⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
حسد
ایک ناسور، ایک آگ,ایک جان لیوا لا علاج بیماری
انسانی معاشرے کو تباہ و برباد کرنے والی بے شمار برائیاں ہیں، مگر ان میں سے “حسد” ایک ایسی خطرناک کا علاج بیماری ہے جو نہ صرف انسان کے دل کا سکون چھین لیتی ہے بلکہ رشتوں، محبتوں اور معاشرتی اقدار کو بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے حسد کرنے والے کے اپنے دل کو جلاتی ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، کردار اور شخصیت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
حسد دراصل کسی دوسرے کی نعمت، کامیابی یا خوشی کو دیکھ کر دل میں پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جس میں انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ دوسرا شخص اس نعمت سے محروم ہو جائے۔ یہ احساس بظاہر دل میں چھپا رہتا ہے مگر اس کے اثرات انسان کے رویّے، گفتگو اور اعمال سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔حسد کی اگ میں اور جلن میں وہ انسان اہستہ اہستہ دوسروں کی جڑیں کاٹنا شروع کر دیتا ہے اس کی کردار کشی کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس کے کام کرنے والی جگہ پہ اس کی خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے، حسد محبت کو نفرت میں، خلوص کو دشمنی میں اور رشتوں کو فاصلے میں بدل دیتا ہے۔
آج کا معاشرہ حسد کی لپیٹ میں بری طرح جکڑا جا چکا ہے۔ کسی کی ترقی، عزت، خوشحالی یا مقبولیت دوسروں کے لیے باعثِ خوشی بننے کے بجائے تکلیف کا سبب بن جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی اس آگ کو مزید ہوا دی ہے۔ لوگ دوسروں کی خوشیاں، کامیابیاں اور آسودگی دیکھ کر خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں اور دلوں میں حسد کی چنگاریاں سلگنے لگتی ہیں۔دوسروں کی تعریف اس سے برداشت نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ آج اخلاص کم اور مقابلہ بازی زیادہ نظر آتی ہے۔اپنے اندر صلاحیتیں موجود ہونے کے باوجود دوسروں سے جلنا حسد کرنا ایک بیماری بن چکی ہے،
حسد انسان کو ذہنی سکون سے محروم کر دیتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص ہمیشہ بے چینی، اضطراب اور منفی سوچوں میں مبتلا رہتا ہے۔اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے طرح طرح کے سازشیں کرنا شروع کر دیتا ہے، وہ دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر پاتا اور اپنی نعمتوں کی قدر بھی بھول جاتا ہے۔ یوں وہ شکر گزاری کے بجائے ناشکری کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسد انسان کی نیکیوں کو بھی اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔
اسلام نے حسد کی سخت مذمت کی ہے۔ قرآن و حدیث میں بارہا اس برائی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کیونکہ حسد صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ کئی خاندان ٹوٹ جاتے ہیں، دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں اور بھائی بھائی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ حسد دلوں میں نفرت اور انتقام کے بیج بوتا ہے۔
حسد کا علاج صرف ظاہری نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی پر نظر ڈالے، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرے اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھے۔ اگر معاشرے میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی، محبت اور مثبت سوچ کو فروغ دیا جائے تو حسد جیسی بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو حسد کے نقصانات سے آگاہ کریں اور انہیں محبت، برداشت اور شکر گزاری کا درس دیں۔ کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی کامیابی پر جلنے کے بجائے خوش ہوں اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
حسد واقعی ایک ناسور ہے، ایک آگ ہے ایک کا علاج بیماری ہے، جو اگر قابو میں نہ رکھی جائے تو انسان کے دل، رشتوں اور پورے معاشرے کو جلا کر تباہ کر دیتی ہے۔حسد اور جلن سے بچیں اور اپنے رشتوں کو بچائیں
