سُر، سماج اور ستارہِ امتیازحدیقہ کیانی کا تخلیقی سفر

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

سُر، سماج اور ستارہِ امتیازحدیقہ کیانی کا تخلیقی سفر


کسی بھی معاشرے میں آرٹسٹ صرف وہ نہیں ہوتا جو مائیک کے سامنے کھڑا ہو کر سُر بکھیرے یا کیمرے کے سامنے آ کر اداکاری کرے بلکہ سچا فنکار وہ ہوتا ہے جو اپنے فن کی روشنی سے سماج کے اندھیروں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ حال ہی میں جب گورنر ہاؤس لاہور میں صدرِ پاکستان کی جانب سے مایہ ناز گلوکارہ اور سماجی کارکن حدیقہ کیانی کو ملک کے باوقار سول اعزاز ستارہِ امتیاز سے نوازا گیا تو یہ محض ایک فنکار کی پذیرائی نہیں تھی بلکہ یہ اس نظریے کی جیت تھی کہ فن جب سماجی شعور سے جڑتا ہے تو امر ہو جاتا ہے۔
حدیقہ کیانی کا نام پاکستانی موسیقی کی تاریخ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ نوے کی دہائی میں جب انہوں نے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا تو انہوں نے روایتی انداز سے ہٹ کر پاپ میوزک کو ایک نئی جہت دی۔ راز ،جاناں،بوہے باریاں سے لے کر صوفیانہ کلام اور حالیہ برسوں میں ڈراموں کے او ایس ٹی (OSTs) تک ان کی آواز نے ہر نسل کے دل کو چھوا ہے۔ وہ پاکستان کی ان چند خواتین فنکاروں میں سے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستانی موسیقی عالمی معیار پر پورا اترتی ہے لیکن حدیقہ کیانی کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ان کا سماجی درد ہے۔ فنکار تو بہت سے ہوتے ہیں لیکن جو اپنے عروج کے دور میں گلی کوچوں سیلاب زدہ علاقوں اور بے آسرا لوگوں کے درمیان کھڑا ہو جائے وہی اصل ستارہ ہوتا ہے۔ 2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران انہوں نے جس طرح بڑھ چڑھ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور حالیہ برسوں میں بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے وسیلہِ راہ مہم کے تحت گھروں کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایااس نے انہیں محض ایک سلیبریٹی سے بڑھ کر ایک حقیقی انسانی ہمدرد کے روپ میں سامنے لایا۔
دلچسپ اور تاریخی امر یہ ہے کہ ٹھیک بیس سال قبل حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغہِ امتیاز سے نوازا تھا اور آج بیس سال بعد ان کے سفرِ مسلسل کو ستارہِ امتیاز کی شکل میں ایک نیا اعتراف ملا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حدیقہ کیانی نے اپنے فن اور اپنے مقصد سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلا اپنے فن کو نکھارا اور موسیقی کے ساتھ ساتھ اداکاری (جیسے ڈرامہ رقیب سے) میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
آج کے دور میں جہاں زوالِ آمادہ اقدار اور سستی شہرت کا دور دورہ ہے حدیقہ کیانی جیسے فنکار نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ حکومتِ پاکستان کا یہ فیصلہ بلاشبہ لائقِ تحسین ہے کیونکہ جب ریاست اپنے سچے تخلیق کاروں اور سماجی مصلحین کی قدر کرتی ہے تو معاشرے میں اچھے کام کی ترویج ہوتی ہے۔
حدیقہ کیانی کو ستارہِ امتیاز ملنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ سُر جب سماج کی خدمت کے لیے استعمال ہوں تو ان کی گونج ایوانوں سے لے کر عوام کے دلوں تک سنی جاتی ہے۔ یہ ستارہ ان کے ماتھے پر سجا ہوا ایک ایسا اعزاز ہے جس پر ہر پاکستانی فخر کر سکتا ہے۔
حدیقہ کیانی جیسے بڑے کینوس کے فنکار پر تنقید کو اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو اس کے پیچھے ہمارے معاشرے کے کچھ مخصوص رویے نفسیات اور بعض اوقات معلومات کی کمی نظر آتی ہے۔ کسی بھی عوامی شخصیت پر تنقید ہونا فطری ہے لیکن حدیقہ کیانی کے معاملے میں اس تنقید کے چند اہم پہلو ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے

روایتی پسندی اور تبدیلی کو قبول نہ کرنا

حدیقہ کیانی نے اپنے کیریئر کا آغاز نوے کی دہائی میں پاپ میوزک سے کیا۔ اس دور میں ایک خاتون کا ویسٹرن پاپ گانا جدید لباس پہننا اور اسٹیج پر متحرک پرفارمنس دینا ہمارے روایتی معاشرے کے لیے ایک جھٹکا تھا۔ ناقدین نے اکثر ان کے مغربی انداز یا بولڈ امیج پر تنقید کی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ فنکار کا کام نئے راستے بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے روایتی حدود میں رہتے ہوئے پاپ میوزک کو جو جدت دی وہ وقت کے ساتھ ساتھ قبول کر لی گئی۔

اداکاری کے سفر پر ابتدائی اعتراضات

جب انہوں نے عمر کے ایک خاص حصے میں آ کر ڈرامہ رقیب سے کے ذریعے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید اب ان کا عروج ختم ہو رہا ہے اس لیے وہ سکرین پر آ رہی ہیں۔ لیکن انہوں نے سکینہ کے روپ میں ایسی لازوال اداکاری کی کہ ناقدین کو اپنے الفاظ واپس لینا پڑے۔ تنقید کرنے والے اکثر فنکار کو ایک ہی دائرے (صرف مائیک کے سامنے) تک محدود دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ایک سچا تخلیق کار کسی بھی میڈیم میں خود کو منوا سکتا ہے۔

سماجی کاموں کو پبلسٹی سٹنٹ سمجھنا

جب بھی کوئی بڑی سلیبریٹی سیلاب زدہ علاقوں میں جاتی ہے یا فلاحی کام کرتی ہے تو تنقید کرنے والوں کا ایک مخصوص طبقہ اسے فوٹو شوٹ یا سستی شہرت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ حدیقہ کیانی کو بھی بلوچستان اور دیگر علاقوں میں کام کے دوران ایسی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کے ناقدین یہ بھول جاتے ہیں کہ جو شخص برسوں سے وسیلہِ راہ جیسے منصوبوں کے تحت خاموشی سے سینکڑوں گھر بنوا رہا ہو اس کا خلوص کسی سرٹیفکیٹ کا محتاج نہیں ہوتا۔ سلیبریٹی کا فلاحی کاموں کو سامنے لانا دراصل دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے ہوتا ہے۔

عمر اور ذاتی زندگی پر فیصلے سنانا

ہمارے ہاں بدقسمتی سے خواتین فنکاروں کی عمر ان کے لباس یا ان کی ذاتی زندگی کے فیصلوں پر سوشل میڈیا پر شدید اور بعض اوقات غیر اخلاقی تنقید کی جاتی ہے۔ حدیقہ کیانی بھی اس لہر سے محفوظ نہیں رہیں لیکن ان کی سب سے بڑی طاقت یہ رہی ہے کہ انہوں نے کبھی اس منفی ماحول کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ ہمیشہ باوقار انداز میں خاموش رہیں اور اپنی تمام تر توانائی اپنے کام پر مرکوز رکھی۔
تنقید کرنے والے اکثر عارضی اور سطحی چیزوں کو دیکھتے ہیں جب کہ تاریخ فنکار کے مجموعی اثر (Impact) کو یاد رکھتی ہے۔ حدیقہ کیانی پر ہونے والی تنقید وقت کے دھارے میں بہہ گئی لیکن ان کے گائے ہوئے سُر ان کی جاندار اداکاری اور سیلاب زدگان کے چہروں پر لائی ہوئی مسکراہٹیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔ ستارہِ امتیاز کا ملنا ان ناقدین کے لیے ایک خاموش لیکن ٹھوس جواب ہے کہ ریاست اور عوام ان کی خدمات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *