⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ ساز گولڈن جوبلی تقریبات، اور اعلیٰ عدلیہ تاریخ کے آئینے میں،
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے 50 سال مکمل ہونے پر گولڈن جوبلی تقریات دارالحکومت مظفرآباد میں اختتام پذیر ہو گئی ہیں،جن میں چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان نے بھی بھرپور شرکت کرکے گولڈن جوبلی تقریبات کو نہ صرف چار چاند لگا دئیے بلکہ آزاد خطہ کی تاریخ میں ان تقریبات کو سنہری حروف سے لکھے ایک نئے باب کے اضافے کی مانند بنا دیا ہے۔جسے مدتوں فراموش نہیں کیا جاسکے گا، جس کے لیئے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ محمد سعید اکرم اوران پر مشتمل ججز کی ٹرائیکا ٹیم یقیناً قابل مبارکباد ہے،
ماضی کے جھروکوں میں آزادکشمیر کے عدالتی نظام کے ارتقاءپر بات کی جائے تو تاریخ کی ورق گردانی سے عیاں ہوتا ہے کہ1947ءمیں تقسیم برصغیر کے وقت جب ریاستوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی ایک ملک ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کریں تو ریاست جموں و کشمیر کے عوام نے آزادی کی جدوجہد کے نتیجے میں 24 اکتوبر 1947ءکو آزاد جموں و کشمیر کی حکومت قائم کی۔ آزاد کشمیر حکومت کے قیام کے ساتھ ہی گورننس کانظام، ایک انتظامی ڈھانچہ، اور ایک قانون ساز ادارہ تشکیل دیا گیا تاکہ جموں و کشمیر کی نئی بننے والی ریاست کے امور کو چلایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے، آزاد جموں و کشمیر کورٹس اینڈ لاز کوڈ 1948ءکو قرارداد نمبر 82 کے تحت نافذ کیا گیا، جس نے آزاد جموں و کشمیر میں عدالتی نظام کے قیام کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ ایک ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں ایک چیف جسٹس اور ایک ہائی کورٹ کا جج شامل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ کورٹس اور زیریں عدلیہ (جس میں سب ججز اور مجسٹریٹس کی عدالتیں شامل تھیں) بھی قائم کی گئیں۔ کورٹس لاز اینڈ کوڈ 1948ءمیں یہ طریقہ کار بھی وضع کیا گیا کہ کس طرح چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے ججز کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سب ججز، اور مجسٹریٹس کا تقرر کیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت یہ بھی بیان کیا گیا کہ مفتیوں کا تقرر ہائی کورٹ کے ذریعے کیا جائے گا، تاہم اس سے قبل حکومت کی منظوری ضروری ہو گی۔مفتی اعلیٰ کو آزاد کشمیر حکومت مقرر کرے گی، تاکہ وہ اسلامی شریعت سے متعلق تمام معاملات پر مشورہ دے سکے۔قانون کی دفعہ2 کے تحت یہ وضاحت کی گئی کہ اس قانون کے نفاذ کی تاریخ سے قبل موجود قوانین کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو قانونی طور پر درست تسلیم کیا جائے گا اور جو مقدمات اس وقت زیر التوا ہوں گے، وہ نئے عدالتی نظام یعنی آزاد جموں و کشمیر کورٹس اینڈ لاز کوڈ 1948ءکے تحت قائم کردہ عدالتوں کو منتقل کیے جائیں گے۔ دفعہ 3 میں کہا گیا کہ ایسے تمام قوانین اور ضوابط جو اس قانون سے متصادم ہوں گے منسوخ سمجھے جائیں گے۔ اسوقت قائم کردہ عدالتوں کو انتظامیہ اور عدلیہ کی سرگرمیوں پر عدالتی نگرانی کا اختیار دیا گیا تھا۔ یہ عدالتیں ذمہ دار تھیں کہ وہ تمام اعمال کو قانون کی روشنی میں جانچیں، اور یہ ججز کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام اقدامات قانونی دائرہ کار میں ہوں اور قانون کی پاسداری کے اندر رہیں۔ 1948ءکا قانون بعد میں ترمیم کے بعد کورٹس اینڈ لاز کوڈ 1949ءکے طور پر نافذ کیا گیا۔ یہ نیا قانون ایک جامع عدالتی نظام فراہم کرتا تھا تاکہ چیف جسٹس، ہائی کورٹ کے ججز، اور زیریں عدالتوں کے ججز کا تقرر کیا جا سکے۔کورٹس اینڈ لاز کوڈ 1949ءنے ان تمام قوانین اور ضوابط کو منسوخ کر دیا جو ڈوگرہ دور سے تعلق رکھتے تھے اور نئے نظام سے متصادم تھے،
یہاں سینیئر جج سپریم کورٹ خواجہ محمد نسیم کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی قانونی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ اہم بات بھی سامنےلانا ضروری ہے کہ حکومت پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور UNCIP کی قراردادوں سے حاصل شدہ اختیار کی بنیاد پر آزاد جموں و کشمیر تحریک کے سپریم ہیڈ کو ”رُولز آف بزنس 1950ئ” نافذ کرنے کی اجازت دی۔Rules of Business 1950ءکو تمام شعبہ جات پر لاگو کیاگیاجن میں قانون سازی سیکرٹریٹ،عدلیہ (Judiciary)، حکومتی سرگرمیاں،مالی معاملات (Financial affairs)،اور عوامی سروس میں بھرتیوں سے متعلق امور شامل ہیں۔سپریم ہیڈ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ صدر اور اپنی کونسل کے دیگر ارکان نامزد کرے، نیز چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کا اختیار بھی اسی کے پاس تھا۔Rules of Business 1950 میں مزید یہ درج تھا کہ قانون سازی کے اختیارات ایک کونسل آف منسٹرز (Council of Ministers) کو تفویض کیے جائیں گے، جس میں صدر اور دیگر ارکان شامل ہوں گے، اور ان سب کو سپریم ہیڈ مقرر کرے گا۔یہ قواعد (1950ئ) نہایت اہم تھے اور انہیں ایک عارضی آئین (Skeleton Constitution) کا درجہ حاصل تھا۔Rules of Busines 1950 کے تحت یہ بھی درج تھا کہ حکومت کو ہر وقت آزاد جموں و کشمیر تحریک کے سپریم ہیڈ کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا، جو ریاست جموں و کشمیر کے اندر تمام اختیارات کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔Rules of Business 1950 میں 1952ءاور 1958ءمیں بڑی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سپریم ہیڈ کا صدر اور کونسل آف منسٹرز کو نامزد کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ قانون سازی کے اختیارات، جو پہلے کونسل آف منسٹرز کے پاس تھے، اب وہ اختیارات وزارتِ امور کشمیر (Ministry of Kashmir Affairs) کے مشورے سے استعمال کیے جائیں گے۔چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے ججز کے ساتھ ساتھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ممبران کی تقرری بھی انہی تبدیلیوں کے تحت ہوگی۔ان ترامیم کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر حکومت کے انتظامی اختیارات میں واضح کمی کی گئی، اور یہ شرط رکھی گئی کہ وزارت امور کشمیر کا ایک جوائنٹ سیکریٹری چیف ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دے گا، جس کے پاس قانون سازی سے متعلق وسیع اختیارات ہوں گے۔صدارتی انتخاب ایکٹ 1960ئ، گورنمنٹ ایکٹ 1964ئ، اور گورنمنٹ ایکٹ 1968ءکو آزاد جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا، جس کے تحت چیف ایڈوائزر کو ایک مرکزی کردار دیا گیا جو ایک رکن کو کونسل کا چیئرمین مقرر کرنے کا مجاز تھا، اور اس طرح وہ بطور صدر (ex-officio) خدمات انجام دیتا تھا۔ یہ تینوں ایکٹس (1960ئ، 1964ئ، 1968ئ) آزاد جموں و کشمیر کے عدالتی نظام کو متاثر نہیں کرتے تھے، کیونکہ یہ نظام پہلے ہی آزاد جموں و کشمیر کورٹس اینڈ لاز کوڈ 1949ءکے تحت قائم کیا جا چکا تھا۔ آزاد جموں و کشمیر گورنمنٹ ایکٹ 1970ئآزاد جموں و کشمیر گورنمنٹ ایکٹ 1970ءکو UNCIP کی قراردادوں کی روشنی میں نافذ کیا گیا تاکہ ریاست جموں و کشمیر کے لیے ایک وسیع تر آئینی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔اس ایکٹ کے تحت تمام قانون سازی اختیارات قانون ساز اسمبلی کو تفویض کیے گئے، سوائے ان معاملات کے جو پاکستان کی حکومت کی ذمہ داریوں کے تحت آتے ہیں (UNCIP کی قراردادوں کیمطابق)، جیسے کہ دفاع و سلامتی،کرنسی کا اجرا،یا کوئی بھی بل، نوٹ یا کاغذی کرنسی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایکٹ 1970ءکے تحت قائم کی گئی قانون ساز اسمبلی کو اختیار دیا گیا کہ وہ آئین میں ترمیم کر سکے، سوائے شق 13، 19 اور 28 کے۔آزاد جموں و کشمیر گورنمنٹ ایکٹ 1970ءکی دفعہ 25(1) کے تحت ہائی کورٹ کا قیام عمل میں آیا۔ اس میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ ہائی کورٹ میں ایک چیف جسٹس اوردیگر ججز شامل ہوں گے، جن کی تعداد قانون ساز اسمبلی کے قانون کے ذریعے مقرر کی جا سکتی ہے۔تاہم، اس ایکٹ میں تقرری کا طریقہ کار اور عمل واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے یہ معاملہ کھلا رہ گیا۔ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی تمام سول عدالتوں کے لیے آخری اپیل کی عدالت تھی، علاوہ ازیں یہ وصیت (testamentary)، غیر منقولہ جائیداد (intestate) اور ازدواجی معاملات (matrimonial jurisdiction) کے حوالے سے بھی بااختیار تھی جیسا کہ قانون میں دیا گیاتھا۔ آزاد کشمیر کی حدود میں نافذقانون ہائی کورٹ کے کسی فیصلے، حکم یا ڈگری کے خلاف اپیل کا اختیار کسی بھی فورم کو نہیں دیتا تھا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر Courts and Laws Code، 1949ءمیں ترمیم کی گئی، جس کے تحت Azad Kashmir Courts and Laws Code (ترمیمی) ایکٹ 1958ءاور دفعات 13-A، 13-B کا اضافہ کیا گیا تاکہ ہائی کورٹ کے کسی واحد جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ میں اپیل کی جا سکے۔ تاہم، 1974ءمیں Azad Jammu and Kashmir Judicial Board Act (Constitution and Jurisdiction) کے نفاذ کے بعد دفعات 13-A اور 13-B کو منسوخ کر دیا گیا۔آزاد جموں و کشمیر جوڈیشل بورڈ (آئین اور دائرہ اختیار) ایکٹ، 1974ء(Act XX of 1974ئ) کو 14 ستمبر 1974ءکو نافذ کیا گیا۔ اس ایکٹ کے تحت جوڈیشل بورڈ قائم کیا گیا، جو ڈوگرہ دور میں موجود نظام کی طرز پر تھا۔ جوڈیشل بورڈ ایکٹ 1974ءکی دفعہ 3 میں اس بات کا تعین کیا گیا کہ بورڈ دو یا دو سے زیادہ اراکین پر مشتمل ہوگا۔ دفعہ 3 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت ان میں سے ایک رکن کو سینئر ممبر نامزد کیا گیااسی طرح جسٹس خواجہ محمد شریف (مرحوم) کو 15 مارچ 1975ءکو جوڈیشل بورڈ کے پہلے سینئر ممبر کے طور پر مقرر کیا گیا۔29 مارچ 1975ءکو AJ&K Judicial Board (Constitution and Jurisdiction) Act, 1974ءمیں ترمیم کی گئی جس کے ذریعے سینئر ممبر اور ممبر جوڈیشل بورڈ کی پوزیشنز کو بالترتیب چیئرمین اور ممبر کے طور پر دوبارہ نامزد کیا گیا۔ حکومتی ایکٹ 1970ءکے نفاذ کے صرف چار سال بعد ہی آزاد جموں و کشمیر کے عوام پر پاکستان کے آئین 1973ءکے نفاذ کے اثرات پڑے، جس نے پارلیمانی نظام حکومت متعارف کرایا۔جس کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974ءکو 24 اگست 1974ءکو نافذ کیا گیا، جس نے ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو مزید وسیع کیا۔ عبوری آئین 1974ءکی آرٹیکل 43 نے چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بیان کیا، جبکہ آرٹیکل 44 نے ہائی کورٹ کو رِٹ جاری کرنے کا اختیار دیا۔ بعد ازاں آرٹیکل 42 کو ایکٹ IX of 1975ءکے ذریعے تبدیل کیا گیا، جس کے تحت آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کو اعلیٰ ترین اپیل عدالت (Apex Court of Appeal) کے طور پر قائم کیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کو اپیل، نظرثانی (Review) اور مشاورتی (Advisory) اختیارات دیے گئے۔ اب آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ کو جن اداروں کے فیصلوں اور احکامات پر اپیل کا اختیار حاصل ہوا ان میں ہائی کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر، ہائی کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کا شریعت اپیلیٹ بنچ، آزاد جموں و کشمیر سروس ٹربیونل، آزاد جموں و کشمیر ماتحت عدلیہ سروس ٹربیونل، جنگلات اپیلیٹ ٹربیونل، آزاد جموں و کشمیر کا الیکشن ٹربیونل شامل ہیں۔ یہ ترمیم جو 1974ءکے عبوری آئین میں متعارف کرائی گئی تھی، نے آزاد جموں و کشمیر کے عدالتی نظام کو بنیادی طور پر ازسرِنو تشکیل دیا اور آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کو اعلیٰ ترین عدالت کے طور پر قائم کر دیا۔سب سے بڑی اپیل عدالت (سپریم کورٹ) قائم ہونے کے بعد، جناب جسٹس چوہدری رحیم داد خان کو آزاد جموں و کشمیر کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 10 مئی 1975ءکو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے قیام کے بعد Azad Jammu and Kashmir Judicial Board (Constitution and Jurisdiction) Act, 1974ءکو منسوخ تصور کیا گیا۔آرٹیکلز 42 اور 43 میں کی گئی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس اور ججوں کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا۔ یہ تقرریاں صدر آزاد جموں و کشمیر کریں گے، آئین میں درج مشاورتی عمل مکمل کرنے کے بعد، اور AJ&K کونسل کے چیئرمین کے مشورے کی بنیاد پر ترمیمی ایکٹ IX of 1975 کے ذریعے آرٹیکل 43 میں ذیلی آرٹیکل 8-A شامل کیا گیاجس کے تحت صدر کو یہ اختیار ملا کہ وہ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کی سفارش پر سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کر سکیں، جتنی مدت کے لیے ضرورت سمجھی جائے۔اسی طرح سیکشن 46-A کے اضافے سے سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کو مشاورتی دائرہ اختیار دیا گیا تاکہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کے چیئرمین یا صدر آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے کسی قانونی سوال پر رائے طلب کیے جانے پر سپریم کورٹ اپنی رائے دے سکے۔مزید کئی ترامیم بھی آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ءمیں متعارف کرائی گئیں تاکہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے معاملات کو بہتر طور پر چلایا جا سکے۔دسویں ترمیم کے تحت، جو 3 اپریل 1993ءکو عبوری آئین 1974ءمیں کی گئی، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا، اور اس کی موجودہ تشکیل میں ایک چیف جسٹس اور دو مستقل جج مقرر ہوئے۔ تیرہویں ترمیم کے ذریعے عبوری آئین میں آرٹیکل 3-A سے 3-J تک ”اصولِ پالیسی” شامل کیے گئے۔ اسی طرح تیرہویں ترمیم نے بنیادی حقوق کا ایک جامع مجموعہ بھی فراہم کیا جو پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے برابر ہیں۔ (ii) 13ویں آئینی ترمیم نے یہ فراہم کیا کہ اے جے اینڈ کے کونسل کا ایگزیکٹو اختیار اور اے جے اینڈ کے کونسل کے ذریعہ کسی بھی وقت بنائی گئی تمام قوانین کو ایسے قوانین سمجھا جائے گا جو اے جے اینڈ کے اسمبلی کے ذریعہ بنائے گئے ہیں اور یہ کہ اے جے اینڈ کے قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان تمام قوانین میں ترمیم کرے۔ تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت مالی معاملات میں خود کفیل ہو گئی ہے۔ ماضی میں ہر بجٹ خسارے میں تھا جبکہ سال 2019-20 اور اس کے بعد کے بجٹ جو کہ قانون ساز اسمبلی نے منظور کیاکسی قسم کا خسارہ ظاہر نہیں کرتا، بلکہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حکومت آمدنی ٹیکس کی وصولی کے ذریعے ہر سال چار ارب روپے سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر شریعت کورٹ 1980ءمیں ایک آرڈیننس کے ذریعے قائم کی گئی تھی۔
اس آرڈیننس کے سیکشن 3 کے ذیلی سیکشن (3) کے تحت، شریعت کورٹ کا قیام ہوا جس میں ایک چیئرمین اور ایک ممبر شامل تھے۔ اس آرڈیننس کے مطابق شریعت کورٹ کی حدود میں فوجداری مقدمات میں اپیلیں سننا اور شرعی معاملات سے متعلقہ امور شامل تھے۔ تاہم، 16مارچ 1993ءکو آزاد جموں و کشمیر شریعت کورٹ ایکٹ نافذ کیا گیا، جس کے تحت شریعت کورٹ میں چیف جسٹس اور ایک مسلم جج شامل تھے۔ شریعت کورٹ کے جج کی تقرری کے لیے وہی شرائط لاگو تھیں جو ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے لیے تھیں۔ اس ایکٹ کے تحت شریعت کورٹ کو فوجداری مقدمات میں ضلعی اور تحصیل کریمنل عدالتوں کے فیصلوں اور احکامات کے خلاف اپیل اور نظرثانی کا اختیار دیا گیا۔ شریعت کورٹ کو یہ بھی اختیار حاصل تھا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ آیا کوئی قانون یا قانون کی کوئی شق اسلام کے احکام، جو قرآن مجید اور سنتِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بیان کیے گئے ہیں، کے خلاف ہے یا نہیں۔آزاد جموں و کشمیر شریعت کورٹ ایکٹ، 1993ءکو 19 ستمبر 2017ءکو آرڈیننس XVII آف 2017ءکے ذریعے منسوخ کر دیا گیا اور اس کے بدلے آزاد جموں و کشمیر شریعت اپیل بینچ آف ہائی کورٹ کا قیام عمل میں آیا۔ اب آزاد جموں و کشمیر میں شریعت اپیل بینچ ہائی کورٹ کے اختیارات کا استعمال کر رہا ہے۔22 مئی 2017ءکو کورٹس اینڈ لاز کوڈ 1949ءکی دفعات کو صدارتی حکم کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں 12 ستمبر 2017ءکو ”عدالتیں اور قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2017ئ” نافذ کیا گیا جس کے تحت ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 9 کر دی گئی۔ فی الحال آزاد جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ چیف جسٹس، 9 ججوں اور ایک عالم جج پر مشتمل ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں 10 اضلاع ہیں اور ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کے ساتھ اضافی ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، عدالتی نظام میں اس وقت 10 سینئر سول ججز اور 33 سول ججز کام کر رہے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر کا فوجداری نظام منفرد نوعیت کا ہے۔ اسلامی فوجداری قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے ضلع اور تحصیل سطح پر دو رکنی عدالتیں قائم ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ءکے آرٹیکل 46 کے تحت ہائی کورٹ کو تمام ماتحت عدالتوں پر نگران اور کنٹرول کے اختیارات حاصل ہیں۔”آزاد جموں و کشمیر فیملی کورٹس ایکٹ 1993ئ” سے قبل ازدواجی مقدمات سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتے تھے، لیکن اس ایکٹ کے بعد فیملی کورٹس قائم کی گئیں جو ہائی کورٹ اور حکومت کے تحت کام کرتی ہیں۔آزاد جموں و کشمیر میں خصوصی ٹربیونلز مخصوص معاملات پر اختیار رکھتے ہیں جن میں آزاد جموں و کشمیر سروس ٹربیونل، جو 1975ءمیں قائم ہوا اور سرکاری ملازمین کی ملازمت کی شرائط و ضوابط سے متعلق معاملات کو دیکھتا ہے۔عدلیہ کے نظام میں بینچ (ججز) اور بار (وکلائ) کے درمیان تعلقات برادرانہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بار کی معاونت کے بغیر عدالتیں اپنا کام نہیں کر سکتیں اور عدالتوں کے بغیر انصاف کا کوئی نظام ممکن نہیں۔ جب ہمارے پاس عدالتیں ہوں، تو ہمارے پاس وکلاءاور ججز بھی ہونے چاہییں۔ بینچ اور بار کو انصاف کے نظام کا ایک لازم جزو تصور کیا جانا چاہیے۔ کوئی بھی معاشرہ، انصاف، قانون اور نظم و ضبط کے ہم آہنگ نظام کے بغیر نہ تو زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی ایک مہذب معاشرے کے طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔
سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر کی گولڈن جوبلی تقریبات کا افتتاح چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ محمد سعید اکرم نے کیا جبکہ جوڈیشل کانفرنس کے دوسرے سیشن سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان، چیف جسٹس عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر جسٹس سردار لیاقت حسین، وزیر قانون انصاف پارلیمانی امور وانسانی حقوق میاں عبدالوحید اور صدر پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد ر¶ف عطا نے خطاب کیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس محمد یحییٰ آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کا پچاس سالہ سفر آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ وابستگی صرف ایک سنگِ میل نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کی عکاسی ہے جو محنت، خدمت اور جدوجہد ذریعے پروان چڑھا۔ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کو اس تاریخی سنگِ میل گولڈن جوبلی کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس تاریخی موقع پر جوڈیشل کانفرنس میں شرکت میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ گولڈن جوبلی کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ تجدید کا ایک بہترین موقع ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نےبطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئےکہا کہ جس طرح سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے گولڈن جوبلی کی 50سالہ سفر مکمل کیا ہے مستقبل بھی چیلنجز سے خالی نہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کا عدالتی نظام بھی مقدمات کی شرح میں اضافے جیسے مسائل کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد کو دیانتداری، غیرجانبداری اور مستقل احتساب کے ذریعے مضبوط بنانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ اہداف آسان نہیں، لیکن عزم اور کوشش کے ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولڈن جوبلی تقریبات میں سپریم کورٹ پاکستان کے معزز ججز اور بار کے اراکین کی موجودگی پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے درمیان امید اور مضبوطی کی ایک واضح علامت ہے یہ مضبوط رشتہ قائم و دائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ Litigants کے مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھیں، بینچ اور بار کے درمیان تعلق ہمیشہ خوشگوار تعمیری اور باوقار ہونا چاہیے جبکہ انصاف کی فراہمی کے عمل میں ٹیکنالوجی کا انضمام ناگزیر ہے۔ اسی صورت میں انصاف کی فراہمی موثر، شفاف اور سب سے بڑھ کر عوام دوست بن سکتی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کے چیف جسٹس راجہ محمد سعید اکرم خان اور ان کی ٹیم کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پرخراجِ تحسین بھی پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ پاکستان کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کی عدلیہ کو تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ جسٹس راجہ محمد سعید اکرم خان نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کا انعقاد ہم سب کے لیے انتہائی خوشی کا موقع ہےاور یہ ہماری عدلیہ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو نصف صدی پر محیط آئینی و قانونی ارتقاءکا عکاس ہے، 50 سال میں سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ایسی اعلیٰ روایات قائم کی ہیں جو قابلِ تقلید ہیں۔سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر نے اپنے قیام سے آج تک ارتقاءکے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے عدلیہ کی تاریخ ہی نہیں بلکہ عوامی زندگی میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ہمارے پاس نامور ججز رہے ہیں جن کی قانون کی ترقی میں خدمات خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔میں اس تاریخی موقع پر سابق ججز، ریاست کے عوام اور وکلاءبرادری کے موجودہ و سابق اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔یہاں سے نامور وکلا پیدا ہوئے جن میں سے کچھ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، جبکہ بہت سے سیاستدان، ماہرینِ قانون، سفارتکار اور ججز کے طور پر سامنے آئے۔ میں ان سب کو اس موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام افرادکا دلی طو رپر شکرگزار ہوں، بالخصوص چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، معزز ججز سپریم کورٹ آف پاکستان، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، چیف جج گلگت بلتستان اور پاکستان و آزاد جموں و کشمیر کے معزز وکلاءکاجنہوں نے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اس تاریخی موقع پر ہمیں اپنی قیمتی موجودگی سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی میرے لیے باعثِ مسرت ہے کہ میرے برادر جج جسٹس رضا علی خان، چیف جسٹس پاکستان کے شاگرد رہے ہیں۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہاکہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی گولڈن جوبلی تقریبات 8 سے 10 مئی 2025 تک منعقد ہونا تھیں، مگر افسوس کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارتی فضائی حملوں کے باعث کئی معصوم خواتین، بچے اور بزرگ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ الحمدللہ اس جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا۔ ہم اپنی افواجِ پاکستان کے تمام جوانوں، قیادت، سائبر وارئیرز، پوری پاکستانی قوم، وزیراعظم اور بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی جرات مندانہ عسکری قیادت نے ملکی سرزمین کا کامیابی سے دفاع کیا۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہاکہ عوام فوری، سستا اور غیر جانبدار انصاف چاہتے ہیں۔ اگر یہ نہ ملا تو لوگ قانون کی بجائے خود اقدام اٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی رجحانات کو روک سکے۔انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ایک قومی اثاثہ ہے۔ قانون پر عمل درآمد میں تاخیر ایک ایسا پہلو ہے جسے قانون ساز اور عدالتیں ہر سطح پر حل کریں۔ یہ عوام میں بے چینی اور شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم سست روی سے انصاف کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ججز کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں حکومت یا عوام کے کسی دبا¶ کو ہرگز قبول نہ کریں۔ ہمارا حلف یہی ہے کہ ہم انصاف بلا خوف و بلا رعایت فراہم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ عدلیہ کی غیر جانبداری اور آزادی کا انحصار ججز کے اعلیٰ معیارِ اور اخلاق پر ہے، جو عوامی اعتماد قائم رکھنے کے لیے لازمی ہے۔ ججز کو ہر سطح پر خود کو جوابدہ بنانا ہوگا اور آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ عدلیہ کو وہی معیارِ اخلاق اپنانا ہوگا جو وہ دوسروں کے لیے تجویز کرتی ہے۔ جیسا کہ لارڈ ڈیننگ نے کہا تھاکہ
Justice is rooted in confidence, and confidence is destroyed when right-minded go away thinking that ‘the Judge is biased’.”
چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ ہماری عدلیہ عوامی اعتماد سے سرفراز ہے۔ عام آدمی عدلیہ کو اپنے حقوق اور آزادیوں کا آخری محافظ سمجھتا ہے۔ 1974ءکے عبوری آئین کے تحت مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنے اپنے دائرے میں کام کرنا ہے۔ مگر اچھی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ یہ تینوں ادارے ہم آہنگ ہو کر کام کریں۔ اگر انتظامیہ قانون سازوں کی مرضی کو نظرانداز کرے تو عدالتیں آئینی تقاضے پورے کرنے کی پابند ہیں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 50 سال میں سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ایسی اعلیٰ روایات قائم کی ہیں جو قابلِ تقلید ہیں۔ انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ بار اور بنچ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ ایک فعال بار عدلیہ کے لیے قیمتی اثاثہ ہے۔ وکلا کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پیشہ ورانہ معیار قائم رہے اور قانونی اخلاقیات پسِ پشت نہ جائیں۔چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر نے کہاکہ سپریم کورٹ اُن تمام قوانین کو کالعدم قرار دیتی رہی ہے جو آئین سے متصادم تھے۔ سپریم کورٹ نے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا،قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی، امن و استحکام کو یقینی بنایا، خواتین، بچوں، اقلیتوں اور معذور افراد کے حقوق کا دفاع کیا،جمہوری عمل کو تقویت دی، غیر مسلم اقلیتوں کے مقدس مقامات اور مذہبی شعائر کا تحفظ کیا، تعلیمی نظام کی بہتری کی رہنمائی کی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچا¶ کے لیے جنگلات کے تحفظ کی ہدایت دی، دیوانی و فوجداری مقدمات میں رہنما اصول فراہم کیے،عوامی خزانے میں لاکھوں روپے جمع کروائے،ریاستی ادارے قائم کیے اور غیر قانونی قابضین سے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اور جنگلاتی اراضی واپس لی۔چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر نے کہاکہ اکیسویں صدی کے پہلے ربع کے اختتام پر ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر مقدمات نمٹانے میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ الحمدللہ، ہمارے پاس مقدمات کا کوئی ”بیک لاگ” نہیں ہے۔ 2023ءتک کے تمام مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اب 2025ءمیں ہم 2024ءاور 2025ءکے مقدمات سماعت کر رہے ہیں۔ آج میں اپنے تمام برادر ججز اور ماضی و حال کے وکلا کو اس کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت آزاد جموں و کشمیر کے خوبصورت دارالحکومت مظفرآباد میں بیٹھے ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے بیس کیمپ ہے۔ تاریخی طور پر ریاست جموں و کشمیر کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع ایک جنت نظیر خطہ ہے جس کی تاریخ 250 قبل مسیح تک جاتی ہے۔ 1947ءمیں اس ریاست کا کل رقبہ 84,471 مربع میل تھا۔ جنگِ آزادی کے بعد یہ ریاست 3 حصوں میں تقسیم ہوگئی جو کہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور مقبوضہ جموں و کشمیرہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ خطہ معدنی وسائل، دریا، جھیلیں، برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں، گلیشیئرز، جنگلات اور نایاب جنگلی حیات سے مالا مال ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر نے کہا تھاکہ”اگر دنیا میں کوئی جنت ہے تو وہ یہیں ہے ”۔یہاں سے نکلنے والے پانچ بڑے دریاجہلم، چناب، سندھ، راوی اور توی پاکستان کے لیے 3000 میگاواٹ بجلی اور زرعی آبپاشی کے بڑے ذرائع ہیں۔چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو خود یکم جنوری 1948ءکو مسئلہ کشمیر لے کر اقوامِ متحدہ گئے اور آزادانہ رائے شماری کا وعدہ کیا۔ سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 47 منظور کی جس کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کی ضمانت دی گئی۔بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35-اے اور پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 ریاست جموں و کشمیر سے متعلق ہیں۔ مگر 5 اگست 2019ءکو بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35-اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت اور آبادیاتی ڈھانچے کو بدلنے کی کوشش کی۔ یہ ظالمانہ قانون بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا مگر بدقسمتی سے بھارتی عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کا دفاع نہ کرسکی، جو ایک شرمناک عمل ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قسمت کا فیصلہ دہلی میں بھارتی سپریم کورٹ کرتی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام کی اپنی سپریم کورٹ ہے۔چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر میں 90,000 سے زائد کشمیری شہید ہوئے جبکہ لاکھوں زخمی ہوئے۔ ہزاروں سیاسی قیدی، جن میں تیس سے زائد خواتین شامل ہیں، بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ بھارتی فوج نہتے شہریوں کو بے رحمی سے قتل کر رہی ہے۔ بھارت اقوامِ متحدہ کی قرارداد 47، اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی دفعات 25، 1(1)، 1(3)، بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی متعدد دفعات کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہ عمل خطے اور خصوصاً جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا خدشہ پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ، پاکستان اور کشمیر کے عوام کے فطری اتحاد سے خائف ہے، اس لیے وہ آزادی کی تحریک کو طاقت کے زور پر کچلنا چاہتی ہے۔ میں ان تمام شہدا اور زخمیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔اپنے مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی آواز کسی صورت دبائی نہیں جا سکتی، آپ کی قربانیاں اور جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔ وہ دن ضرور آئے گا جب سری نگر کی وادیاں، پلوامہ کی گلیاں اور بارہ مولا کے گھر آزادی کے نغمے سنیں گے۔انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ یہ کانفرنس عدلیہ اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونگے جو انصاف اور امن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے سینئر جج جسٹس خواجہ محمد نسیم اور جسٹس رضا علی خان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے انتھک محنت کی۔سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات کی اختتامی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نےچیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ محمد سعید اکرم خان کو شیلڈ دی جبکہ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے بھی جسٹس یحیی آفریدی کو سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کی یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم، جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان، چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر ہائی کورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین، سینئر جج ہائی کورٹ جسٹس سید شاہد بہار، جج ہائی کورٹ جسٹس محمد اعجاز خان، جج ہائی کورٹ جسٹس چوہدری خالد رشید اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ راجہ سجاد احمد خان کو شیلڈ دی۔ جبکہ چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے وائس سپریم کورٹ پاکستان کے ججز جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عرفان قادر خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شکیل احمد، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس علی باقر نجفی، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس سید محمد عتیق شاہ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر، چیف جسٹس چیف کورٹ گلگت بلتستان جسٹس علی بیگ، بشارت اللہ خان اور وائس چئیرمین پنجاب بار محمد اشفاق کو شیلڈز دیں۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم نے کسٹوڈین جائیداد متروکہ چوہدری خالد یوسف، معاون خصوصی برائے وزیراعظم آزادکشمیر نبیلہ ایوب خان ایڈووکیٹ، آزادکشمیر کے وزیر قانون، انصاف، پارلیمانی امور وانسانی حقوق میاں عبدالوحید، سابق جج سپریم کورٹ غلام مصطفٰی مغل، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیائ، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس محمد اعظم خان، سابق چیف جسٹس سید منظور الحسن گیلانی، سابق چیف جسٹس خواجہ شہاد احمد کو تعریفی شیلڈز دیں۔ اس موقع پر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جاوید نجم الثاقب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین آزادجموں و کشمیر بار کونسل عقاب احمد ہاشمی ایڈووکیٹ، صدر پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد ر¶ف عطا، وائس چئیرمین پاکستان بار ایسوسی ایشن چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ، رجسٹرار سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیرمظہر اقبال، آزاد کشمیر کے سینئر وکیل عبدالرشید عباسی، ایڈووکیٹ جنرل آزادجموں وکشمیر شیخ مسعود اقبال، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ظفر محمود خان اور سینئر وکیل سپریم کورٹ راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ کو تعریفی شیلڈز بھی دیں۔
قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کی گولڈن جوبلی کے سلسلہ میں منعقدہ جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کے لیے سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر مظفرآباد پہنچے توچیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ محمد سعید اکرم خان، سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم، جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نے چیف جسٹس پاکستان کا استقبال کیاجبکہ اس موقع پر آزادکشمیر پولیس کے چاق وچوبند دستے نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور چیف جسٹس پاکستان نے گولڈن جوبلی مانومنٹ کا افتتاح بھی کیا۔ دریں اثناءچیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان، سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم اور جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ ٰآفریدی کو روایتی کشمیری شال اور تحائف بھی پیش کیے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
