⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سولہ دسمبر.. دو زخم، ایک سبق
دسمبر کی سردی کچھ زیادہ ہی گہری ہوتی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس مہینے میں کچھ یادیں ایسی ہیں جو محض جسم نہیں، روح کو بھی سرد کر دیتی ہیں۔ سولہ دسمبر انہی یادوں میں سے ایک ہے۔ یہ تاریخ ہمارے کیلنڈر پر لکھی ہوئی نہیں، یہ ہمارے شعور پر کندہ ہے۔ ایک ایسی تحریر جسے ہم پڑھنے سے کتراتے ہیں، مگر مٹا بھی نہیں سکتے۔ ہم نے اس دن کو دو الگ خانوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ایک طرف سقوطِ ڈھاکہ، دوسری طرف پشاور کے بچوں کی خاموش قبریں۔ مگر تاریخ اتنی بے ربط نہیں ہوتی۔ وہ دھاگوں میں جڑی ہوتی ہے، اور یہ دونوں سانحات ایک ہی دھاگے کے دو گرہ دار مقام ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کو اگر صرف ریاستی غلطی کہا جائے تو یہ آدھا سچ ہوگا، اور اگر صرف سازش کہہ کر بات ختم کر دی جائے تو یہ بھی ناانصافی ہے۔ مشرقی پاکستان میں احساسِ محرومی حقیقی تھا، مگر اس محرومی کو ایک سمت دینے والے کردار بھی موجود تھے۔ شیخ مجیب الرحمٰن ایک مقبول عوامی رہنما تھے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی سیاست آہستہ آہستہ وفاق سے فاصلے کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ چھ نکات محض اصلاح کی دستاویز نہیں تھے، وہ ایک ایسے راستے کی نشاندہی بھی کرتے تھے جس کے آخر میں علیحدگی صاف دکھائی دیتی تھی۔ انتخابی کامیابی کے بعد مفاہمت کے بجائے دباؤ کی سیاست نے خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔ اس خلا میں بھارت نے قدم رکھا۔ ایک ہمسایہ ملک جو پہلے دن سے پاکستان کو ایک عارضی حقیقت سمجھتا تھا، اس موقعے سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا تھا۔ مکتی باہنی کی سرپرستی، سفارتی محاذ پر جارحانہ مہم، اور آخرکار فوجی مداخلت…. یہ سب تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھارت نے شعلے نہیں جلائے، مگر جلتی آگ پر ہوا ضرور دی۔ مگر سوال پھر وہیں آ کر ٹھہرتا ہے: اگر اندرونی دیواریں مضبوط ہوتیں تو بیرونی ہاتھ کیسے اندر آتا؟ اگر سیاسی فیصلوں میں وسعتِ نظر ہوتی، اگر اکثریت کے مینڈیٹ کو تسلیم کر لیا جاتا، تو شاید تاریخ کا رخ کچھ اور ہوتا۔ دشمن ہمیشہ کمزوری ڈھونڈتا ہے، اور بدقسمتی سے ہم نے اپنی کمزوریاں خود نمایاں کر دیں۔ یہی سبق ہمیں آگے کے برسوں میں بھی بار بار ملا، مگر ہم نے اسے یاد رکھنے کے بجائے بھلانے کو ترجیح دی۔ اصولوں کی جگہ مصلحت نے لے لی، اور وقتی سکون کے بدلے ہم نے طویل مدتی زخم مول لے لیے۔ اسی تسلسل میں ایک اور سولہ دسمبر آیا…اس بار پشاور میں نہ کوئی جغرافیائی تنازع، تھا نہ اقتدار کا جھگڑا..مگر پھر بھی خون بہا۔ وہ بچے کسی نظریے کا حصہ نہیں تھے، مگر وہ اسی فکری انتشار کی قیمت ادا کر گئے جو برسوں سے ہمارے گرد بنتا رہا۔ سولہ دسمبر ہمیں الزام دینے نہیں آتا، وہ ہمیں سوچنے آتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف سازشوں سے نہیں ٹوٹتیں، وہ تب بکھرتی ہیں جب سچ کہنا مشکل اور مان لینا ناممکن ہو جائے۔ یہ دن سوگ کا ضرور ہے، مگر اس سے زیادہ خود کلامی کا دن ہے۔ یہ پوچھنے کا دن کہ ہم نے کہاں ٹھہر کر سننا چھوڑ دیا، کہاں جھک کر مانگنا چھوڑ دیا، اور کہاں اپنی ہی کہانی سے منہ موڑ لیا۔ دسمبر کی سرد ہوا گزر جائے گی، تاریخ بھی آگے بڑھ جائے گی، مگر سوال وہیں رہے گا۔ سوال یہ نہیں کہ سولہ دسمبر کیوں آیا، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے سمجھ پائے؟
