ارزشِ ذات

ارزشِ ذات

بارش کی ہلکی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر دستک دے رہی تھیں۔ کمرے کے ایک کونے میں میز پر چائے

کا کپ ٹھنڈا ہو چکا تھا مگر مریم کی آنکھوں میں ابھی بھی ایک انجانا سا انتظار تھا ۔ موبائل اسکرین پر بار بار نظریں جما دیتی۔ شاید کوئی پیغام آ جائے ۔ شاید کسی کو اس کی یاد آ جائے۔۔شاید وہ ایک بار پوچھ لے “کیسی ہو؟”
مگر زندگی ہمیشہ شایدوں پر نہیں چلتی۔
مریم ایک مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی تھی۔ خواب دیکھنا اس کی عادت تھی اور خواب ٹوٹ جانا قسمت۔ اس نے اپنی دنیا بہت چھوٹی رکھی تھی ۔ چند کتابیں، ماں کی دعائیں، اور ایک شخص جسے اس نے اپنی زندگی کا محور بنا لیا تھا۔
وہ ارمان کی پسند کے کپڑے پہنتی ۔ اس کی پسند کے رنگ اپناتی حتیٰ کہ اپنی رائے بھی اس کی خوشی کے تابع کر دی تھی۔ اگر ارمان ہنس دیتا تو مریم کا دن سنور جاتا اور اگر وہ ناراض ہو جاتا تو مریم رات بھر جاگتی رہتی۔محبت اسے عبادت لگتی تھی، مگر وہ یہ بھول گئی تھی کہ عبادت میں خود کو مٹایا نہیں جاتا۔ عبادت تو پا لینے کا نام ہے ۔
ایک دن مریم کی ماں نے اسے خاموش بیٹھے دیکھا۔
بیٹا ! کیا ہوا
کچھ نہیں امی۔۔۔ اس نے زبردستی مسکراہٹ اوڑھ لی۔ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“انسان جب کسی کو اپنی دنیا بنا لیتا ہے نا تو اپنی ذات کا آسمان چھوٹا کر لیتا ہے۔”
مریم نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا مگر خاموش رہی۔چند دن بعد ارمان کا پیغام آیا۔
“تم بہت حساس ہو مجھے اتنی پابندی پسند نہیں۔۔۔ مجھے اپنی زندگی چاہیے۔”
صرف ایک جملہ۔۔۔اور مریم کو یوں لگا جیسے برسوں کی محبت کسی نے ایک لمحے میں مٹی کے برتن کی طرح زمین پر گرا دی ہو۔وہ رات اس نے بہت رو کر گزاری۔ بار بار ایک ہی سوال اس کے دل میں اٹھتا۔میں نے آخر کمی کیا رکھی تھی؟مگر جواب کہیں نہیں تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ مریم نے آہستہ آہستہ اپنے اندر جھانکنا شروع کیا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ ارمان کو خوش کرنے میں خود کو بھول چکی تھی۔ وہ اپنی پسند اپنے خواب، اپنی ہنسی سب کہیں راستے میں چھوڑ آئی تھی۔ایک دن اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال کیا۔کیا میں واقعی اتنی غیر ضروری ہوں کہ کسی کے جانے سے میری پوری دنیا ختم ہو جائے؟
آئینہ خاموش تھامگر اس کی آنکھوں میں جواب اتر آیا تھا۔اس نے خود کو مصروف کر لیا۔ پرانی کتابیں کھولیں۔ اپنی ادھوری خواہشوں کو دوبارہ آواز دی۔ وہی لڑکی جو کبھی کسی کے ایک پیغام پر جیتی تھی اب اپنی مصروفیات میں سانس لینے لگی تھی۔
مہینوں بعد ارمان کا دوبارہ پیغام آیا۔
“تم بدل گئی ہو۔”
مریم نے فون بند کر دیا کیونکہ بعض جواب خاموشی میں زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔
کھڑکی کے باہر پھر بارش ہو رہی تھی مگر آج مریم کی چائے ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔ آج اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔
اس نے ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا۔
“زندگی میں کسی کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے کہ تمہاری اپنی اہمیت ختم ہو جائے کیونکہ جو لوگ خود کو کھو دیتے ہیں وہ اکثر دوسروں کو بھی نہیں پا سکتے۔”
اور شاید یہی زندگی کا سب سے کڑوا مگر سچا سبق تھا۔کسی کو چاہو مگر اپنی ذات کو مٹا کر نہیں کیونکہ انسان کی اپنی اہمیت ختم ہو جائے تو رشتے بھی احترام کھو دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *