ڈونٹ بنانے کا طریقہ
آج کی یہ تحریر ایک دلچسپ اور خوشبودار موضوع کے گرد سجائی گئی ہے، اور وہ ہے ڈونٹ بنانے کی ترکیب۔ ڈونٹ، جسے بچے بھی شوق سے کھاتے ہیں اور بڑے بھی، صرف ایک میٹھی ڈش ہی نہیں بلکہ بچوں کی خوشی ہے۔
ڈونٹ بنانے کیلیے ضروری اجزاء
چینی: ایک ٹیبل اسپون
خمیر (Yeast): 1 پیکٹ ( ایک ٹیبل اسپون
میدہ: 3 کپ
پانی: 1/2 کپ
چینی: 1/2 کپ ،
چینی ایک ٹیبل اسپون
دودھ: آدھے سے ایک چوتھائی کپ (ہلکا سا گرم)
انڈہ: 1 عدد
مکھن: 25 گرام
نمک: ایک چٹکی
تیل: تلنے کے لیے
چاکلیٹ اور پسی ہوئی چینی: اوپر لگانے کے لیے
ترکیب:
سب سے پہلے ایک کھلے گہرے برتن میں گرم پانی ، خمیر اور چینی ڈال کر اچھی طرح ملا لیں اور دس منٹ کے لیے ڈھک کےرکھ دیں تاکہ خمیر پھول جائے۔
ایک بڑے برتن میں انڈہ ، چینی اور مکھن ڈال کر اچھی طرح ملا لیں ۔ اب اس میں نمک ملا میدا چھان کر ڈال لیں ، پھر اس میں خمیر والا پیسٹ شامل کریں اور اچھی طرح گوندھ لیں ، آٹے کو نرم کرنے کیلئے اس میں حسب ضرورت ہلکا گرم دودھ ڈالیں ، ہاتھوں پہ چمٹنے والا نرم سا آٹا گوندھ لیں۔
آٹے کو کپڑے سے ڈھانپ کر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے لیے کسی گرم جگہ پر رکھیں تاکہ وہ پھول جائے۔
جب آٹا پھول جائے تو ہاتھوں کو ہلکا سا تیل لگا کر آٹے کو اچھی طرح مسل لیں پھر اسے بیل لیں اور ڈونٹ کے سانچے یا گلاس سے گول کٹ لیں۔ درمیان میں ایک چھوٹا سا سوراخ بھی بنا لیں۔
تیار ڈونٹس کو مزید 15 منٹ کے لیے رکھ دیں تاکہ وہ دوبارہ پھول جائیں۔
اب انہیں درمیانی آنچ پر سنہری ہونے تک تلیں اور پلیٹ میں نکال لیں ۔
ہلکا سا ٹھنڈا ہونے پر اوپر سے پسی ہوئی چینی چھڑکیں یا پگھلی ہوئی چاکلیٹ میں ڈبو کر مزیدار بنا لیں۔
-
مریم ڈار سکرپٹ رائٹر ، ناول نگار، کالم و تجزیہ کار، رائٹر ، و شاعرہ ہیں
کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہیں
مریم ڈار کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ ایک تخلیقی کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہے۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
