آخری چال
بارش کی بوندیں قدیم حویلی کی سنگی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ اندر شطرنج کی ایک قدیم بساط بچھی تھی۔ سیاہ اور سفید مہروں کے درمیان دو آدمی خاموش بیٹھے تھے۔
ایک تھا سردار سکندر مرزا دولت، زمین اور اختیار کا دیوانہ۔ دوسرا تھا امیر بہرام جو بظاہر اس کا وفادار مشیر تھا مگر اس کی خاموش آنکھوں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی چال جنم لیتی رہتی تھی۔
سکندر مرزا کہا کرتا تھا “جنگ تلوار سے نہیں دماغ سے جیتی جاتی ہے۔”
امیر بہرام ہر بار مسکرا دیتا۔کسی کو معلوم نہ تھا کہ دونوں کی ہر گفتگو دراصل شطرنج کی ایک نئی بازی ہوتی تھی۔ ایک دوسرے کو کبھی پوری بات نہ بتاتے کبھی سچ کو جھوٹ کے لباس میں پیش کرتے اور کبھی جھوٹ کو اتنا خوبصورت بناتے کہ وہ حقیقت محسوس ہونے لگتا۔
ایک روز امیر بہرام نے آہستگی سے کہا حضور آپ کے سب سے بڑے دشمن باہر نہیں… آپ کے اپنے لوگ ہیں۔”
یہ ایک پیادہ تھا… مگر ایسا پیادہ جس نے بادشاہ کے دل میں شک کی پہلی لکیر کھینچ دی۔
چند ہی دنوں میں سکندر نے اپنے پرانے ساتھیوں پر اعتماد کھو دیا۔ ایک کو جیل بھیج دیا ، دوسرے کی جاگیر ضبط کر لی ، تیسرے کو زہر دے دیا گیا۔
ہر قربانی کے بعد امیر بہرام صرف ایک جملہ کہتا “یہ لازمی چال تھی۔”
سکندر سمجھتا رہا کہ وہ کھیل رہا ہے جبکہ اصل میں وہ خود ایک مہرہ بنتا جا رہا تھا۔
مہینوں بعد پورا علاقہ سکندر کے قبضے میں تھا۔
اس نے خوش ہو کر کہا “آخرکار میں جیت گیا۔”
امیر بہرام نے پہلی بار شطرنج کی بساط پر ہاتھ رکھا اور بادشاہ کا مہرہ گرا دیا۔
“نہیں حضور… آپ صرف آخری مہرہ تھے۔”
سکندر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
امیر بہرام نے ایک پرانی ڈائری میز پر رکھ دی۔
اس میں برسوں پرانی تحریریں تھیں۔
پتا چلا کہ سکندر نے لالچ میں آ کر کبھی امیر بہرام کے باپ پر غداری کا الزام لگوایا تھا۔ بے گناہ شخص کو پھانسی ہوئی، خاندان بکھر گیا، اور ایک دس سالہ لڑکے نے اسی دن قسم کھائی تھی کہ وہ انتقام تلوار سے نہیں عقل سے لے گا۔
وہ لڑکا… آج امیر بہرام تھا۔
سکندر کے ہاتھ کانپنے لگے۔
“تو یہ سب… صرف بدلہ تھا؟”
امیر بہرام نے نفی میں سر ہلایا۔
“بدلہ تو بہت پہلے پورا ہو گیا تھا۔”
“پھر؟”
“پھر میں نے ایک تجربہ شروع کیا… میں جاننا چاہتا تھا کہ انسان کو تباہ کرنے کے لیے زہر زیادہ طاقتور ہے یا لالچ۔
خاموشی چھا گئی۔
امیر بہرام نے کہا
“میں نے تمہیں صرف دولت دکھائی تم نے خود اپنے رشتے مار دیے۔ میں نے صرف شک کا ایک بیج بویا، تم نے خود پورا جنگل اگا لیا۔ میں نے کبھی تمہیں جرم کا حکم نہیں دیا… ہر فیصلہ تمہارا اپنا تھا۔”
سکندر کی آنکھوں میں پہلی بار خوف نہیں بلکہ اپنی ذات کا سامنا کرنے کی اذیت تھی۔
اس نے کانپتی آواز میں پوچھا “تو اصل قاتل کون ہے؟”
امیر بہرام نے شطرنج کی بساط اس کی طرف کھسکائی۔
“یہی تو آخری چال تھی… اگر تم مجھے قاتل سمجھو تو تم بے قصور ہو جاؤ گے اور اگر خود کو قاتل مانو تو باقی زندگی زندہ نہیں رہ سکو گے۔”
یہ کہہ کر وہ حویلی سے چلا گیا۔
چند ہفتوں بعد لوگوں نے دیکھا کہ سکندر مرزا اب بھی زندہ ہے مگر ہر روز تنہا بیٹھا شطرنج کھیلتا ہے۔وہ سفید مہروں سے بھی خود کھیلتا سیاہ مہروں سے بھی۔
ہر بار آخری چال پر پہنچ کر رک جاتا۔پھر آہستہ سے کہتا
“بادشاہ کبھی مات سے نہیں مرتا… وہ اس لمحے مر جاتا ہے جب اسے معلوم ہو جائے کہ پوری بازی میں وہ خود کبھی کھلاڑی تھا ہی نہیں۔”
حویلی کے دروازے آج بھی کھلے ہیں مگر کہتے ہیں وہاں سے کبھی کبھار صرف ایک آواز سنائی دیتی ہے
“شطرنج میں سب سے خطرناک چال وہ نہیں ہوتی جو نظر آتی ہے… بلکہ وہ ہوتی ہے جس میں انسان خود کو اپنی مرضی سے مہرہ بنا لیتا ہے۔”
