⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
حسینیت یا محض رسومات؟
محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی ہر شہر، ہر بستی، ہر گلی کی فضا بدل جاتی ہے۔ سیاہ جھنڈے، سبیلیں، ماتمی جلوس، مجالس اور نعرۂ “یا حسینؑ” کی گونج… ہر طرف ایک سوگوار منظر ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ظاہری سوگ کے پیچھے چھپی اصل حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم صرف لباس سیاہ پہن کر، پانی کی سبیل لگا کر اور نعرے بلند کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے حسینیت کا حق ادا کر دیا؟
معذرت کے ساتھ، ہم میں سے اکثر نے امام حسینؑ کی قربانی کو ایک محدود رسم تک محدود کر دیا ہے۔ حالانکہ حسینیت ایک زندہ، جاوید پیغام ہے۔ ایک ایسی صدا ہے جو ہر دور کے یزید کے خلاف اٹھنے کا مطالبہ کرتی ہے، چاہے وہ ظلم ریاست کی شکل میں ہو یا معاشرے کے اندر چھپے ہوئے استحصال کی صورت۔
ہم نے کربلا کو “صرف” یادداشت بنا دیا، سبق نہیں۔
کربلا کا المیہ نہ صرف تلواروں کا ٹکراؤ تھا، بلکہ اقدار کا امتحان تھا۔ ایک طرف اقتدار کا نشہ، جبر اور فریب تھا، دوسری طرف ایمان، سچائی، اخلاق، صبر اور عدل۔ امام حسینؑ نے تو دنیا کو بتایا کہ سر کٹایا جا سکتا ہے، جھکایا نہیں جا سکتا۔ مگر افسوس، ہم نے اس پیغام کو صرف عشرۂ محرم کی حدود میں قید کر دیا۔
مجالس میں ذکر ہوتا ہے، سبیلوں میں پانی بانٹا جاتا ہے، مگر دلوں سے بغض، زبانوں سے جھوٹ، ہاتھوں سے ظلم، اور آنکھوں سے فحاشی ختم نہیں ہوتی۔ کیا یہی ہے حسینؑ کا پیغام؟ اگر واقعی ہم حسینیت کے پیروکار ہیں، تو پھر ہم نمازوں میں غفلت کیوں برتتے ہیں؟ ہم حلال و حرام کا فرق کیوں مٹاتے جا رہے ہیں؟ کیا امام حسینؑ نے کربلا میں اپنی جان دے کر صرف چند دن کا ماتم کرنے کا درس دیا تھا یا پوری زندگی کو اصلاح کرنے کا راستہ بتایا تھا؟
تاریخ گواہ ہے، جب بھی قومیں رسومات میں الجھ کر اصل روحِ دین سے ہٹتی ہیں، تباہ ہو جاتی ہیں۔ یہی حال ہمارے معاشرے کا ہے۔ ہم نے حسینیت کو چند دن کی مظاہراتی عقیدت میں لپیٹ دیا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا، کربلا صرف آنکھوں کے آنسو نہیں، دل کے اندر انقلاب کا نام ہے
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں یزیدی فتنوں سے بچی رہیں، تو ہمیں صرف ظاہری رسومات نہیں بلکہ حسینیت کی روح کو اپنے دل، کردار، اور نظام میں راسخ کرنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، حق اور عدل کے لیے کھڑے ہوں، اور ہر دن کو کربلا کا دن سمجھ کر زندہ رہیں
آئیے، اس محرم ہم کالا لباس پہننے کے ساتھ ساتھ دل کی تاریکی بھی دور کریں۔ صرف سبیلیں نہ لگائیں، بلکہ اپنے کردار کو حسین بنائیں۔ یہی اصل ماتم ہے، یہی اصل حسینیت ہے۔
”جو جھک جائے ظلم کے آگے، وہ یزید ہوتا ہے… جو کٹ جائے مگر جھکے نہ، وہ حسین ہوتا ہے!“
