سرخ پتے

سرخ پتے

خزاں کی خوبصورت ہوائیں چل رہی تھیں۔ فاطمہ اب تک ہجر میں نہیں، خالی پن میں مبتلا تھی۔ خیالوں میں گم، تنہا اُس پرانے کارخانے کے احاطے میں ٹہل رہی تھی جہاں اب صرف دیواروں کی راکھ اور خاموشی باقی تھی۔ وہ درخت کے پاس رکی، جس کے سائے میں کبھی مزدور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ اب وہ درخت تقریباً ویران تھا، زرد پتوں سے بھرا ہوا۔ فاطمہ نے جیسے ہی ایک پتے پر قدم رکھا، وہ پتہ سرخ ہوگیا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔ پھر دوسرا قدم رکھا, دوسرا پتہ بھی سرخ۔ یوں لگتا تھا جیسے زمین کچھ کہنے لگی ہو۔ اچانک ہوا کے ساتھ راکھ اُڑ کر اُس کے چہرے سے لپٹ گئی۔ فاطمہ کے کانوں میں ایک سرگوشی گونجی: “ہم نے کسی غیر کو نہیں جلایا تھا، ہم نے خود کو جلا ڈالا تھا۔” اُس کا دل دہل گیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں برسوں پہلے ایک غیرملکی مینیجر کو مزدوروں کے ہجوم نے ظلم اور غصے میں گھیر لیا تھا. وہ منظر، جس نے پاکستان کا چہرہ بھی جلا دیا تھا۔ فاطمہ نے آنکھیں بند کیں۔ اُسے اپنے والد یاد آئے، وہ بھی اسی کارخانے میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی تھی، بس کہا کرتے تھے: “بیٹی، یہاں مزدور کا دل سب سے پہلے جلتا ہے، تن نہیں۔” اُس کے قدم پھر زمین پر جم گئے۔ ہر پتہ جس پر وہ چلتی، سرخ ہوتا جاتا۔ درخت کے تنے پر اب دھواں سا اُٹھ رہا تھا۔ فاطمہ نے ہاتھ رکھا تو چھال کے نیچے کوئی دھڑکن تھی۔ مدہم مگر زندہ۔۔۔۔ درخت جیسے بول اٹھا: “فاطمہ… زمین کچھ نہیں بھولتی۔ یہ پتّے اُن آنسوؤں سے رنگے ہیں جو بول نہیں سکے۔” اُس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا۔ پتے نے وہ قطرہ پی لیا اور ہوا میں ہلکی سی روشنی بھر گئی۔ فاطمہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ خزاں کی ٹھنڈی ہوا میں جیسے کسی کی معافی، کسی کا پچھتاوا تحلیل ہو گیا ہو۔ اُس نے آہستہ کہا: “ہم سب قاتل نہیں تھے، کچھ صرف گواہ رہ گئے تھے۔” جب وہ واپس پلٹی تو درخت کے نیچے بکھرے سارے پتے سرخ ہو چکے تھے، لیکن اب وہ سرخی خون کی نہیں، ضمیر کی جاگی ہوئی روشنی کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *