دھوپ کنارے

دھوپ کنارے

شام کا وقت تھا۔ سورج اپنی سنہری کرنیں سمیٹ رہا تھا اور محلے کی تنگ گلیوں میں زندگی حسبِ معمول رواں تھی۔ کہیں بچے کھیل رہے تھے، کہیں عورتیں دروازوں پر بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔انیس سالہ ماہ نور اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سمیٹ رہی تھی۔ اس کا تعلق ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تھا۔ والد سرکاری دفتر میں کلرک تھے اور والدہ سلائی کر کے گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹاتی تھیں۔ماہ نور خوبصورت ضرور تھی، مگر اس کی اصل خوبصورتی اس کی سادگی اور نرم مزاجی تھی۔ اس کے خواب بھی عام لڑکیوں جیسے تھے؛ اچھی تعلیم، عزت دار زندگی اور ایسا ساتھی جو اسے سمجھے۔نیچے سے والدہ کی آواز آئی۔”ماہ نور! چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔””آئی امی!”وہ مسکراتے ہوئے سیڑھیاں اتر گئی۔اسے کیا معلوم تھا کہ چند دن بعد اس کی زندگی کا رخ بدلنے والا ہے۔ماہ نور شہر کے ایک کالج میں بی اے کی طالبہ تھی۔ایک دن وہ کالج کی لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی کہ اچانک سامنے والی کرسی پر کسی نے کتاب رکھی۔”معاف کیجیے گا، یہ نشست خالی ہے؟”ماہ نور نے سر اٹھایا۔سامنے ایک لمبا قد، سنجیدہ آنکھوں اور شائستہ لہجے والا نوجوان کھڑا تھا۔”جی، خالی ہے۔”وہ بیٹھ گیا۔اس کا نام احمد تھا۔احمد بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے اور وہ خود شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ابتدا میں دونوں کے درمیان صرف سلام دعا رہی، پھر کتابوں کی باتیں ہونے لگیں۔کچھ ملاقاتیں اور کچھ گفتگوئیں انسانوں کے درمیان عجیب سا تعلق پیدا کر دیتی ہیں۔ایسا ہی کچھ ان دونوں کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔سردیوں کی ایک شام تھی۔کالج سے واپسی پر بارش شروع ہو گئی۔ماہ نور بس اسٹاپ پر کھڑی تھی کہ احمد نے اپنی چھتری اس کی طرف بڑھائی۔”آپ بھیگ جائیں گی۔””اور آپ؟””میں تھوڑا سا بھیگ جاؤں تو کوئی مسئلہ نہیں۔”ماہ نور ہنس دی۔اسی لمحے اس کے دل میں کوئی نرم سا احساس جاگا۔وہ احساس جسے لوگ محبت کہتے ہیں۔محبت اکثر بڑے واقعات سے نہیں، چھوٹی چھوٹی مہربانیوں سے جنم لیتی ہے۔وقت گزرتا گیا۔احمد اور ماہ نور ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے، لیکن دونوں جانتے تھے کہ صرف محبت کافی نہیں ہوتی۔متوسط طبقے کے لوگوں کے خواب اکثر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔احمد نوکری کی تلاش میں تھا۔ماہ نور کے گھر میں بھی مالی مشکلات تھیں۔ایک دن احمد نے کہا”میں تمہارے لیے محل نہیں بنا سکتا، لیکن ایک ایسا گھر ضرور بنا سکتا ہوں جہاں عزت، محبت اور سکون ہو۔”ماہ نور کی آنکھیں نم ہو گئیں۔”مجھے محل نہیں چاہیے احمد، مجھے صرف سچا ساتھ چاہیے۔”قسمت ہمیشہ آسان راستے نہیں دیتی۔احمد کو نوکری کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔رخصت ہوتے وقت دونوں خاموش تھے۔کچھ جدائیاں شور نہیں کرتیں، صرف دل کے اندر درد چھوڑ جاتی ہیں۔مہینوں تک فون پر باتیں ہوتی رہیں۔کبھی امید بڑھتی، کبھی حالات مایوس کرتے۔مگر محبت قائم رہی۔دو سال بعد احمد کو اچھی ملازمت مل گئی۔اس نے اپنے والدین کے ساتھ ماہ نور کے گھر رشتہ بھیج دیا۔ماہ نور کے والد نے خاموشی سے احمد کو دیکھا۔”بیٹا، ہمارے پاس دولت نہیں، صرف بیٹی ہے۔”احمد نے احترام سے جواب دیا۔”چچا جان، مجھے بھی دولت نہیں چاہیے، صرف آپ کی بیٹی کا ساتھ چاہیے۔”اس دن ماہ نور کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔نکاح کے بعد جب دونوں اپنے چھوٹے سے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں نہ قیمتی فرنیچر تھا، نہ شان و شوکت۔صرف چند ضروری چیزیں اور بے شمار خواب تھے۔ماہ نور نے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے کہا:”احمد، کیا ہم واقعی خوش رہیں گے؟”احمد مسکرایا۔”اگر محبت سچی ہو تو خوشی محلوں میں نہیں، دلوں میں ملتی ہے۔”کھڑکی سے آتی دھوپ ان دونوں کے چہروں پر بکھر گئی۔اور یوں دو متوسط طبقے کے خواب دیکھنے والے لوگ زندگی کے سفر پر ساتھ چل پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *