرب کلیم شرح عرب ارمغان حجاز و دیگر کتب شائع کیں اس کے علاوہ شرح دیوان حافظ شیرازی شرح دیوان غالب شرح ابیات بابا فرید گنج شکر شرح ابیات سلطان باہو رح میاں محمد شرح بابا بلے شاہ شرح حضرت شاہ حسین شرح ہیر وارث شاہ شاہ دیوان حضرت خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ ابھی منتظر اشاعت تھے ۔ان کی زندگی کی ایک خواہش تھی کہ سرائیکی لغت پر بھی کام کریں اس پر بھی وہ خاطرخواہ کام کر چکے تھے ۔اپ نے سرائیکی گرائمر کے حوالے سے غیر معمولی کام کیا اور جسے پورے سرائیکی وسیب میں بڑا قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور سرائیکی زبان و ادب کے لیے ایک انمول تحفہ دے گئے ہیں
علمی و ادبی حوالے سے اپ بام عروج پر متمکن تھے اپ فارسی عربی اردو سندھی بلوچی براہوی سرائیکی پنجابی انگریزی زبان پر کو پڑھ بھی سکتے تھے اور لکھ بھی سکتے تھے اپ کی تخلیقات پاکستانی ادب میں بالعموم اور ریگزار لیہ کے ادب میں بڑا اور حسین اضافہ تھا استاد کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ آپ سرائیکی میں بڑے تجربے کیے اور سرائیکی میں اردو شاعری کی طرح استاد امان اللہ کاظم نے سندھی صنف بیت وائی کو پہلی دفعہ متعارف کرایا ۔استاد امان اللہ کاظم میں ایک خاص وصف یہ تھا کہ وہ سادہ زبان کو بات کو بڑی سلیقہ مندی سے شیر کا لباس پہناتے اور بات کا کو باوازن اور بر محل بنا دیتے تھے اپ نے حمد نعت منقبت میں اپنے مجموعہ کلام کا اغاز کیا ۔اگر میں لفظوں میں اپ کا سراپا لکھوں تو کچھ یوں بنے گا کہ مقطع ریش چہرہ گول رنگت سفید مگر دلکش استادانہ وجاہت شخصیت میں رعب و وقار جو سراپا خلوص و محبت بزرگی میں بھی جوانی کی رمک لہجے میں کڑکتی بجلی کی کھنک ہر موضوع پر برمحل گھنٹوں بحث کرنے والی عظیم ہستی امان اللہ کاظم اردو سرائیکی کے قادر الکلام صاحب طرز نثر نگار ، تاریخ نویس اور نابغہ روزگار شخصیت تھے خوش مزاجی زندہ دلی اور استادانہ وجاہت آپ کی شخصیت کا طرہ امتیاز تھا آپ نے ہر صنف ادب میں طبع ازمائی فرمائی گویا سمندر کو کوزے میں بند کر دیتے تھے آپ کا اپنا ایک منفرد سٹائل اور ڈکشن تھا آپ کا کلام ہو نثر ہو یا تاریخی تحقیق قاری پڑھتے ہی اس کے سحر میں اسیر ہو جاتا ہے آج پورا سرائیکی وسیب اور پورا پاکستان آپ کی قابلیت کا معترف ہے ۔آپ کی شخصیت میں ملنساری اور خوش اخلاقی کا وصف یہ تھا کہ کوئی بھی اپ کو ملنے اتا خواہ وہ اپ کا ملنے والا یا اجنبی بھی ہوتا تو وہ آپ کے اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا تھا علمی و شخصیت کا گرویدہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے تابعدار ہونے کی خواہش کرتا ہم اللہ کاظم ایک ہمہ جہت شخصیت تھے آپ کی تمام تصانیف علم و دانش کے نقطہ عروج پر متمکن ہے ان تمام اوصاف سے قطع نظر آپ کا قابل ذکر کارنامہ سرائیکی گرامر کی املاء اور اس کے اصول سرائیکی مصادر اور ان کے مشتاقات اسی طرح ناسازگار طبہ کی وجہ سے بھی اگرچہ اس رفتار و ولولے سے کام نہیں ہو پا رہا تھا لیکن انہوں نے پیرانہ سالی کے باوجود بھی کام کو جاری و ساری رکھا ۔آخری ایام میں کبھی کبھی آپ غمگین ہو جاتے اپنوں کی لاپرواہی زمانے کی بے مہری شعرا کا ورثہ رہا ہے شاعر ادیب کو یہ غم لاحق رہا ہے اسلاف سخن کے اس ورچے کو اپ خوش دلی اور خوش اسلوبی سے خوش امدید کہتے تھے اور قنوتیت کی بجائے رجائیت کا درس دیتے تھے ہر ایک کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے ملک کو کے طول و عرض سے شعراء محققین آپ سے منسلک تھے آپ کے علمی اور ادبی اُپج کے مداح تھے ۔
آپ نے پوری زندگی اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں ان کے روزگار کے سلسلے میں صرف کی اور آپ کرائے کے مکان میں ہی رہے اتنی بڑی شخصیت سادگاہ سادہ زندگی گزار کر ہمیں یہ سبق دے گئے کہ اپ زندگی کی نشیب و فراز سے مت گھبرائیں اپ اپنا کام جاری رکھیں ایک دن اپ کو زمانہ تسلیم کرے گا ۔ریڈیو ملتان سے اپ کے بہت سے گیت اج بھی نشر ہو رہے ہیں اور سامعین کے ذوق و شوق کو جلا بخش رہے ہیں اپ کے بیشتر گیت ریڈیو ملتان سے نسیم اختر سانول سجن قمر اقبال اور اسلم ساجد کی آواز میں نشر ہوتے رہے ہیں ۔
“ساڈے پیرے جتی ریت دی ساڈے سر اتے سجھ دی بھاہ اساں چھیڑو چھیل چھبیلڑے ساڈی دھرتی ساڈی ماء “
یہ وہ مقبول گیت ہے جو ریڈیو ملتان سے بارہا نشر ہوتا رہا ہوتا رہے گا ۔المختصر استاد امان اللہ کاظم نے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار زیست بنا رکھا تھا ۔امان اللہ کاظم کی شاعری کو اگر پڑھا جائے تو آپ الفاظوں کے نئے نئے مفاہیم پیش کرتے تھے ۔آپ کافی عرصہ سے اپنے بستر تک اور گھر تک محدود ہو گئے تھے زمانہ اپ کی قابلیت کو سلام پیش کرنے کاہے بگاہے اپ کے ہاں حاضر ہوتا رہتا تھا آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ شمشاد سرائی ہمیں اس دنیا سے جاتے ہوئے آپ محسوس بھی نہیں کر پائیں گے اسی طرح ہوا کہ آپ کو معمولی سی ایک تکلیف ہوئی اور آپ نے خندہ پیشانی سے موت کو گلے لگایا ۔دعا ہے اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
