خالی پن
شہر کی آخری روشنیاں بجھ چکی تھیں اور کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز تیر رہی تھی۔ وہ آواز کسی ہتھوڑے کی طرح مضراب کے اعصاب پر ضربیں لگا رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی گھڑی کو الٹا کر دیا لیکن کمرے کے سناٹے میں اب اس کے اپنے دل کی دھڑکنیں گونجنے لگی تھیں۔ مضراب کے پاس سب کچھ تھا۔ شہرت، آسائش، عزت اور وہ تمام آسودگیاں جن کے لیے انسان تمام عمر سرگردان رہتا ہے۔ شام کو جب وہ محفلوں میں بیٹھتی تو اس کا ہر لفظ تحسین سے سراہا جاتا ۔ لوگ اس کی کامیابیوں کے قصے سنتے اور رشک کرتے۔ لیکن جیسے ہی رات کا اندھیرا گہرا ہوتا اور وہ اپنے بند کمرے کی تنہائی میں لوٹتی باہر کی تمام رونقیں ایک بھیانک خاموشی میں بدل جاتیں۔ جب وہ خیالوں کی دنیا میں گم ہوتی تو اسے محسوس ہوتا کہ اس کی زندگی میں عجیب سا خلا تھا۔۔۔ایک ایسا خلا جو نہ کسی کامیابی سے بھرتا تھا نہ کسی کی محبت سے۔
یہ اندر کا خالی پن تھا جو کسی سیاہ کنویں کی مانند اس کی تمام خوشیوں اور تمام احساسات کو نگل جاتا تھا۔ وہ ہنستی تو اس کی ہنسی حلق میں ہی سوکھ جاتی ۔ وہ روتی تو آنسوؤں کے پیچھے کوئی ملال نہ ہوتا۔ ایسا لگتا جیسے اس کے وجود کا اصل مالک کہیں بہت دور چلا گیا ہے اور پیچھے صرف ایک بانسری رہ گئی ہے جس کے اندر سے صرف ہوا گزرتی ہے کوئی نغمہ نہیں پھوٹتا۔
اس نے اٹھ کر کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ باہر رات کا آخری پہر پھیل چکا تھا۔ گلی میں جلتا ہوا تنہا بلب زرد اور اداس روشنی بکھیر رہا تھا۔
اسے اپنا ماضی یاد آیا۔ ایک وقت تھا جب وہ کسی معمولی بات پر بھی خوش ہو جایا کرتی تھی۔۔بارش کی پہلی بوند، مٹی کی سوندھی خوشبو، کسی دوست کا بے ساختہ قہقہہ وہ تمام چیزیں اس کے اندر کے تاروں کو چھیڑ دیتی تھیں اور اس کا وجود موسیقی سے بھر جاتا تھا۔ پھر اس نے بھاگنا شروع کیا۔ چیزوں کو سمیٹنے کی دوڑ، آگے نکلنے کی ہوس اور خود کو ثابت کرنے کا جنون۔
اس دوڑ میں اس نے غیر محسوس طریقے سے اپنے اندر کے اس نازک احساس کو پسِ پشت ڈال دیا جو محسوس کرتا تھا جو محبت کرتا تھا۔ جو صرف ہونے کا جشن مناتا تھا۔ اس نے اپنے اندر کو ہر اس چیز سے خالی کر دیا جو روح سے تعلق رکھتی تھی اور اسے ان اشیا سے بھرنا چاہا جو محض مٹی کا ڈھیر تھیں
نتیجہ یہ نکلا کہ جب وہ منزل پر پہنچی مگر اندر سے بالکل خالی
“انسان کتنا عجیب ہے” مضراب نے کھڑکی سے لگ کر زیرِ لب کہا “وہ باہر کی دنیا کو فتح کرنے میں اپنی پوری کائنات اندر سے لٹا بیٹھتا ہے۔”
اس نے شیشے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ عکس کی آنکھوں میں ویرانی تھی۔ وہ لڑکی جو شیشے کے اس پار کھڑی تھی مضراب تو تھی مگر مضراب کا وجود نہیں تھا۔ وہ محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ تھی جو جینے کی اداکاری کر رہی تھی۔
اس نے کھڑکی کھولی۔ رات کی سرد ہوا کا ایک زبردست جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور پہلی بار اس خالی پن کو چھپانے اس سے بھاگنے یا اسے بھرا ہوا ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے اس سناٹے کو اس ویرانی کو اپنے اندر اترنے دیا۔جب اس نے اس خالی پن کو قبول کر لیا تو گلی کا زرد بلب، ہوا کی سائیں سائیں اور رات کی پُراسرار خاموشی۔۔سب اس کے اندر تحلیل ہونے لگے۔اسے محسوس ہوا کہ شاید اس خالی پن کا بھرنا کسی شے کے ملنے میں نہیں بلکہ اس بات کو مان لینے میں ہے کہ انسان کا وجود اتنا ہی عارضی اور بکھرا ہوا ہے اور شاید اسی خالی پن کی تہہ میں کہیں دور خود سے دوبارہ ملاقات کا پہلا قدم چھپا ہوتا ہے۔
