⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
مشرق کی دہلیز پر ٹرمپ محاذ آرائی سے مصالحت کا سفر؟
بین الاقوامی سیاست کے شطرنج پر مہرے اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ کل کے حریف آج ایک دوسرے کی گاڑی کا دروازہ کھولتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دورۂ چین عالمی سفارت کاری میں ایک ایسے نئے باب کا آغاز ہے، جس کی بازگشت آنے والے کئی برسوں تک سنائی دے گی۔ دنیا جو کچھ عرصہ پہلے تک واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نئی سرد جنگ (Cold War) کے خطرات سے لرز رہی تھی اب وہ ان دونوں طاقتوں کے درمیان مفاہمت کے نئے اصولوں کو طے ہوتے دیکھ رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے اپنی غیر متوقع طبیعت اور کاروباری طرزِ سیاست کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ امریکی معیشت کو تحفظ دینے کے لیے تجارتی ٹیرف اور سخت بیانات کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ براہِ راست مذاکرات اور ڈیل میکنگ کے فن میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ دورہ محض ایک روایتی سفارتی دورہ نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس کا ایک بڑا عکاس ہے۔
چینی قیادت کا نپا تلا ردِعمل
اس دورے کے دوران بیجنگ کا رویہ انتہائی نپا تلا پُراعتماد اور اصولی رہا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے واضح کیا کہ
” چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے یہی تاریخ کا سبق اور موجودہ وقت کی ضرورت ہے.”
ان کا یہ مؤقف دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ چین معاشی اور سماجی ترقی کے اپنے پانچ سالہ منصوبوں پر سختی سے کاربند ہے اور وہ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر، برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ شی جن پنگ کا یہ کہنا کہ چین کی ترقی اور امیرکا گریٹ اگین کا نعرہ ایک ساتھ چل سکتے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ تصادم کے بجائے بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
عالمی بحران اور ٹرمپ کی ترجیحات
ٹرمپ نے بیجنگ کے لیے اڑان بھرنے سے پہلے جس طرح عالمی منظرنامے پر بات کی، اس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔ روس یوکرین جنگ کا خاتمہ اور مڈل ایسٹ (خصوصاً ایران کا معاملہ) ان کے ایجنڈے پر سرفہرست ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بڑے سفارتی مشن پر نکلنے سے پہلے ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا، جو خطے میں اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر انہیں روس یوکرین جنگ کو ختم کرانا ہے یا عالمی معیشت کو استحکام دینا ہے، تو وہ چین کو نظرانداز کر کے ایسا نہیں کر سکتے۔ بیجنگ کا اثر و رسوخ اب واشنگٹن کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
معاشی مفادات یا سٹریٹجک جنگ؟
اس دورے کے پیچھے سب سے بڑا محرک معیشت ہے۔ امریکا اپنی اندرونی مہنگائی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چین کے ساتھ تجارتی توازن قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ انتقام کے چکر میں پڑے بغیر، مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو کم اور تعاون کے مواقع کو بڑھانا چاہتا ہے۔
تائیوان کا مسئلہ ہو یا بحیرۂ جنوبی چین کا تنازع امریکی انتظامیہ (بشمول وزیر خارجہ مارکو روبیو) اپنے اتحادیوں کو یہ یقین دہانی تو کرا رہی ہے کہ امریکا ان کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ واشنگٹن اب بیجنگ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ٹرمپ کا دورۂ چین عالمی سیاست کے اس اصول کو سچ ثابت کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔
دنیا اس وقت تبدیلی اور افراتفری کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں اگر دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں تصادم کا راستہ چھوڑ کر میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو یہ صرف ان دو ممالک کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کی معاشی اور سٹریٹجک بقا کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بیجنگ کے سرخ قالین پر ہونے والی یہ مسکراہٹیں اور مصافحے، عملی طور پر دنیا کو کس حد تک امن اور استحکام دے پاتے ہیں۔
