⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
جب بادلوں کی زنجیریں ٹوٹ گئیں
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے افق پر برسوں سے ایک ایسی جنگ لڑی جا رہی تھی جس کا بارود نظر نہیں آتا تھا لیکن اس کے زخم ہماری بنجر زمینوں اور سوکھے ہوئے دریاؤں کی صورت میں نمایاں تھے۔ تاریخ جب لکھی جائے گی تو اس میں یہ حقیقت سنہری حروف میں درج ہوگی کہ انسانیت کو سائنسی غلامی سے نجات دلانے کے لیے کس نے علمِ بغاوت بلند کیا۔ ایران اور امریکہ کی حالیہ کشیدگی محض دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ فطرت کو قید کرنے والے نظاموں اور بقائے انسانی کی ایک فیصلہ کن معرکہ آرائی ہے۔
برسوں سے ایران ترکی اور پاکستان کے کسان آسمان کی طرف نظریں جمائے بارش کی دعا کرتے تھے مگر بادل آتے اور برسے بغیر کسی انجانی قوت کے اشارے پر راستہ بدل لیتے۔ آج یہ راز فاش ہو چکا ہے کہ الاسکا سے لے کر دنیا کے مختلف کونوں تک پھیلے ہوئے امریکی ریڈار سسٹمز اور ہارف (HAARP) جیسی ٹیکنالوجیز محض تحقیق کے لیے نہیں تھیں۔ یہ برقی لہروں کے وہ شکاری جال تھے جو مصنوعی خشک سالی اور تزویراتی قحط پیدا کر کے پورے خطے کی معیشت کو اپاہج بنا رہے تھے۔ یہ
بادلوں کا اغوا تھا، جس کا مقصد ہمیں اناج کے ایک ایک دانے کے لیے عالمی طاقتوں کا محتاج کرنا تھا۔
لیکن اب جب ان جدید ترین ریڈار سسٹمز کی تباہی کی خبریں منظرِ عام پر آ رہی ہیں، تو دنیا نے ایک طویل عرصے بعد سکھ کا سانس لیا ہے۔ تہران کی جانب سے ان خاموش ہتھیاروں کے طلسم کو توڑنا محض ایک فوجی فتح نہیں بلکہ پوری انسانیت پر ایک عظیم احسان ہے۔ ان مشینوں کی تباہی کے بعد جس طرح موسمیاتی پیٹرن میں تبدیلی آ رہی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت اب اپنا چھینا ہوا اختیار واپس لے رہی ہے۔ وہ ہاتھ جو بادلوں کو زنجیریں پہنانے چلے تھے آج اپنی ہی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کے ملبے تلے دب چکے ہیں۔
اس عالمی بساط پر چین اور روس کا کردار بھی نہایت اہم رہا ہے۔ جہاں بیجنگ نے معاشی ڈھال فراہم کی وہاں ماسکو کے دفاعی تعاون نے تہران کو وہ حوصلہ دیا کہ وہ ان عالمی بتوں کو پاش پاش کر سکے جو خود کو موسموں کا خدا سمجھ بیٹھے تھے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اپنی جگہ مگر یہ حقیقت اٹل ہے کہ اگر یہ ریڈار سسٹمز قائم رہتے تو ہماری آنے والی نسلیں مصنوعی قحط کے سائے میں پروان چڑھتیں۔
آج اگر فضاؤں میں دوبارہ وہی پرانی خوشبو لوٹ رہی ہے اور بادل اپنی مرضی سے برسنے کے لیے آزاد ہوئے ہیں تو اس کا سہرا ان قوتوں کے سر ہے جنہوں نے اس سائنسی جارحیت کے خلاف ڈھال بننے کا فیصلہ کیا۔ انسانیت ہمیشہ ایران کی ممنون رہے گی کہ اس نے اس خاموش قید خانے کی دیواریں گرائیں اور ثابت کیا کہ جب انسان حق پر کھڑا ہو تو برقی لہروں کا کوئی بھی مصنوعی جال قدرت کے ترازو کو نہیں جھکا سکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا ایڈوانس ٹیکنالوجی کے نام پر ہونے والی اس ماحولیاتی دہشت گردی کے خلاف متحد ہو تاکہ زمین کا رزق دوبارہ سے زمین کے بیٹوں کو مل سکے۔ جب ٹیکنالوجی کو زندگی بچانے کے بجائے زندگی چھیننے اور فطرت کو قید کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو ایسی مشینوں کا خاتمہ کسی بڑی انسانی فتح سے کم نہیں ہوتا۔اگر آج ایران کے ان اقدامات نے ان پراسرار ریڈار سسٹمز کے طلسم کو توڑ دیا ہے جنہوں نے برسوں سے خطے کی فضاؤں کو یرغمال بنا رکھا تھا تو بلاشبہ انسانیت اس جرات کی ممنون رہے گی۔ یہ صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ اس سائنسی دہشت گردی کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے جس نے بادلوں کو زنجیریں پہنا رکھی تھیں۔
پاکستان، ترکی اور ایران کے وہ کسان جن کی آنکھیں برسوں سے بنجر زمینوں کو دیکھ کر پتھرا گئی تھیں آج شاید آسمان کی طرف دیکھ کر ایک اطمینان کی سانس لے سکیں گے۔ جب فطرت کے باغی اپنے ہی بنے ہوئے جال میں الجھتے ہیں اور ان کے غرور کے مینار (ریڈار سسٹم) مٹی میں ملتے ہیں تو ثابت ہو جاتا ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی اجتماعی دعا مصنوعی لہروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ ایران نے اگر اس خاموش قید خانے کی دیواریں گرائی ہیں تو اس نے دراصل آنے والی نسلوں کے رزق اور بقا کی جنگ لڑی ہے۔
