ادھورے خواب

ادھورے خواب

شہر کی ایک تنگ سی گلی میں ایک درمیانے درجے کا گھر تھا۔ باہر سے دیکھنے میں وہ عام سا مکان تھا۔ پیلے رنگ کی اُترتی ہوئی دیواریں، چھوٹا سا صحن اور ایک کھڑکی جس کے پردے اکثر آدھے گرے رہتے تھے۔ مگر اس گھر کے اندر کئی کہانیاں سانس لیتی تھیں ۔ خاموش، دبی ہوئی اور تھکی ہوئی۔یہ گھر سمیرا کا تھا۔سمیرا ایک مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی تھی۔ اس کے خواب بڑے تھے، مگر حالات ہمیشہ چھوٹے نکل آتے تھے۔ اس کی آنکھوں میں وہ سب کچھ تھا جو اس کے ہاتھوں تک کبھی نہیں پہنچ سکا۔ہر صبح اس کے گھر میں ایک ہی منظر ہوتا۔امی چولہے کے سامنے کھڑی دھوئیں میں آنکھیں ملتی ہوئی، اور ابو اخبار کے پیچھے چھپے ہوئے پریشانیوں سے لڑتے ہوئے۔چائے کی پیالی ہمیشہ آدھی ہوتی تھی ۔ چینی کم، دودھ کم، مگر فکر زیادہ۔سمیرا یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہوتی تو آئینے میں خود کو دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دیتی مگر وہ مسکراہٹ بھی جیسے ادھوری سی ہوتی۔اس کی سہیلیاں نئے کپڑوں، مہنگے موبائلز اور تفریحی جگہوں کی باتیں کرتیں اور سمیرا صرف سن کر رہ جاتی۔ایک دن یونیورسٹی میں میوزیکل گالا کا اعلان ہوا۔ سب لڑکیاں تیاریوں میں لگ گئیں۔ کوئی لباس چن رہی تھی، کوئی جیولری، کوئی سیلون کے وقت لے رہی تھی۔سمیرا بھی کچھ چاہتی تھی۔۔۔ بہت کچھ۔اس نے امی سے ہلکی آواز میں کہا ۔ امی ۔۔۔مجھے اس بار ایک اچھا سا لباس چاہیے تھا۔امی نے چولہے سے نظریں ہٹائے بغیر کہابیٹا ! ابو کی تنخواہ ابھی آئی نہیں پھر کبھی لے لیں گے۔”پھر کبھی”یہ لفظ سمیرا نے اپنی زندگی میں بہت بار سنا تھا۔وہ خاموش ہو گئی۔رات کو جب گھر سو جاتا سمیرا کی اصل دنیا جاگتی۔وہ اپنے چھوٹے سے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کرتی اور خود کو ایک خوبصورت ہال میں دیکھتی جہاں وہ مہنگا لباس پہنے، سب کے درمیان مسکرا رہی ہوتی۔وہ خود کو ان جگہوں پر دیکھتی جہاں وہ کبھی نہیں جا سکی۔وہ خود کو اُن چیزوں کے ساتھ دیکھتی جو اس نے کبھی خرید نہیں سکیں۔اس کی خواہشیں حقیقت میں نہیں تھیں ۔وہ صرف خوابوں میں مکمل ہوتی تھیں اور خواب ۔۔۔خواب تو کسی سے پیسے نہیں مانگتے۔وقت گزرتا گیا۔ ابو کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ گھر کے اخراجات بڑھ گئے۔ سمیرا نے اپنی خواہشات کو مزید اندر دفن کرنا شروع کر دیا۔ایک دن اس نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا تاکہ ٹیوشن پڑھا سکے اور گھر کا سہارا بن سکے۔اس دن اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو دیر تک دیکھتی رہی۔وہ لڑکی کہیں کھو گئی تھی جس کے خواب بڑے تھے اب وہاں صرف ذمہ داریاں تھیں۔ایک رات بارش ہو رہی تھی۔ چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ سمیرا کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سوچاشاید مڈل کلاس لڑکیوں کے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے وہ صرف راتوں میں سانس لیتے ہیں اور صبح حقیقت انہیں دوبارہ سلا دیتی ہے۔وہ خاموش رہی۔۔۔ مگر اس کی آنکھوں میں آج بھی وہی خواب زندہ تھے۔بس فرق یہ تھا کہ اب وہ جاگ کر نہیں دیکھتی تھی ۔۔۔وہ انہیں جینے کی ہمت بھی کر چکی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *